سماجیسیاستکالم نگار

پاک امریکہ "ازدواجی ” تعلقات

جب دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور سرد جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ نے سسرالیوں کو ماموں بناکر ان کی مدد سے ہمسایوں کو زیر کرکے دنیا پر حکمرانی کرنے کا انوکھا ڈھنگ نکالا تھا

 

نور شمس الدین

 

جب دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور سرد جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ نے سسرالیوں کو ماموں بناکر ان کی مدد سے ہمسایوں کو زیر کرکے دنیا پر حکمرانی کرنے کا انوکھا ڈھنگ نکالا تھا۔ ٹھیک اسی وقت پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آذاد ملک کی صورت میں نمودار ہوا۔اکیلا اور کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ، اپنے خوبصور ت خدوخال اور بھرپور ہمسایوں کی وجہہ سے اس کی مثال اس وجیہہ شکل خاتون کی تھی جسے رشتے استوار کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے بگڑے یا بگاڑے ہوئے سویت یونین جیسے بڑے بڑے مدر پدر ر آذاد "لڑکے” بھی ہاتھ پاوں مار رہے تھے ۔ مگر اس نازنین نے سویت یونین کا رشتہ ٹھکراکر اسے بھی بڑے لاڈلے امریکہ کے ساتھ رشتہ ازدواج ہموار کرنے کے واسطے لیاقت علی خان کو امریکی یاترا پر روانہ کیا جس نے سب اچھا ہے کی رپورٹ دی اور دوسال کے اندر اندر سمدھی رچرڈنکسن نے پاکستان کا دورہ کیا اور لڑکی کی وفاداری اور خوش اسلوبی کی ضمانت دیکر دونوں کو ایک دوسرے سے باندھ لیا۔

ہنی مون کا دورانیہ انتہائی خوشگوار تھا جہاں دونوں ایک دوسرے کے باہوں میں باہیں ڈالے کوریا کا مقابلہ کیا تو سیٹو اور سینٹو کی صورت میں ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے لگے۔ یہی نہیں بلکہ امریکہ نے پاکستان کو “دی موسٹ الائیٹ ایلی” کا مالا پہنا کر زندگی بھر ساتھ دینے کی ہر ممکن یقین دہانی کرائی۔ یاد رہے کہ اس رشتے میں منسلک ہونے کی واحد وجہ پاکستان کے ظاہری خدو خال ہی نہیں بلکہ امریکہ کا سسرالیوں کے ذریعے ہمسایوں کو دبانے کا طریقہ ورادات بھی تھا ۔ اور اس بار کمیونزم جیسی آفت پاکستان کے ہمسایے میں پنپنے کی کوشش کررہی تھی۔ بحرحال دونوں نے ایک دوسرے کی احساسات وضروریات کا خیال رکھتے ہوئے زندگی گزارتے رہے۔ لیکن ہنی مون کا دورانیہ گزرتے ہی 1965 میں امریکہ نے روایتی سردمہری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستانی قیادت میں لڑکی کو گھیرتے ہوئے غنڈوں کو دھتکارنے تک کی زحمت نہ کی ۔ نتیجتا پاکستان نے ” سیٹو اور سینٹو ” جیسے نکاح ناموں کو پھاڑ کر امریکہ سے خلع لینے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔ اور یوں دو عشروں پر محیط رشتے ٹوٹ گئے۔

تاہم چند سال گزرنے کے بعد ہی دونوں کو احساس ہوا کہ دنوں ایک دوسرے کے بعیر زندہ نہیں رہ سکتے کہ نازنیوں جیسی زندگی گزارنے کے لیے پاکستان کو امریکی امداد اور سویت یونین جیسے رقیبوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ مجبورا دونوں نے ” کارٹر ڈوٹرین” کےتحت دوبارہ شادی رچانے کا فیصلہ کرلیا۔ تاہم حق مہر میں جو 402 ملین امریکی ڈالر پاکستان کو ملنے تھے انہیں ضیا الحق نے ناکافی قرار دیکر ٹھکرادیا۔ اور پاکستان نخرے کیوں نہ کرتی کہ امریکہ کا رقیب اس بارپاکستان کے بلکل قریب پہنچ چکا تھا اور دونوں کا ملاپ افعانستان کی سرزمیں پر کسی بھی وقت ہوسکتا تھا۔ اسی ملاپ کو روکنے کی خاطر پاکستان اور سویت یونین کے درمیاں اختلافات کو پروان چڑھا کر انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنایا گیا۔امریکہ نے پاکستانی کی مذہب پرست قیادت کے زریعے پاک سویت یونین تعلقات کو مذہبی نقطہ نظر سے حرام اور ناممکن قرار دیکر پاکستان کو اپنا لاڈلا بنائے رکھا۔ امریکہ میں حکومت تبدیل ہوئی مگرا خیالات ویسے ہی رہے اور کارٹر کے بعد ریگن نے بھی لڑکی کے نازنخرے اٹھانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔

