خواتین کا صفحہکالم نگار

شازیہ کی محنت رنگ لائی

 

فراز خان فراز

شازیہ کی محنت رنگ لائی

لوگ اپنی کامیابی اور ناکامی کو اکثر طور پر تقدیر کے حوالے کرتے ہوئے اپنے کل کا انتظار خاموشی سے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے کیونکہ انسان تقدیر کے ہاتھوں مجبور بھی ہے اور آزاد بھی ہے ۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے  

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اللہ پاک سے خودی کو بلند کر کے اپنی علمی خواہش کو تکمیل تک پہنچانے کی حقیقت پر مبنی شازیہ کی کہانی ہے آپ کی اس علمی آبیاری اور شاندار کامیابی میں خودی کا جو عنصر پایا جاتا ہے وہ ہے والدین کی حلال کمائی اور اخلاقی تربیت ہے اور ساتھ ساتھ سب سے بڑھ کر مرحوم بابا میرزہ گل صاحب کا ہے انہوں  نے خود ان پڑھ ہونے کے باوجود بھی شازیہ کی علمی سفر کو پروان چڑھانے میں کو ئی کسر باقی نہیں چھوڑا ۔ کاش وہ آج زندہ ہوتے تو اپنے کیے ہوئے کام پر کتنا نازاں ہوتے ہوئے نظر آتے ۔

اس کامیابی میں بڑا ہاتھ پامیر پبلک سکول بونی کے اساتذہ کرام کا بھی ہے انہوں نے ابتدائی زندگی کے اصولوں کو سکھانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے اور زہین بچی کو ایک ایسے سکول کے حوالے کیے جو کہ چند سالوں سے ایسے باصلاحیت لوگوں کو علمی سمت میں درست طریقے سے آگے لے جانے میں مصروف عمل ہے اور وہ علمی ادارہ آغاخان ہائیر سیکنڈری سکول کوراغ ہے 

 ۔آپ نے بی ،ایس سائنس کی ڈگری اسلامیہ کالج اینڈ پشاور یونیورسٹی سے حاصل کی ۔آپ کوکلاس ہشتم سے بارھویں جماعت تک اس سکول کے طالب علم ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اپنی کامیابی کو والدین،اساتذہ کے ساتھ ساتھ اس سکول کو قرار دے کرمیں فخر محسوس کرتی ہے  

شاہین تیرے پرواز سے جلتا ہے زمانہ

تواور بھی اس آگ کو بازو سے ہوا دے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button