خواتین کا صفحہکالم نگار

کرونا کی وبا کا خواتین پر اثرات

 

فریدہ سلطانہ فری

مختصر سی جھلک

کورونا  نےجہاں انسانی صحت کوبری طرح متاثرکردیا ہے وہاں اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی معاشی ومعاشرتی ،سماجی خوشحالی پربھی طویل المدتی اثرات مرتب کیَے ہیں۔ خصوصآ اس وبا نے خواتین کو توبری طرح متاثر کردیا ہے کیونکہ اس دوران ہر شعبے اورطبقے کی خواتین کومختلف ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑاجس کی وجہ سے وہ کافی زہنی دباو کا شکار ہوئی ہیں جب ہم بات اس وبا کی خواتین پراثرات کی کرتے ہیں تو ہما رے معاشرے میں دو طرح کی خواتین بستی ہیں ایک وہ برسرروزگار ہیں اور دوسرے وہ جو کسی ملازمت سے وابستہ نہیں ہیں دونوں پراس وبا کےاثرات بھی ان کے کام اور زمہ داریوں کے حساب سے مختلف ہیں ۔ہم باری باری اس وبا سے متاثرہ تمام شعبے کے خواتِین کا تذکرہ کرئیں گیں ۔

 گھریلو سطح پر اثرات: وہ خواتین جوگھروں کی حد تک محدود ہیں جوکسی روزگار یا ملازمت سے وابستہ نہیں ہیں یا وہ خواتین جو ملازمت کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی کرتی ہیں ان پراس وبا کے دوران گھریلو زمہ داریوں میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہمارے ہاں یہ دستور ہے کہ گھریلو کام جیسے کھانہ پکانہ ،برتن و کپڑے دھونا بوڑھوں اور بچوں کا خیال رکھنا وغیرہ سب خواتین کے حوالے ہیں اوربدقسمتی سے اس وبا کے دوران بچوں ،بوڑھوں اورخصوصا گھر کے بیمار افراد کی دیکھ بھال عام معمول سے ہٹ کے زیادہ کرنی پڑی جس کی وجہ سے خواتین پرکام کا بوجھ بھی بڑھ گیا نتیجتآ ان کی جسمانی وزہنی صحت بری طرح متاثر ہوگئی۔ چونکہ وبا نے زیادہ ترلوگوں کے روزگارکو بھی متاثر کیا ہے اورزیادہ ترمرد گھروں کی حد تک محدود ہوکے رہ گَئے ہیں بے روزگاری و فرسٹیشن کی وجہ سے گھریلو جھگڑے بھی پڑھنے لگے ہیں جس کی وجہ سے خواتین پرگھریلو تشدد میں بھی نماں اضافہ دیکھا گیا اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری گٹیریس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مسلسل بڑھتے پھیلاؤ کا خواتین کی سماجی اورمعاشی حالت پر منفی اثر پڑا ہے ۔اس وبا کے سبب خواتین کی صحت سے لے کر ان کی معاشی حالت اور سماجی سیکورٹی پر برا اثرات مرتب ہوئے ہیں اورخواتین کے خلاف تشدد بھی کافی بڑھ گئے ہیں۔ 

روزگار پر اثرات: جب ہم بات ملازمت کی کرتے ہیں تو ایک گورنمنٹ کی نوکری اور دوسری پرایئویٹ سطح کی اس وبا کے دوران حکومت نے تو اپنے ملازمین کو تنخواہوں سے محروم نہیں رکھا مگر پرایئویٹ سطح پرکام نہ ہونے کی وجہ سے وہ خواتین جو اس سطح پرملا زمت کررہے تھے وہ تنخواہوں سے محروم ہوگئےجس کی وجہ سے ان کو اپنے گھریلو اخراجات کے حوالے سے کافی مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑآ چترال میں بھی اب کو دونوں طرح کی خواتین مل جائیں گیں برسرروزگاربھی اوربے روزگاربھی ،گورنمنٹ سے منسلک بھی اور پرایئویٹ جاب کرنے والے بھی۔۔۔ جو کمائی کرکے اپنے خآندان کا چولھآ جلاتے ہیں جس طرح اوپرمیں نے بات کی چترال میں بھی پرایئویٹ ملازمین کا وہی حال ہے جو ملک کے دوسرے علا قوں میں ہے کام کروتو تنخواہ ملے گی بہت کم پرایئویٹ ادارے ایسے ہیں جنھوں نے وبا کے دوران اپنے ملازمین کی تنخواوں کو نہیں روکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے  

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button