تعلیمچترالیوں کی کامیابیکالم نگار

آج تک ان کی محبت سے بھر پور الفاظ کی ڈھارس شامل ہے۔ استاد تجھے سلام

شمس الحق قمر

میری ڈائری کے اوراق سے

 

آج اساتذہ کو سلام پیش کرنے کا دن ہے اور میں ماضی کے جھروکوں سے اپنی زندگی کے اُن نازک اور پُر پیچ راستوں کو دیکھ رہا ہوں کہ جہاں سے محفوظ گزرنے میں ہمارے اساتذہ کی شاندار راہمنائی کا کلیدی کردار ہمیشہ ساتھ رہا ۔ پیش تر کہ میں اساتذہ کا ذکر کروں میں اپنی قابلیت کا مختصر قصہ ضروری سمجھتا ہوں ۔ سن 1985 میں عربی کے پرچے پرا عراب کی شدید بھرمار کی بدولت میٹرک پاس کہلائے جانے کا استحقاق حاصل ہوا –

میرے میٹرک کے پرچے سے عربی کے 100 میں سے 90 نمبروں کے بے جا حصول کو میرے کُل حاصل شدہ نمبروں سے خدا نخواستہ منفی کیا جائے تو مجھے تھرڈ ڈویشن میٹرک پاس کا اعزاز ضرور حاصل رہے گا – میرے تعلیمی سفر کا لب لباب یہ ہے کہ سکول میں داخلے کی تاریخ اب تک درست نہیں ہو سکی ؟ بہر حال اس گتھی کو سلجھانے کےلئے مجھے ہر حال میں سن1985 سے 10 سال منہا کرنے ہوں گے تو معلوم ہوگا کہ میرے سکول میں داخلے کا سن کونسا تھا ۔ مشکل یہ ہے کہ ابجد جب نکال لیتا ہوں تو میرے سکول میں داخلہ لینے کی عمر 9 سال پر منتج ہوتی ہے ۔ لیکن میرے والد صاحب اور سکول ریکارڈ کے مطابق ہائی سکول بونی میں میرا داخلہ 6 سال کی عمر میں ہوا تھا جوکہ 1972 بنتا ہے ۔ 72 میں اگر داخلہ ہوا تھا تومجھے میٹرک کرنے میں 10 سال کے بجائے 13 سال کیوں کر لگے؟ اس پیچدار سوال کا جواب میرے ہم جماعت رحمت اللہ بزاندہ ، محمدی پرسنک، بودین پرسنک، حیدر شکراندہ ، دلبر اور معراج بونی گول ، اسلم ڑوقاندہ، غلام مصطفی ، شاہ نواز ، سردار ولی تاج ، زکریا بونی ڈوک شمس الدین اویر اور کئی ایک پر منکشف ہے ۔

آج تک اپنے آپ کو اپنے ہم عصروں میں کند ذہنی کا باوائے آدم تصوّر کرتے ہوئے بھی اپنی قابلیت کے بیان میں تشنگی باقی محسوس ہوتی ہے جو کہ سو فیصد درست ہے ۔ مجھےآج کی طرح یاد ہے جب میں جماعت پنچم میں تھا تو میرے والد صاحب نے اپنے دوست افضل استاد ( چرون )کو میرے لیے حساب کا ٹیوٹر مقرر کیا تھا ایک ایسا ٹیوٹر جو گھنٹوں مغز ماری بھی کرے اور اُجرت بھی نہ لے وہ افضل استاد ہی ہو سکتے تھے ۔ موصوف والد صاحب کے دوست اورننھیال کی طرف سے میرے ماموں ہیں ۔ آپ اپنے دور کے ریاضی کے نامور استادوں میں شمار ہوتے تھے ۔ موصوف تقسیم کے باب میں پانچ دنوں تک مسلسل عرق ریزی سے مجھے پڑھانے کے بعد پُر امید تھے کہ اب اُن کی محنت ضروررنگ لائے گی ۔ اُنہوں نے تقسیم کے ایک سوال سے میرا امتحان لیا ۔ سوال ( 4/2) کا تھا ۔ یعنی چار چیزوں کو دو میں تقسیم کرنا۔ میں نے بہت سوچ بچار کے بعد 6 جواب لایا جو کہ میرے حساب سے بالکل درست جواب تھا ۔ میرا جواب سن کر سر کو کوئی حیرت نہ ہوئی اور نہ ہی اُسے غصہ آیا – یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے مجھے مزید پیار سے سمجھانے کی کوشش کی کیوں کہ وہ استاد تھے اور اُنہیں سکھانے کا گر آتاتھالہذا موصوف نے عملی طور پر مجھے سمجھانے کی حکمت عملی اختیار کی اور سامنے رکھی لکڑی کی چار بوسیدہ کرسیوں کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا ” دیکھو ، وہ چار کرسیاں ہیں اور ہم دو لوگ ہیں اگر اُن چار کرسیوں کو ہم دو میں برابر برابر تقسیم کیا جائے تو آپ کو اور مجھے کتنی کرسیاں ملیں گی ؟ ” گویا اُس نے رائی کاپہاڑ میرے کمزور شانوں پر گرادیا یہ تو میرے لیے پہلی والی تھیوری سے بھی زیادہ تکلیف دہ سوال تھا ۔ کیوں کہ یہاں تو سوال کو عملی طور پر حل کرنا تھا ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا ، لیکن میں اپنے پہلے والے جواب پر تا حا ل ثابت قدم رہتے ہوئے دوبارہ 6 جواب نکالا ۔

