سماجیکاروباری دنیاکالم نگار

انور امان، بی جان ہوٹل اور ترقی کے دشمن

منیر نیازی نے کہا تھا: کُج شہر دے لوک وی ظالم سَن.... کج سانوں مرن دا شوق وی سی.... ہماری بہت سی صورتوں میں یہی کیفیت ہے

عنایت شمسی

 

منیر نیازی نے کہا تھا: کُج شہر دے لوک وی ظالم سَن…. کج سانوں مرن دا شوق وی سی…. ہماری بہت سی صورتوں میں یہی کیفیت ہے، بلکہ اکثر ہم پر چاروں طرف سے دونوں کیفیتوں کا ایک ساتھ ہی نزول ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں پہاڑ بھی ہیں، جو قدرت کی عظیم و حسین صنعت و خلقت ہیں اور ان سے ہمیں طرح طرح کے فائدے ہیں، ساتھ ہیمگر ان پہاڑوں سے سخت اور بڑے پہاڑ یہاں مسائل کے بھی ہیں، جو زندگی کی دوڑ میں بڑی رکاوٹ ہیں، ہم چاروں طرف کھڑے مسائل کے ان پہاڑوں کو دیکھ کر دل چھوڑ دیتے ہیں، یوں کولہو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں ہی گھوم رہے ہیں۔ قدرت نے اپنے پہاڑوں میں ہمارے لیے کتنے ہی خزینے دفن کر رکھے ہیں، یقینا ایسا ہی ہوگا، مگر ہمارے لیے وہ چٹانوں اور پتھروں کا بے فائدہ ڈھیر ہی ہیں، ہم نے ان پہاڑوں کو تیشہ تسخیر سے کام میں نہ لایا تو خدا نے ہمیں اپنے ہی بے ہمتی کے تراشیدہ مسائل کے پہاڑ تلے دبا کر رکھ دیا، اب آہ ہے، نالہ نا رسا ہے، فریاد و دُہائی ہے اور مسائل کے پہاڑ کی فلک بوس بلندی ہے….

کبھی سوچا ہم نے کہ اللہ تعالیٰ کی کس قدر مہربانی ہے کہ ہم ”لینڈ لاکڈ“ ملک نہیں ہیں۔ بحر ہند کے بہت بڑے ٹکڑے بحیرہ عرب کے ایک کنارے سے ہماری زمین کا بہت بڑا حصہ ملتا ہے، وہی بحیرہ عرب جو دنیا کی مصروف ترین آبی گزرگاہوں میں سے ہے۔ لینڈ لاکڈ ہونا کتنی بڑی مشکل کا عنوان ہے، یہ وہی جانتے ہیں جو قدرت کی اس ”ناکا بندی“ کے اسیر ہیں۔ برادر پڑوسی ملک افغانستان کو ہی دیکھ لیجئے۔ جغرافیہ کی اصطلاح میں ”لینڈ لاکڈ“ اس ملک کو کہا جاتا ہے جو چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ہو اور اس کے ساتھ کوئی سمندر نہ لگتا ہو۔ دنیا میں کُل 49 ایسے ملک گنے جاتے ہیں، جو مکمل خشکی میں گھرے ہوئے ہیں اور سمندر کے ”فیوض و برکات“ اور فوائد و ثمرات سے محروم ہیں اور سمندر کی سستی تجارت، در آمد بر آمد کی کم قیمت نقل و حمل کی حسرت ہی کر سکتے ہیں۔ کس قدر خوش قسمتی کی بات ہے کہ کسی رد و قبول کے انتخاب کے تردد میں ڈالے بغیر قدرت نے از خود ہمیں لینڈ لاکڈ ہونے کی کلفت سے محفوظ رکھا اور ہمیں سمندر کے قریبی جغرافیہ سے نوازا، مگر بد قسمتی یہ ہے کہ بحیرہ عرب نامی سمندر اگر ہماری پشت پر ہے تو ہمارے سامنے ایک اور سمندر بھی حائل ہے، یہ ہے ان مشکلات کا سمندر جن کی ننانوے فیصد اس ”خود کردہ“ کے زمرے میں آتی ہیں، دنیا میں آج تک جس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا۔ ہم اپنے پہلو میں لیٹے قدرت کے سمندر سے دستِ ہنر آزما کر کچھ کر گزرنے کی ہمت جوڑیں تو خدا لگتی یہ ہے کہ مشکلات کا وہ سمندر جو ہمارے سامنے حائل ہے، کبھی نا قابل عبور نہیں رہے گا، مگر بات وہی کہ بات کچھ کر گزرنے کی ہے اور ایسی باتیں سن کر ہمارا جی اوبھنے لگتا ہے….

