اپر چترالتاریخ اور ادبتعلیم

سردار حسین شاہ، جن یا انس“ ( چوتھی قسط)

شمس الحق قمر

میری ڈائری کے اوراق سے

تیسری قسط میں ہم نے سردار صاحب کی راہی کراچی ہونے تک گفتگو کی تھی ۔ کراچی کیسے گیے ، کہاں رہائش اختیار کی ؟ ہمیں مطلقاً علم نہیں ہو سکا البتہ البتہ اُس دوران گاؤں کےکراچی وال لڑکے آتے ( کراچی میں رہنے والوں کو گاؤں والے کراچی وال کہتےہیں ) تو اُن سے کہتے سنتے کہ سردار نے کراچی میں ملازمت کے ساتھ پڑاھائی بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔
5 جولائی سن 1986 علی الصبح محلے میں سردار کی آمد کی خبر گرم ہوئی۔ شرف ملاقات کے شوق میں اُسی دوپہر کو میں اُن گھر گیا لیکن وہ حسب معمول گھر پر موجود نہیں تھے اور گھر والوں کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ کس سمت رفو چکر ہوئے تھے ۔ میں نے گاؤں میں اُن کی تلاش شروع کی اور چلتے چلتے ایران خان میکی ( مرحوم ) کے گھر کے ساتھ مین روڈ پر سفید ہندوستانی تنگ پاجامہ جوکہ آجکل خواتین لمبی قمیض کے ساتھ زیب تن کرتی ہیں ، کے اوپر ادھا سفید رنگ کا ہلکا سا مختصر کرُتہ، سر پر سفید رنگ کے کٹن کے کپڑے کی بنی ٹوپی جو کہ پرانے ڈراموں میں شاہی باورچیوں کے سروں پر سجتی ہوتی تھی ، پاؤں میں پنجابی کھُسے پہنے لمبی لمبی مگر قدرے ترچھی قدموں کے ساتھ چودھریوں کی چال چلتے ملے ۔ اُن سے مل کے بہت دکھ ہوا کیوں کہ وہ بہت بدل گئے تھے ۔ میں نے سلام کیا تو اُس نے میری دیکھا اور اثبات میں سر کو جنبش دی لیکن ہاتھ نہیں ملایا ۔ میرے ہاتھ میں ڈبل وِیلس سگریٹ سلگ رہا تھا ۔ میری اُن سے بغل گیر ہونے کی شیدید خواہش پر پانی پھر گیا ۔ اُنہوں نے مجھ سے میرا تعارف کا تقاضا کیا ۔ تعارف پوچھنے پر میری اپنی شخصیت میرے سامنے ڈھیلی پڑ گئی ۔ بہر حال میں نے اپنا تعارف کیا تو اُنہوں نے سر سے پاؤں تک میرا جائزہ لیا اور عتابی لہجے میں بولے ” ہاتھ میں کیا ہے؟ ” میں نے بولا ” سگریٹ” آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھ سے کہا ” پھینک دو او ر یہاں سے دفع ہوجاؤ” ۔ میں جس سمت جا رہا تھا اُسی سمت پہ اپنا راستہ لیا تو پیچھے سے دھماکے دار لہجے سے آواز دی ” رُکو” میں رُکا تو بولے ” اِدھر آجاؤ” میں اُن کے پاس گیا تو میری جامہ تلاشی لی اور ڈبل ویلس کا ڈبہ میری جیب سے نکال کر پھینک دیا اور مجھے ایک زور دار چماٹ مار کر نو دو گیاہ ہونے کا حکم صادر فرمایا اور مجھ پر غالبؔ کے اس شعر کی تشریح تب واضح ہوئی
؎ نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے

 