سر افصل کیوں کہ ایک اعلیٰ اپنے کام میں یکتا پیشہ تھے لہذا انہوں نے سب چھوڑ چھاڑ کے گھریلو اور نجی گفتگو شروع کی اور بیچ میں میرے گھر ہستی کی تمام سرگرمیوں کی دل کھول کر تعریف کی ۔ مجھ میں حوصلہ پیدا ہوتے دیکھا تو مجھے اس بات کا مزید حوصلہ دیکر کہ میں پڑھائی میں بھی اچھا ہوں البتہ تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے جبکہ دوسرے طلبہ کے ساتھ بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے ، دوبارہ سوال کی طرف آئے ۔ ہم سوال کی طرف دوبارہ آ ہی رہے تھے کہ والد صاحب در آئے اورسر افضل سے پوچھے” لڑکا کیسا جا رہا ہے ؟ ” اُن کا یہ سوال میرے لیے قیامت سے کم نہ تھا ۔ اب زرا ایک اچھے ٹیچر کا جواب سنیئے ، بولے ” ماشا اللہ بہت تیز بچہ ہے بس تھوڑی سی محنت کرے تو ہم جماعتوں سےسبقت پا لے گا ۔” آج تک اُن کےمحبت سے بھر پور الفاظ کی ڈھارس شامل حال ہے ۔ انہوں نے بہت نزاکت سے کام لیا تھا کیوں میرا پورا مستقبل اُن کے پیش نظر تھا ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔ لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا ۔  

میری زندگی میں ایسے کئی ایک شیشہ گروں کا ساحرانہ کردار رہا ہے کہ جنہوں نے بڑی نزاکت سے مجھے ایک سانچے میں ڈھالا ۔ آج چونکہ اساتذہ کا دن ہے ۔ میں ایک استاد کو ایک سے جدا کر کے قطعی طور پر نہیں دیکھ سکتا یہ صرف سر افضل کی کہانی نہیں بلکہ تمام اساتذہ کی ہے کیوں کہ تمام نے اپنی بساط کے مطابق سر افصل جیسی محبتوں سے نوازا ہے ۔ہمیں ہمارے زمانے کے بہت سارے اساتذہ کے نام معلوم نہیں کیوں کہ اُس زمانے میں کسی استاد کو نام سے پکارنا معیوب سمجھا جاتا تھا لہذا ہم اکثر اُن کے علاقوں کی نسبت سے اُنہیں یاد کرتے تھے ۔ میں شروع سے لیکر آخر تک بہت شریر طالب علم رہاں ہوں لیکن آپ کی محبتوں کی طفیل میں معاشرے کا ایک اچھا انسان اور ملک کا ایک پرامن شہری ہوں ۔ آج میں اپنی زندگی اور اپنی اولاد کی زندگی کو آپ ہی کی مرہونِ منت سمجھتا ہوں ۔ میرے قابل صد تحسین اساتذہ کرام ! میں آپ کا نام لیکر آپ کو دل سے تحسین و سلام پیش کرتا ہوں :۔

