کالم نگار

پتھر کا معاشرہ

محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان

میں ایک شاگرد کے ابو کے جنازے میں شریک تھا لوگ جنازہ اٹھایے قبرستان کی طرف جا رہے تھے شاگرد جو ساتویں میں پڑھتا تھا ابو کی جدائی کے غم سے نڈھال تھا زارو قطار رو رہا تھا اپنے ابو کے جنازے کے ساتھ جا رہا تھا ۔کچھ نرم دل لوگ اس کو دیکھ کر افسوس کر رہے تھے ابھی تک یہ چہرہ میرے لیے اجنبی تھا بے شک یہ بچہ میرے سکول میں تھا لیکن میری اس کے ساتھ کوئی کلاس نہیں تھی اس لیے اس کو پہچاننے سے عاری تھا اب یہ بچہ مجھے تڑپا گیا تھا میں کرچی کرچی ہوگیا تھا ۔وہ کچھ دن بعد سکول آیے میں نے اس کے چہرے پر باپ سے محرومی کا اثر ضرور دیکھا اور وہ تشنگی بھی کہ اب کون میرے ابو کی کمی مجھے محسوس ہونے نہیں دے گا ۔میں نےاس کے دوست بننے کی بڑی کوشش کی اب وہ میرا دوست ہے اس کی سیاہی مائل صورت میری آنکھوں میں چاند بن کر اترتی ہے اور اس کی افسردگی میرے لیے چیلنچ ہے لیکن پتھر کے معاشرے میں ایک دن اس کے گاوٴں کا استاد مجھ سے پوچھتا ہے کہ یار یہ بچہ کون ہے جس کو تم اتنی اہمیت دیتے ہو ۔میں نے اس کا تعارف کرایا اور کہا کہ دو مہینے پہلے اس بچے کا باپ مرا تو نے اس کو دفنایا اور تمہیں احساس نہیں ہوا کہ اس مردے کے گاوٴں کا ہو ں اس مردےکے بارے میں اس کے یتیم بچوں کے بارے میں پوچھوں معلومات حاصل کروں ان کی خبر گیری کروں۔۔میں نے دور گاؤں کی دو بہنوں کو روتی ہوئی شکوہ کرتی ہوئی دیکھا کہ بھائی ہمارے دو بھائ تھے انہوں نے الگ الگ گھر بنائے باپ کی جائیداد آپس میں تقسیم کیا اب بھابیاں ہم سے نفرت کرتی ہیں ہم کسی بھائی کے گھر بھی نہیں رہ سکتیں ۔ہم کیا کریں ۔میں نےایک ماں کو روتی ہوئی دیکھا کہا کہ بیٹا میں اپنی دونوں بہووں کو ناپسند ہوں اس وجہ سے میرے بیٹے بھی مجھ سے بہت نفرت کرتے ہیں موت آتی نہیں بیٹا زندگی سے بےزار ہو گیا ہوں ۔میں نےعید کے قریب ایک مزدور کو چیختے چلاتے دیکھا کہ ٹھیکہ دار مزدوری نہیں دیتا عید آگئی ہے بچے بلک رہے ہیں میں کیا کروں ۔میں خود پتھر ہو ں میری تنخواہ آتی ہے اس میں سے بہن کا کوئی حصہ نہیں غریب کا کوئی حصہ نہیں ۔رشتہ داروں کا کوئی حصہ نہیں ۔تنخواہ قرض میں اڑ جاتی ہے۔ میں پھر سے تہی دست اور خالی جیب رہتا ہوں مجھے احساس نہیں ہوتا کہ میں نے دوسروں کا حق ادا نہیں کیا اس لیے خود قرضوں تلے دب جاتا ہوں ۔یا اللہ ! خیر سخاوت کوئی نہیں بڑے ظلموں نا انصافیوں عدالتوں میں گپلوں کی بات نہیں کر رہا ہوں معاشرے میں کرپشن محکموں میں اقرباء پروری کی بات نہیں کر رہا ہوں ایک عام انسانی معاشرے کی بات کر رہا ہوں نہیں لگتا کہ یہ انسانوں کا معاشرہ ہے یہاں پہ صلہ رحمی ہمدردی اور محبت کہیں نہیں ہے ییاں پر پیار محبت کہیں نہیں ہے یہاں رشتے ناطے کی قدر کوئی نہیں ہے۔ہم اللہ کی مدد اوررحم و کرم کی کیا امید رکھیں ہم اہل زمین کو بھول جاتے ہیں تو اللہ ہمیں بھول جاتا ہے ۔۔۔

کرو مہربانی اہل زمین پر 

خدا مہربان ہوگا عرش برین پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button