انور امان امریکا کے ایک کامیاب بزنس مین ہیں۔ امریکی ریاست ٹینیسی میں ریڈینٹ گروپ کے سربراہ اور کئی کمپنیوں کے مالک ہیں۔ وہ پاکستانی ہیں اور ان کا خمیر پاکستان کے انتہائی شمال میں امن و محبت کی سرزمین چترال کے علاقے کریم آباد لوٹکوہ سے اٹھا ہے۔ انہوں نے متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی۔ چترال میں پلے بڑھے۔ والدین نے تعلیم پر توجہ دی۔ جس قدر ہو سکا اچھا پڑھایا لکھایا۔ سن شعور میں قدم رکھا تو ان میں عمومی ریت کے مطابق روایتی پگڈنڈیوں پر زندگی کا رتھ کھینچتے رہنے کی بجائے نئی راہیں ڈھونڈنے اور تراشنے کا جذبہ و شعور پروان چڑھا اور وہ پاکستان میں اپنی رسمی تعلیم پوری کرکے 1995 ءمیں امریکا جا پہنچے۔

انور امان کی آنکھوں میں جو خواب سوئے ہوئے تھے، ”نئی دنیا“ میں پہنچ کر امید کی چکا چوند سے وہ جاگ اٹھے۔ انہوں نے تیشہ کوہکن اٹھایا اور رات دن ایک کرکے اپنے خوابوں کو عمل کا جامہ پہنانے میں جت گئے۔ کچھ عرصے کی مسلسل محنت و لگن سے انہوں نے کاروبار کے میدان میں اچھا مقام بنایا اور پھر آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ کچھ عرصہ قبل وائس آف امریکا نے زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کرنے والی شخصیات سے گفت و شنید کے اپنے مستقل پروگرام میں انور امان کا انٹرویو کیا اور ان کی محنت، جد و جہد، کاروباری ترقی اور کامیابی کے مختلف گوشوں کو ناظرین کے ساتھ شیئر کیا۔ انور امان محب وطن شخص ہیں، ان لوگوں میں سے نہیں جو کامیابی کے دو زینے چڑھنے کے بعد اپنا ماضی ہی نہیں، ماضی سے وابستہ ہر رشتہ، ہر تعلق کو کاٹ پھینک دیتے ہیں۔ انور امان کامیابی کی اس منزل پر بھی اپنے ماضی کو نہیں بھولے اور اپنے ماضی سے وابستہ ہر فرد اور ہر تعلق کو وہ قدر و قیمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، چنانچہ وہ کاروبار کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت کیلئے بھی مختلف شعبوں میں سرگرم کار رہتے ہیں۔ امریکی سیاست میں وہ پاکستان کی لابی کا حصہ بن کر وطن سے محبت کا فرض نبھا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف فلاحی سرگرمیوں کا بھی فعال حصہ ہیں۔

