کالم نگار

نیا ہندوستان

فیس بک پر پاک بھارت مشترکہ ثقافتی ورثہ کے عنوان سے ایک گروپ قائم ہے، جس میں سرحد کے آر پارسے مختلف الخیال افراد کی اچھی خاصی تعداد ایڈ ہے

عنایت شمسی

جہات

 

فیس بک پر پاک بھارت مشترکہ ثقافتی ورثہ کے عنوان سے ایک گروپ قائم ہے، جس میں سرحد کے آر پارسے مختلف الخیال افراد کی اچھی خاصی تعداد ایڈ ہے۔ فیس بک اور سماجی روابط کے دیگر پلیٹ فارمز پر ایسے بہت سے گروپ بنے ہوئے ہیں، جن میں مختلف ثقافتی، مذہبی، لسانی اور نسلی پس منظر رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیال و افکار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے متعلق عمومی طور پر ایک خیال یہ پایا جاتا ہے کہ یہ وقت کے ضیاع کا ایک بے فائدہ، بے مہار اور بے مقصد ذریعہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا نے لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلا ہے اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم نفرت، تعصب، بد اخلاقی، بد تہذیبی اور گالم گفتار کے فروغ کا اڈا بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے متعلق مجموعی طور پر تقریباً اتفاق کے درجے میں سامنے آنے والا یہ تجزیہ ایک حد تک درست ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے سنجیدہ لوگ اسی پس منظر میں سوشل میڈیا سے دور رہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ انصاف کی بات البتہ یہ ہے کہ یہ سوشل میڈیا کا پورا چہرہ نہیں ہے، یہ تصویر کا وہ رخ ہے، جو ذرا نمایاں ہونے کی وجہ سے ہر ایک کے سامنے رہتا ہے۔اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ یہ کہ سوشل میڈیا کے ان پلیٹ فارمز کے ذریعے خیالات، عقائد، نظریات، نسل ولسان کے تنوع (diversity) کو سمجھنے اور قبول و برداشت کرنے کا رجحان و شعور پیدا ہو رہا ہے۔ برداشت و ہم آہنگی کا دائرہ پھیل رہا ہے۔ شروع شروع میں لوگ اپنے سے ذرا مختلف رائے دیکھ اور سن کر مشتعل ہوجاتے ہیں، پھر رفتہ رفتہ یہاں وہاں سے مختلف و مخالف آرا و فکر و نظر کا اظہار دیکھ کر برداشت کی جوت پڑتی ہے اور لوگ اس بات کو قبول کرنے لگتے ہیں کہ ہم سے الگ اور جداگانہ رائے و خیال رکھنا بھی کسی کا حق ہے۔ یہ سوشل میڈیا کا وہ مثبت پہلو ہے، جس کو مزید نکھار کر سوسائٹی میں نفرت، عداوت، شدت پسندی اور دیگر منفی جذبات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

