کالم نگار

قافلے رکتے نہیں

محمد جاوید حیات

 

دنیا میں انسان کی زندگی لمحوں کا سلسلہ ہے خواہ لمحےسالوں پہ محیط ہی کیوں نہ ہوں۔لمحے کٹتے ہیں زندگی آہستہ آہستہ ختم ہوتی ہے انسان یہ وقفہ جسے عمر کہتے ہیں گزارتا ہے پھرنظر سے غایب ہوجاتا ہے ۔
زندگی وماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
دنیا میں انسان کو کیسی زندگی عطا ہوتی ہے یہ زندگی دینے والے کے ہاتھ میں ہے کیونکہ آزمائش کرنا اس کی سنت ہے ۔کوئی بادشاہ ہے امیر وزیر ہے یہ الگ ایک قافلہ ہے ساری انسانیت ایسی نہیں ۔ان کے پاس محل ہوتے ہیں ان محلوں کے اندر ہرخواہش پورا کرنے کے مواقع اور سامان ہوتے ہیں ۔ان میں رہنے والے گرمی سردی بھوک پیاس خالی جیب بیماری وغیرہ کا تجربہ نہیں رکھتے سامان زندگی جو وہ چاہیں میسر ہوتے ہیں ۔وہ کھانے میں تنوع پسند ،پہنے میں جدت پسند اور رہنے میں مقابلہ پسند ہوتے ہیں ۔وہ خواہش کے پجاری رنگ، رنگیلیوں کے دلدادا اور نمود و نمائش کے چمپین ہوتے ہیں ۔ان کے بچوں کے ہزار نخرے، خواتین کی رغونتیں اور مردوں کے گھمنڈ دیدنی ہوتے ہیں ۔وہ کسی بھی آسائش کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرتے اپنی قابلیت یا کمال تصور کرتے ہیں ۔یہ ایک قافلہ ہے یہ روان دواں ہے ایک نسل ختم ہوتی ہے دوسری آتی ہے بڑے چھوٹوں کی آنکھوں کے سامنے سراپا عبرت ہوتے ہیں لیکن بڑوں پہ جو گزرتا ہے چھوٹوں کو احساس نہیں ہوتا بڑے دنیا سے جاتے جاتے بے بس افسردہ اور پیشمان ہوکر جاتے ہیں یا تو ان کو بیماری ستاتی ہے یا تنہایاں افسردگیاں ستاتی ہیں کئ کے خاندان ان کی آنکھوں کے سامنے لنڈ منڈ جاتے ہیں وہ اپنا زوال اپنی آنکھوں سے ملاحذہ کرکے جاتے ہیں ۔ یہ قافلہ رکتا نہیں۔زندگی سے سبق حاصل نہیں کرتا ۔آگے روان دوان ہے ۔ایک قافلہ ان کا ہے جن کو اللہ نے جسمانی طاقت اور صلاحیت دی ہے ان کو اس پہ گھمنڈ یے وہ لوگوں کو ڈرا تے دھمکاتے ہیں بچھاڑتے ہیں اس پہ فخر کرتے ہیں معاشرے میں ان کے چیلے ان کی تعریفیں کرکے مذید ان کو بگاڑتے ہیں وہ چور اچکے ،ڈاکو غنڈے ، دہشت کے نشان اور پہلے قافلے کے آلہ کار ہوتے ہیں ان کے ذریعے "راہوں سے ہٹانے ” کا کام کیا جاتا ہے ۔لیکن ان کی جسمانی طاقت ایک دن ختم ہوجاتی ہے وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہوجاتے ہیں وہ سکرین سے غائب ہوتے ہیں لیکن یہ سلسلہ رکتا نہیں نیا قافلہ آتا ہے ۔ایک قافلہ ان کا ہوتا ہے جن کو اللہ حسن و جمال سے نوازتا ہے وہ اس پہ نازان ہوتے ہیں لوگوں کو اس سحر میں کو فتح کر لیتے ہیں اس نشے میں مست ہوتے ہیں اپنے آپ کو” اعلی "سمجھنے لگتے ہیں لیکن زندگی ایک دن ان کو شکست دیتی ہے ۔ایک قافلہ ان مجبوروں کا ہوتا ہے جو خالی ہاتھ دنیامیں آتے ہیں وہ زندگی کے ہاتھوں اتنے مجبور ہوتے ہیں کہ جینے کو محال سمجھتے ہیں ۔وہ حیران و پریشان ہوتے ہیں دن کاٹتے ہیں موت کو آواز دیتے ہیں زندگی سے شکوہ کنان ہوتے ہیں ۔دھائی دیتے ہیں ۔