چترال پاکستان کا ایک دور افتادہ اور انتہائے شمال میں واقع علاقہ ہے، یہاں کے لوگ پر امن، مہمان نواز اور ”محبت“ سے محبت کرنے والے ہیں، یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تقریباً دو دہائیوں میں باوجود شورش زدہ خطے میں واقع ہونے کے، چترال کا دامن دہشت گردی کے شعلوں اور اس کا ماتھا دہشت گردی کے داغ سے محفوظ رہا ہے، تاہم پر امن ہونے کے باوجود چترال فرقہ وارانہ حوالے سے کچھ حساس ہونے کے ساتھ ساتھ ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔ عموماً ہمارے ہاں اپنی ناکامیوں و مسائل کا سارا دوش دوسروں کو ہی دینے کا رواج ہے۔ کسی حد تک یہ درست بھی ہے کہ حکومتوں نے وسائل ترقی میں چترال کو اس کے جائز حصے اور حق سے محروم رکھا، تاہم ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح چترال کے بہت سے مسائل بھی ”خود پیدا کردہ“ کے زمرے میں آتے ہیں۔ کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے انفرادی اور بعض این جی اوز کی سطح پر بہت اچھی کوششوں کی بنیاد ڈالی جانے لگی، مگر غیر ضروری طور پر کچھ حساس معاملات کو بنیاد بنا کر کچھ لوگوں نے ان کی راہیں مسدود کروا دیں۔

سرتاج احمد چترال کے ایک اور اہم خدمتگار، سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ متحرک کاروباری شخصیت ہیں۔ کاروبار بھی یقینا وہ کرتے ہوں گے، مگر اس سے کہیں زیادہ سرتاج صاحب چترال میں کاروباری سرگرمیوں کی جنریشن اور کاروباری افراد کیلئے آسانیاں اور نت نئی راہیں تراشنے کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ چترال مستقبل میں پاکستان کی سینٹرل ایشیا کے ساتھ تجارت کا گیٹ وے بننے جا رہا ہے، سرتاج احمد خان کی کوشش ہے کہ اہل علاقہ اس حوالے سے مستقبل میں کاروبار و معیشت کے باب میں ابھرنے والے ترقی کے مواقع کیلئے منصوبہ بندی کریں۔ انور امان نے شاید مستقبل کے انہی امکانات کو تاڑ کر چترال میں فائیو اسٹار ہوٹل کا منصوبہ زور و شور سے شروع کر دیا ہے، گزشتہ مہینے وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری صاحب اس کا افتتاح بھی کر چکے ہیں، اس منصوبے سے چترال میں ترقی و خوشحالی کے مواقع پیدا ہوں گے، تاہم عوام کو مستقل پسماندہ رکھنے والے ایک خاص طبقے کے افراد اس اہم منصوبے کے خلاف مختلف حیلے حوالوں سے سرگرم ہو گئے ہیں، ان دنوں وہ ہوٹل کی زمین کے ایک حصے پر دعویٰ کرکے کنسٹرکشن کا جاری کام رکوانے کے درپے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ اس میں ناکامی کے بعد جیسا کہ ناکامی ان کا مقدر ہے، وہ مذہب کا کارڈ بھی استعمال کر سکتے ہیں، علاقے کے عوام کو ان سے ہوشیار رہنا ہوگا، ورنہ جیسے ماضی میں فرقہ وارانہ بنیاد پر کئی اہم منصوبوں کی مخالفت کرکے ہم اہل چترال کو پسماندہ اور ترقی سے محروم رکھنے کا ”کارنامہ“ انجام دے چکے ہیں، سازشی عناصر کامیاب ہو گئے تو ایک بار پھر ان کے ”کارنامے“ کے کارن پسماندگی ہی ہمارا منہ دیکھے گی اور ہم اس کا…. ہم بھی کیا لوگ ہیں، مشکلات کا رونا روتے ہیں، حل کی طرف کوئی آتا ہے تو اس کی راہ میں کانٹے بوتے ہیں، کتنے ظالم ہیں ہم…. مسائل پھر کیسے حل ہوں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button