بات ہو رہی تھی پاک بھارت ثقافتی ورثہ فیس بک گروپ کی۔ اس گروپ میں پاکستان اور بھارت کے تاریخی مقامات، شخصیات اور مشترکہ تمدنی آثار کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں اس گروپ سے بھارت کے بابائے قوم موہن داس کرم چند گاندھی اور سرحدی گاندھی جناب باچا خان (اے این پی کے سربراہ جناب اسفند یار ولی خان کے دادا) کی ایک تصویر پوسٹ کی گئی۔ پوسٹ کرنے والے کا تعلق پاکستان سے تھا۔ کیپشن میں دونوں شخصیات کی یکساں تحسین کرتے ہوئے دونوں کو آزادیٔ ہند کے عظیم رہنما اور ہیرو قرار دیا گیا تھا۔ ایسا اظہاریہ عموماً وطن عزیز کے نظریاتی تشخص اور قیام پاکستان کے تاریخی پس منظر میں یہاں نا پسند کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ سبھی جانتے ہیں گاندھی اور باچا خان کا تعلق انڈین نیشنل کانگریس سے تھا اور کانگریس دو قومی نظریے اور تقسیم ہند کی مخالف تھی، جبکہ پاکستان کا قیام اس نظریے اور بیانئے کی مخالفت، مزاحمت اور اس کی شکست کے بغیر عمل میں نہیں آ سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کانگریس اور نیشنلسٹ رہنماؤں کے تئیں قدرے تعصب اور تنافر کی تلخ فضا پائی جاتی ہے اور یہ بات ایک حد تک قابل فہم بھی ہے، جبکہ بھارت کے ماحول میں اس کے بر عکس رویے اور برتاؤ کی توقع رکھی جاتی ہے۔ تحریک آزادی اور تقسیم ہند کے عمل کے مطالعے سے شغف رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوتا ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کی تحریکی و تاریخی شخصیات اور اس کی تاریخی جد و جہد کی بھارت میں قدر، عزت اور احترام ہوگا۔
گروپ میں تصویر دیکھ کر ہمارے اندر تجسس کی لہر سی کوندی۔ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ پاکستان میں تو دونوں شخصیات غیر مقبول ہیں، سو ہیں، گاندھی جی بھارت کے بابائے قوم ہیں، وہاں ان کی عزت و عظمت ہر ایک کے دل میں نقش ہوگی، دیکھتے ہیں جناب باچا خان کو آج کی بھارتی نسل کس نگاہ سے دیکھتی ہے… اس جستجو میں تبصروں کے خانے میں گیا تو وہاں جو صورتحال نظر آئی، وہ بالکل غیر متوقع تھی۔ حیران کن طور پر بھارت کے ہندو شہریوں کی اکثریت سرے سے اپنے بابائے قوم گاندھی جی جنہیں اب تک احترام سے ’’باپو‘‘ کہا جاتا رہا ہے، کی شخصی عظمت کو تسلیم کرنے کو ہی تیار نظر نہیں آ رہی تھی۔ بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد تو اس بات پر نالاں نظر آ رہی تھی اور وہ باقاعدہ احتجاج کر رہے تھے کہ گاندھی کو ’’گریٹ‘‘ کیوں لکھا گیا ہے…

ہمارے لیے یہ بات حیرت کی ہی ہو سکتی تھی، سو ہمیں سارا وقت حیرت نے گھیرے رکھا۔ یہ یقینا بی جے پی، اس کی مدر تنظیم آر ایس ایس اور پھر نریندر مودی کی کاوشوں اور بھارت کو ہندو دیش بنانے کی جارحانہ سرگرمیوں کا ہی نتیجہ ہے، مگر سچی بات یہ ہے کہ ہمیں اس حد تک ’’تبدیلی‘‘ بلکہ قلب ماہیئت کی توقع نہیں تھی۔ اگر بھارتی شہری اپنے ’’قائد اعظم‘‘ جن کی تصویر کرنسی نوٹوں پر پرنٹ ہونے کے باعث ہمہ وقت ہر ایک کے پاس رہتی ہے، سے ہی متنفر ہو گئے ہیں تو اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہو سکتے ہیں کہ بھارت اب مودی کی سرپرستی میں نئے ہندوستان کی راہ پر گامزن ہے۔ ایسا ہندوستان جس کے افق پر گاندھی جی کے ساتھ ان کا برداشت، روا داری، وسعت ظرفی اور سیکولر ازم شفق کی اندوہ گیں سرخی میں ڈوبتا اور اس کی جگہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی شبیہ اپنی تمام تر تنگ نظری، مذہبی شدت پسندی، کٹر پن اور ہندو بالا تری کے مہیب تصورات کے ساتھ ابھرتی نظر آ رہی ہے اور صاف محسوس ہوتا ہے کہ نئے ہندوستان کا باپو اب گاندھی نہیں، سردار پٹیل ہوں گے… مودی سرکار نے سردارپٹیل کا ایک دیو قامت مجسمہ خاص اہتمام سے شاید ہندوستان کی فکری کایا پلٹ کی شعوری کوشش کے تحت ہی گجرات میں نصب کر دیا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے طویل القامت مجسمہ ہے اور اس کی تعمیر و تنصیب پر تیس ارب بھارتی روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ گمان یہی ہے کہ اس مجسمے کا افتتاح گاندھی کے ہندوستان جو پون صدی کے عرصے میں گو نظری فلسفے کی حد تک ہی موجود تھا، کے خاتمے اور نئے ہندوستان کے آغاز کا اعلان ہوگا، جس کے باپو موہن داس کرم چند گاندھی کی بجائے سردار ولبھ بھائی پٹیل ہوں گے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button