اپر چترالچترالیوں کی کامیابیخبریںسماجیسیاست

”سردار حسین شاہ، جن یا انس“( تیسری )

شمس الحق قمر

میری ڈائری کے اوراق سے

 

دوسری قسط میں کہانی سردار صاحب کے گدھے کے گردگھوم رہی تھی۔ گدھے کو اپنے گھر لانے کے بعد سردار صاحب اپنے آپ کو علاقے کے اُن معتبر شخصیات کی صف میں دیکھنے لگے جو سوا ری کےلئے گھوڑے رکھتے تھے ۔ چنانچہ ساہوکاری و مزدوری کا خیال ذہن سے یکسر نکل گیا۔ کیوں کہ سردار ایک ایسا آدمی تھا جو وہ چاہتا کر جاتا اور جو وہ چاہتا وہ ہو جاتا ۔ وہ متبادل راستہ ڈھونڈ کر اپنا کام نکال لیتا ہے ۔ بستر کی گدّی جو رات کو نیچے بچھا کر سوتے اور دن کو اُسے تہہ کرکے گدھے کے لئے زین بناتے۔ ہر کام نرالا تھا ۔  

 ایک صبح جب ہم سکول کے لیے باہر نکل رہے تھے تو میرا گدھا بے اختیار ہینگنے لگا اور ادھر اودھر سونگھ سونگھ کر زمیں سر پہ اُٹھا رہا تھا کیوں کہ اُسے کوئی خاص گند آئی تھی ۔ میرے گدھے کا یہ رویہ غیر معمولی تھا ۔ اتنے میں میرے گھر کے اوپر والی گلی جو کہ عام گزر گاہ ہے ، سے اس سے بھی زور دار اور بے ہنگم آواز میں کوئی گدھا ہینگننے لگا۔ ہم باہر نکلے سردار صاحب کچھ اس حلیے میں اپنے گدھے پر سوار تھے ۔ گدیلے کی زین ، گائے کی باریک تراشی ہوئی کھال کا عنان ، چار پائی کے پرانے مگر گیلے بان کے بنے رکاب ، سکول کی ٹوپی کی جگہ سر پر قراقولی ٹوپی ، پرانا مگر اصلی چمڑے والا چابک ، گدھے کی دُ م کے عین اوپر پرانی اونی چترالی ٹوپی کا بنا کھلا منہ والا بستہ ۔

ہم نکلے اور سردار کے پیچھے ہو لئے۔ سکول پہنچتے پہنچتے سردار کے پیچھے سکول کے بچوں کا جم غٖفیر جمع ہوا تھا۔ علی شیر خان ( چریلو مرحوم ) استاد ہمارے ڈرل کا استاد ہوا کرتے تھے اتنا سخت مزاج کہ ہم تو ہم اُن کے سامنے جنگل کا باد شاہ بھی گھٹنے ٹیک دے۔ ڈرل ماسٹر کو جب یہ معلوم ہوا کہ طلبہ اسمبلی میں آنے کے بجائے سردار کی سواری دیکھ رہے ہیں تو استاد سکول کی چار دیواری کے پیچھے لڑکوں کے ہجوم کی طرف لپکے استاد کے کے یہاں پہنچتے پہنچتے لڑکے مارے ڈر کے رفو چکر ہوئے تھے ۔ میں بھی سکول سکول اسمبلی کی طرف دم دباکے بھاگ نکلا۔ بھاگتے بھاگتے ڈنڈے کی ایک شدید ضرب میری کمر سے قدرے نیچے پڑی تو میں نے نچلا دھڑ ایک ساعت کے لئے اندر دبا دیا اور استاد کی ضرف کاری سے اپنے ملیشیا کپڑوں کے گردو غبار میں لڑھکتا ہوا اسمبلی کی راہ لی ۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ سردار کی تو خوب دھلائی ہو چکی ہوگی ۔ بعد میں، میں نے سردار سے پوچھا تو بولے کہ ڈرل استاد نے گدھے کو مارا تھا ۔بہر حال اُس راز کا پتہ نہ چل سکا کہ استاد نے گدھے کو مارا تھا یا گدھے کے مالک کو، بات ایک ہی تھی ۔ میں جب اُس ہجوم سے سکول کی طرف بھاگے جا رہا تھا تو ڈرل ماسٹر کا ایک جملہ ضرور سنا دیا تھا ” تم کیا کم ہو کہ اِسے بھی ساتھ لائے ہو “ شاید یہ کہتے ہوئے استاد سردار کو پیٹ رہا تھا بہر حال اس واقعے کے بعد سردار صاحب نے گدھے کو اپنے ساتھ سکول لانا بند کیا البتہ سکول سے گھر جانے کے بعد سردار کو جہاں جانا ہوتا گدھے کی سواری فرماتے۔ سکول کے علاوہ نجی سفر میں سوار کا حلیہ یہ تھا کہ ملیشیا کپڑوں میں ملبوس زین کی ایک طرف پانی کی بوتل (جسے ہم ٹوکری کہتے تھے جو کہ چترال سکاؤٹ سے پنشن آنے والے لوگ اپنی جمع پونجی کے ساتھ لایا کرتے تھے) لٹکی ہوتی اور دوسری طرف ایک تھیلا ہوتا اُس میں پڑھنے کےلئے کتاب رکھتے، نیفے میں ربڑ کی غلیل ایک ہاتھ میں دیسی چابک اوپر پرانی قراقلی ٹوپی۔ ہماری عمر کے بچے اُن سے بہت ڈرتے تھے ۔ چڑیوں کے شکار سے لیکر کھیل کود تک بے چارہ گدھا ساتھ ہوتا ۔ آخر کار سن 1984 کو میٹرک پاس کرنے کے بعد اپنی شاہی سواری بلند خان  کو بیچ کر بے چارے کی جان چھڑا دی اور خود کراچی فرار ہو گیا۔ کراچی سے عرصہ دو سال کے بعد واپسی اور میری اُن سے دوبارہ ملاقات کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے ۔ 

( جاری ہے ۔ قسط نمبر 4 میں ملاحظہ کیجئے )

Back to top button