تعلیمثقافتچترالیوں کی کامیابیسفر کہانیلٹکوہ

امریکہ میں چترال کے دو سفیروں سے ملاقات کی مختصرسرگزشت ( دوسری قسط)

میری ڈائری کے اوراق سے

شمس الحق قمر

 اس خاکے کی پہلی قسط میں ہم امریکہ میمفس میں مقیم چترال کی دو اہم شخصیات ، روزیمن شاہ اور نگہت شاہ سے ایک ملاقات کا ذکر کر رہے تھے ۔ ہم اُن کے دفتر میں بیٹھ کر دوپہر ڈھلنے تک محوِ گفتگو رہے اور پھر ہم اُن کے دولت کدے پر اُن کے مہمان بنے ۔ ہم جب اُن کے مہمان بنے تو ہمارا مشاہدہ کیسا رہا ، ہم اس پر اس مضموں کے آخر میں بات کریں گے کیوں کہ اِس وقت میرے ذہن کا درواز ہ ہماری پچھلی نشست کی طرف وا ہے ۔ یاد رہے کہ ہم ان سے انٹر ویو نہیں بلکہ غیر رسمی گفتگو سے بہت کچھ سیکھنا چاہتے تھے ۔اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ روزیمن اور اُن کی اہلیہ نگہت شاہ کے ساتھ نشست سے آپ نے کیا سیکھا ؟ تو میرا جواب بہت ہو مختصر ہوگا : اگر دنیا میں کوئی اپنی اوقات میں رہ کر زندگی سے لطف اُٹھانا چاہتا ہے تو وہ ان دونوں کے سامنے زانوئے ادب تَہ کر لے ۔ اِنہوں نے کل زندگی کے جن کٹھن راستوں سے رخت سفر باندھا تھا آج بھی پلٹ کر اُنہی نا ہمواریوں کو نظر ِ کرم سے دیکھتے ہیں ۔

روزیمن اور اُن کی اہلیہ نگہت شاہ میں ایک خوبی مشترک ہے جو کہ اولیأ کی میراث میں سے ایک ہے ہر آمائش کے ساتھ اللہ کا شکر ، قناعت پسندی اور گفتگو و نشست وبرخواست میں بے حد سادگی ۔ روزیمن شاہ کے گاؤں میں موغ میں پڑھنے کا رواج اچھا نہیں تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس زمین نے ڈاکٹر بیض خان ، مشہور ماہر تعلیم صمد گا ، سلامت شاہ اور روزیمن شاہ جیسی شخصیات کی آبیاری کی ۔ موغ میں ایک پرائمری سکول تھا اور اُسی پرائمری سکول کا ایک ہی استاد علی رحمت نام کا ہوا کرتا تھا جو پورے سکول کو پڑھاتا ۔ یہاں کے لوگوں کی معیشت کا سب سے بڑا ذریعہ مویشی پالنا اور اُن کے دودھ ، گوشت اور اُون سے زندگی کی گاڑی چلانا تھا ۔ یاد رہے کہ موغ کی بنی اونی پٹی دنیا میں مشہور اونی پٹی سمجھی جاتی ہے ۔ متموّل خاندانوں میں بیسیوں بھیڑ بکریاں ہوتی تھیں ۔ ان مویشیوں کو چرانا اُس زمانے کے بڑے کاموں میں شمار ہوتا تھا ۔ روزیمن کے یہاں بھی بھیڑ بکریاں پالنے کا رواج تھا یوں روزیمن کے بڑے بھائی نے سکول کو خیرباد کہہ کر اپنے شوق سے بھیڑ بکریاں چرانا شروع کیا تھا ۔ روزیمن جب پانچ سال کے تھے تو بھائی نے اُنہیں بھی اپنے ساتھ مویشیاں چرانے لے جانا شروع کیا ۔ اُس زمانے کے تقاضوں کے مطابق یہ کا م چارہ دستوں کا ہوا کرتا تھا ورنہ مویشی پالنا اور اُن کی نگہبانی کرنا آسان کام نہیں تھا۔ اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ بھیڑ بکریاں چرا نے لے جاتے ہوئے ایک دن روزیمن کی نظر سکول جانے والے بچوں پر پڑی ۔ کام سے واپسی پر موصوف نے اپنے والد صاحب سے سکول میں داخل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تو اگلے دن اُن کے والد صاحب نے اُنہیں سر علی رحمت کی بہترین نگرانی میں پرائمری سکول موغ میں داخل کر لیا ۔