سکول کے اساتذہ

کالج کے اساتذہ

یونیورسٹی ( شعبہ اُردو )

 ڈوکو قاضی استاد ( ہمیں کلمہ پڑھایا ۔ )

سر،کوشٹو شاجی استاد ( قران و اسلامیات پڑھاتے تھے )

سر،لوٹ اویرو استاد ۔ ( محمد حسین ) جو ہمیں عربی پڑھاتے تھے 

سر،ویمیژدیک استاد ( اُردو پڑھاتے تھے )

سر،زارو استاد ( محترم جاید اُجنو کے والد محترم قاعدہ پڑھایا ۔( ” ایڑ” اسکی ۔ ” ٹخنا” ڈانگ کوڑ)

سر،قیوم استاد ( شاگرام کی اُردو کی گردانیں اب بھی یاد ہیں )

سر،شکراند ہ استاد ( بونی۔ پرائمری میں ریاضی پڑھائی)

سر،میرزہ استاد ( بونی ۔ پرائمری اسلامیات اور اردو )

سر، یحیٰ ( کوراغ ۔ سائنس ٹیچر )

سر،بلور استاد ( ذئیت۔ پرائمری میں ریاضی اور اردو )

سر، جلال الدین ( موردیر : چھٹی جماعت میں ریاضی کے استاد تھے )

سر، سعید استاد ( ورکوپ ایک مثالی استاد رہے ۔ انسانیت کا درس دیتے رہے )

سر ، کوشمی استاد( وزیر کوشوم ۔ جماعت نہم میں ریاضی کے استاد تھے )

سر،محمد فراز استاد ( وریجون ۔ پرائمری میں اردو اور اسلامیات )

سر،ڈرل استاد ( علی شیر خان ۔ نظم و ضبط سکھایا )

سر،گلاب استاد ( آوی۔ اُردو پڑھاتے تھے 

سر عبد الرحمان ( وریجوں ۔ انگریزی کے بڑے استاد رہے )

سر،ابولحکم ( کوراغ۔ آپ سے انگریزی اور اُردو ادب سیکھا )

سر،میرزہ علی ( بونی گول۔ انگریزی پڑھاتے تھے )

سر،الیاس استاد ( سلطان علی بونی گول۔ ڈارئنگ اور ریاضی)

سر،امیر علی استاد ( بونی گول ۔ انگریزی کے ٹینس پڑھاتے رہے)

سر،افصل استاد ( تورکہو۔ جنرل ٹیچر)

سر، علی اکبر ( ہیڈ ماسٹر۔ صبح کی اسمبلی کی تقاریر یاد ہیں )

سر ،شیر ولی خان ( ہیڈ ماسٹر ۔ بے مثال ناظم رہے )

سر ،رحمان فدا ( چرویالاندہ – حساب کے ماہر تھے )

سر ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ( اُردو ادب )

سر مسعود ( تورکہو ۔ سویکس )

سر ہدایت الاسلام ( مطالعہ پاکستان)

سر ، توفیق جان ( بے مثال وارڈن رہے )

سر، سمیع الدین ( اسلامیات )

سر، جمیل الدین( اُرد و پڑھاتے رہے )

سر، غلام حبیب ( نظم و ضبط کے استاد تھے)

سر،قلندر بیگ( ہاسٹل وارڈن رہے )

سر، رحمت کریم بیگ ( انگریزی کے استاد )

سر، نسب حسین ( لوٹ کوہ سے- اسلامیات سیکھی)

سر ، اسماعیل ولی اخگر( انگریزی کے بے مثال استاد) 

سر، عبد القیوم ( بونی) جنہوں نے چھٹیوں کے دوران ہمیں مفت ٹویشن پڑھایا اور دل سے پڑھایا ۔

سر، ظہیر الدین ( دوکاندہ) چھٹیوںپر آتے اور ہمیں مفت ٹویشن پڑھایا کرتے 

سر ، سہراب الدین ( میرے چچا ، گھر میں پڑھاتے تھے )

میڈم وحیدہ غفور 

سر ، نذیر تبسم 

سر، فقیرا خان فقری 

میڈم ، منور رؤف 

اللہ آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

Back to top button