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
قافلوں کی اور بھی قسمیں ہیں
ہم بھی ان میں سے کسی نہ کسی قافلے میں شامل ہیں ہماری زندگیاں ان میں سے کسی نہ کسی کے انداز کی ہیں ۔لیکن جس طرح انہوں نے اس زندگی کے انجام کو نہیں سوچا اور نہ سوچنے کی زحمت کرتے ہیں ہم بھی اسی طرح ہیں جس طرح وہ ہمارے ارد گرد حیران و پریشان ہیں اسی طرح ہم بھی بے سکون ہیں۔زندگی گزارنے کا گر کسی قافلے کے حصے میں نہیں آتا حالانکہ یہ گر اسان سادہ اور واضح ہے بس اس بات پہ یقین کرنا کہ پیدا کرنےوالا، دولت شہرت دینے والا، عزت عظمت دینےوالا اور صلاحیت دینے والا اللہ ہے وہ دے سکتا ہے وہ لے بھی سکتا ہے۔جو ہم سے کمتر، کہتر، بے صلاحیت اور مجبور ہے وہ تنہا نہیں اس کا اللہ زبردست مہربان اور علیم و خبیر خدا موجود ہے اس کے سامنے سب زبردستوں کی زبردستیاں شکست کھاتی ہیں ۔دوسرا بس یہ سوچنا ہے کہ اللہ کی زات کے سوا سب کو فنا ہے ۔کوئی بھی حالت ایک جیسی نہیں رہتی ۔یہ قافلے جو رواں دواں ہیں اسی طرح رواں دواں ہی رہیں گے رکیں گے نہیں ۔بس انسان کی تعریف ہمیں آجائے ۔
یعنی وہ مخلوق جس کے پاس درد دل ہے ۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ کروبیان
اگر درد دل کا یہ احساس زندہ ہو تو قافلے آرام سے گزریں گے۔کسی کوافسردگی نہیں ہوگی کسی کو تنہائی کا احساس نہیں ہوگا محرومی اور شکستگی نہیں تڑپایے گی ۔آخری وقت میں بیٹا سرہانے کھڑے تسلی دےگا ۔غریب جس پر یہ عارضی دولت خرچ کی گئی یے رورو کر دعایں دے گا ۔انسانیت جس کی فلاح کے لیے کام لیا گیا ہو افرین کہے گی ۔مظلوم جس کی دادرسی کی گئی ہو اللہ کے حضور گڑ گڑا کر مغفرت کی التجا کرے گا ۔وہ آفسردہ چہرے جن پر مسرت بکھیری گئی تھی آخری وقت یہ مسرت تمہیں لٹا دیں گے ۔وہ بے سہارے جن کا سہارا بنا تھا آپ کے سہارے بنا دیے جائنگے ۔انسانیت کے محسن صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی پیام لایے تھے۔قافلے کا کوئی فرد اس وقت مر کر بھی زندہ رہتا ہے جس نے اپنے پیچھے زندگی چھو ڑ کر گیا ہو امن محبت خدمت چھوڑ کر گیاہو اگر اس کے بجایے موت دہشت اور نفرت چھوڑ کے گیا ہو تو فنا ہوتا ہے ۔ ۔۔۔البتہ قافلے رکیں گے نہیں ۔۔قافلے والے قافلے سے جدا ہوتے جائینگے
قافلے رفتند ما ہم می رویم
برائی یک چند روز این ہم۔بس است۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button