لیکن جمعے کو جب چھٹی ہوتی تو اُنہیں بھائی کے ساتھ پہاڑوں پر بکریاں چرانے جانا ہوتا تھا ۔ ایک دن بکریاں چرا کے گھر آیا اور سوچنے لگا کہ آج میں نے زندگی میں کیا نیا سیکھا ؟ اُسے کوئی جواب نہ ملنا تھا سو نہ ملا ۔ لیکن یہ دن اتنا مبارک دن ثابت ہوا کہ اُنہیں اپنی زندگی پر سوچنے کا موقع ملا ۔ البتہ اُس وقت ذہن میں مستقبل کا کوئی واضح خاکہ نہیں تھا لیکن ہر روز نیا سیکھنے کی جستجو ہمیشہ دامن گیر رہتی ۔ پانچویں پاس کرنے کے بعد میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کےلیے موغ سے گرم چشمہ تک ۱۲ کلومیٹر کی مسافت روازنہ طے کرتے ہوئے تعلیم جاری رکھی ۔ یہاں کے اساتذہ میں سر عبدل ، سر صمد گل اور سر امیر محمد قابل ذکر ہیں ۔ روزیمن ریاضی میں اچھے تھے اس لیے سرامیر محمد کے پڑھانے کا انداز اِنہیں بہت بھاتا تھا۔ خوراک میں جَو کی روٹی کا ناشتہ اور پوشاک میں ایک جوڑا ملیشیا شلوار قمض اور پاؤں میں پلاسٹک کے پیوند زدہ جوتے ۔ روکھی سوکھی جو بھی ملی قناعت کی اور شکر کے ساتھ کھایا ۔ روزیمن اپنی ایک عادت کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہیں وہ یہ کہ ہر حال میں خوش رہنا اور اپنے آپ کو حالات کے مطابق بنانا۔ جو ملا اُسی پر اکتفا کیا اور زندگی کے ہر رنگ سے لطف اُٹھاتے رہے ۔ میڑک میں کوئی امتیازی نمبر نہیں آئے لیکن انہوں نے دل میں سوچا کہ سکول میں پڑھائے جانے والے مضامین اور ان سے متعلق پوچھے جانے والے سوالات اور اُن میں اچھے نمبر لا نے کے علاوہ بھی زندگی کے کئی ایک زاویے ایسے ہیں جن میں مجھے ملکہ حاصل ہے لہذا میں اہم آدمی ہوں ۔ بہر حال میٹرک پاس کرنے کے بعد والد کی طرف سے مبلع ایک ہزار رائج الوقت پاکستانی روپے کی زاد راہ لیکر مزید تعلیم اور تالاش معاش میں کراچی نکلے ۔ اچھا ہوا کہ یہاں اسلامیہ کالج میں داخلہ ملا اور ڈاکٹر پرویز نام کے ایک ڈاکٹر کے یہاں مبلع ۴۰۰ روپے ڈسپنسر کے طور پر ملازمت بھی ملی یہ وہ زمانہ تھا جب روزیمن وقت کے تھپیڑوں سے نبرد آزما تھے ۔ یہی ملازمت اگلے چاروں سالوں تک جاری رہی اور یوں اسلامیہ کالج سے گریجویشن اور اُردو کالج سے سیاسیات میں ماسٹرز بھی ہوگئی ۔ اُس زمانے میں یہی چار سو روپے مانہ آمدن اور بہت سارے اور طلبہ کی کفالت کی ذمہ روزیمن کے شانوں پر تھی۔ یوں زندگی کا کارواں چلتا رہا۔ اُسی دوران بڑے بھائی سلامت شاہ لندن میں زیر تعلیم تھے اُنہوں نے روزیمن کےلیے انگلستان کے ویزا کےلیے کوشش کی مگر وہ نہیں ہوسکا تو ّ موصوف نے ڈاکٹر پرویز کی کلینک میں کام کے ساتھ ساتھ پی سی ہوٹل میں بھی کام شروع کیا تاکہ چترال سے کراچی میں نو وارد طلبہ کی کفالت آسانی سے ہو سکے ۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اُنہیں ملازمت سے کوئی شغف نہیں تھا البتہ وقتی طور پر ذریعہ معاش کے طور پر ملازمت کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں تھا ۔ اُس دوران بہت سارے ایسے لوگوں کو دیکھ کر جو کہ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد کاروبار کرتے تھے ، اُنہوں نے سوچا کہ جو ملازمت میں اِس وقت کر رہا ہوں ہو سکتا ہے کہ اس سے کچھ بہتر ملازمت ملے گی لیکن زندگی کی آخری عمر اگر کاروبار پر ہی منتج ہونی ہے تو کیوں نہ آج سے کاروبار شروع کیا جائے ۔ ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ دوسروں کی ملازمت کرکے اور اُن کے احسان کے بوجھ تلے مرتے دم تک زندگی گزارنے سے کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ کچھ مدت کے لیے سخت کوشی کی جائے اور آنے والی زندگی کے دنوں کوآسان اورسہل بنا دیا جائے ۔ کراچی میں قیام کی بڑی سبق آموز کہا نیاں ہیں ۔ آپ نے قلیل آمدن سے اپنی مالی استعداد کے مطابق اہل و عیال کی کیسی اعانت کی اور پھر کینڈا اور امریکہ کے سفر میں کن مشکالات سے گزرے ،پانچ روپے کے کھانے میں کس طرح دو روپے کی بچت کی ، آجکل کیا مضروفیات ہیں اور لوگوں کی کس انداز سے مدد کرتے ہیں یہ سب کہانیاں ہم تیسری قسط میں آپ کے ساتھ بانٹیں گے ۔

Back to top button