اس واردات کے ٹھیک ایک ہفتہ بعد مجھے گاؤں کے ایک دوست اپنے ہاں ایک ضیافت پہ مدعو کیا ۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ اُسی ناصح کی مٹھی میں گولڈ لیف کے دو دانے ایک ساتھ سلگ رہے ہیں اور زندگی کا فلسفہ جھاڑا جا رہا ہے ۔ وہ باتیں جن کا کسی کو علم نہیں تھا دوستوں کو بتا رہے تھے اُن میں سے ایک انوکھا معلوماتی ٹوٹکا یہ تھا کہ چمگادڑ کا گوشت کھانے سے ذہانت میں بلا کی قوت پیدا ہو جاتی ہے ۔ اپنی گفتگو کو مدلل بناتے ہوئے کسی آیت کا بھی ترجمے کے ساتھ حوالہ دیا آیت کریمہ کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ قدرت کی تخلیق کردہ ہر جاندار اور بے جان شئے میں حکمت ہے ۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تنبیہ کی کہ حکمت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ہاتھ آئی ہوئی چیز کھائی جائے ۔ اُن کی گفتگو میں اتنی جان تھی کہ اگر وہ کہتے کہ چمگادڑ کا گوشت کھانا چاہیے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی بیماریوں کا علاج اُسی میں ڈھونڈ لیتے ۔

میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالی ٰمجھے کچھ نہ دیتے صرف سردار حسین کا حافظہ عطا ء فرماتے تو میں پوری دنیا پر حکومت کرتا۔ آپ جناب کی آنکھوں کے سامنے ہونے والا ہر واقعہ آپ کو یاد رہتا ہے۔ چاہے کتنا ہی پرانا اور غیر اہم کیوں نہ ہو ۔ کسی بھی مجلس میں کوئی بھی موضوع آپ کے لئے غیر مانوس نہیں ہوتا ہر کام کو اُس کام کے اعلیٰ پیشہ وروں سے بہتر جانتا ہے ۔ محترم کے کام کرنے کا انداز بھی نرالا ہے مثال کے طور پر وہ کتاب پڑھتے ہوئے ہمارا جیسا طریقہ نہیں اپناتے ۔ اہتمام اور تیاری سے کبھی بھی مطالعہ نہیں کیا کوئی بھی کتاب چلتے، اُٹھتے، بیٹھتے، ہنستے اور کھیلتے ہاتھ آجائے سرسری طور پر ایک نظر دوڑاتے ہیں اور دماغ میں زندگی بھر کےلئے بٹھا دیتے ہیں ۔ پڑھی، دیکھی اور سنی باتوں کو جب نوک زبان پر لاتے ہیں تو گل کھل جاتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا کام جسے زندگی میں ہاتھ نہ لگایا ہو کچھ اس ادا سے کرتے ہیں جیسے معاملات اوپر سے بتائے اور سکھائے گیے ہوں ۔ یہ تقریباً 80 کی دہائی کی بات ہے کہ ہم سکول میں ساتویں یا آٹھویں میں تھے ،چودہ اگست کا دن تھا، علاقے کا سب سے قد آور سیاسی اور سماجی لیڈر سابق وزیر تجارت ریاست ِچترال (مرحوم )حیدر احمد حیدری راغو ڈوک بونی، اُس محفل کی صدارت فرما رہے تھے۔ سردار حسین اُس وقت جماعت نہم کا طالب علم تھے اُسے تقریر کے لئے کوئی موقعہ نہیں دیا گیا تھا اور نہ ہی اُس نے پہلے کبھی تقریر کی تھی ۔ دوسری طرف اساتذہ کے کچھ منظور نظر طلبہ تحریک پاکستان پر اساتذہ کی طرف سے لکھی گئیں تقاریرجھاڑ رہے اتنے میں نہ جانے سردار پر کونسا جن سوار ہوا کہ یکایک اسٹیج پر گئے اور تحریک پاکستا ن میں مسلمانوں کی قربانیوں پر وہ شہرہ آفاق تقریر کی کہ صدر محفل کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ صدارتی خطبے میں (مرحوم )حیدر احمد نے تحریک پاکستان پر کم اور سردار حسین کی قابلیت پر زیادہ روشنی ڈالی۔ مجھے یاد ہے کہ صدر محفل نے حضرت قائد اعظم کے کئی ایک ایسے فرامین سنائے جن کا لب لباب پاکستان میں سردار حسین جیسے نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت کے اعلیٰ مواقع فراہم کرنا تھا۔ حیدر احمد نے فوری طور پر سردار حسین کو اپنے گھر دعوت دی اور بڑے پیمانے پر انعام و اکرام سے نوزا۔اس سے پہلے سردار حسین کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اُن کے اندر ایک ایسی چھپی ہوئی صلاحیت موجود ہے ۔ لیکن آج اس چنگاری نے خوب ہوا پکڑ لی تھی ۔ میری نظر میں یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ سردار حسین کی چھپی صلاحیتوں کو پہلی مرتبہ منظر عام پر لانے میں مرحوم حیدر احمد کا کلیدی کردا رہاہے۔ اس خیال کی تائید سردار حسین صاحب خود بھی کرتے ہیں۔
زبان سیکھنے، اور بولنے کے حوالے سے بھی سردار کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انگریزی، اردو، پشتو، پنجابی، سندھی، کے علاوہ دینی زبانیں عربی اور فارسی بھی روانی کے ساتھ بول لیتے ہیں۔ سردار حسین میں ڈر یا خوف نام کی کوئی چیز نہیں ہے اُن کی خواہش رہتی ہے کہ اُن کا مد مقابل آہنی قوتوں کا مالک ہو تاکہ اُس سے ٹکراتے ہوئے احساس ہو کہ آپ واقعی کسی سے مقابلہ کر رہے ہیں یہاں تک کہ غٰر مرئی مخلوق کو پکڑنے کی کئی بار کوشش کی ہے اور کامیاب ہوا ہے ۔ ایک مرتبہ رات کو چاندنی رات میں ہم ایک جگہے پر بہتے دریا کا نظارہ کر رہے تھے ۔ اور ہمارا موضوع تھا کہ مدوجذر کیا شے کہ جو کہ سمندروں پر اپنی ساکھ بٹھا دیتا ہے ؟میں نے از راہ تفنن استفسار کیا کہ کیا جناب کو رات کے وقت جن بھوتوں سے ڈر لگتا ہے؟ میرے سوال کو ہنسی میں اُرا کر تردید کی اور جن بھوت قابو کرنے کے حوالے سے پرانی قبروں میں کئی ایک راتیں گزار کر ریاضت اور چیلہ کاٹنے کی کئی ایک خوفناک قصے سنائے ۔ آپ خود اندازہ لگایئے کہ رات کے دو بجے کسی جنگل میں بیٹھے بیٹھے کوئی آدم زاد اپنے آباؤ اجداد کی روحوں سے ہم کلام ہونے کی کوش کرے تو میرے جیسے آدمی کی شلوار کا دیر تک خشک رہنے کا سوال مفقود ہو جاتا ہے۔ ہم انہی باتوں میں محو تھے کہ چاند غروب ہونے لگا اور اتفاقاًنیچے جنگل سے کسی بھٹکے بد روح کی خوف ناک سی آواز آئی۔

میرے اوسان خطا ہوئے میں نے سوچا کہ شاید سردار کے آبا و اجداد قبر سے اُٹھ کر آگیے ہیں لیکن سردار حسین بھی معاً چونک پڑے اور کہنے لگے (گئیے لہ بیسی گور ہوئے بوختووے مو ہمیت مہ دوستان اسونی) یعنی” او چلتے ہیں دیر ہو گئی ہے ۔ ڈرنے والی بات نہیں ہے یہ سب میرے دوست ہیں ۔ "میں گھر آیا لیکن ساری رات اُسی آواز کی باز گشت کانوں میں گونجتی رہی ۔ لطیف مخلوق کو بہت سوں کی آنکھوں کے سامنے پکڑنے کی ایک سچی کہانی خپلو میں پیش آئی تھی جس پر ہم قسط نمبر 5 میں بات کریں گے ۔
( جاری ہے ۔ باقی قسط نمبر 5 )

Back to top button