تاہم سویت یونین کے علاقے سے بھاگنے کے بعد امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان کی طرف عجیب نظروں سے دیکھنا شروع کیا۔ قدم قدم پر پاکستان پر "ایٹمی موٹاپے” کا الزام لگاکر دبلے پتلے خوبروں کو ہی من پسند قرار دیکر پاکستان سے بے اعتنائی برتنا شروع کیا گیا۔ ساتھ ساتھ پاکستان پر امریکہ سے بے وفائی کرکے دوسروں کو بلاوجہہ پہلووں میں سلانے کے الزام بھی لگایا گیا۔ اور اس بار امریکہ کا الزام کچھ غلط بھی نہ تھا کہ پاکستان کو اپنے پہلو میں امریکہ سے بھی خوبرو اور وفادار چین نظر آچکا تھا۔ اور اس کے ساتھ پاکستان کے خفیہ تعلقات اس نہج تک پہنچ چکے تھے کہ ” براؤن ایمیممنٹ” کی شکل میں رشوت دیکر اپنی طرف مرعوب کرنے کی امریکی کوشش بھی ناکام ہوئی۔ حالات اس وقت ناقابل یقین حد تک خراب ہوگئے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا اور پھر "لڑکی کے بھائی” نے جمہوری قوتوں کو سارے مسائل کی جڑ قرار دیکر لڑکی کے دفاع کی ذمہ داری واحد قوت کے طور پر خود کرنے کی ٹھان لی۔ اور یوں نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔وہ جو طلاق سے پہلے پاکستان کے نازو نخرے اٹھاتے تھے آج پاکستان کو بھوکا اور بے یارو مددگار مرتی ہوئی دیکھنے کی خواہش کرنے لگے۔ اور پاکستان کو دنیا کے نقشے میں اکیلا کرنے کی خاطر کسی بھی معاشی و سفارتی تعلقات سے اجتناب کیا گیا۔

مگر پھر اچانک کے واقعے نے دونوں پر یہ ثابت کیا کہ اگر وہ ایک ساتھ نہیں رہے تو باہر سے طاقتیں آکر دونوں کا ریپ کرکے بھاگ جائیں گے کہ اس بار ریپ کرنے والے لڑکی دیکھتے تھے نہ لڑکا۔اس لئے دونوں نے ایک بار پھر اچھے میاں بیوی بن کر ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوے اپنی عزت بچائے رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے محلے کی ہر خبر امریکہ تک پہنچائی تو امریکہ نے دولت کے دروازےکھول کر پاکستان کو دنیاوی عم و الم سے بیگانہ کردیا۔ یہی نہیں بلکہ لڑکی کے بھائی کو ڈیوڈ کیمپ بلاکر شاباشی بھی دی گئی۔ او ر پھرپاکستان امریکہ کی ہر جائز و ناجائز خواہش پور ی کرتی رہی۔ مگر جوں ہی ریپ کرنے والے کمزور ہوگئے پاکستان پھر شکوک وشبہات کی ذد میں آگئی البتہ الزامات وہی پرانے اور گھسے پٹے ہیں اس لیے توقع رکھی جاسکتی ہے کہ طلاق جلدی ہو یا بدیر ہونی تو ہے تاہم ان دونوں کے کیس میں طلاق کے بعد رجوع ہمشہ کیطرف یقینی ہے لھذا کسی کو فکر کرنے کی چندان ضروت نہیں ہاں اس بات پر سوچنا ضرور ہے کہ اس بار رجوع کی وجہہ کیا ہوسکتی ہے اور اللہ کرے یہ وجہہ معمول سے ہٹ کر کچھ ہو کہ ہر رجوع کے وقت عوام ہی پستے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button