ٹیکنالوجیسیاست

الیکشن ریفارم

کمال کامل

الیکشن ریفارم اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا خان صاحب کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔جو لوگ 1970 کے انتخابات کے علاوہ تمام انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دینا اور ہر انتخابات کے بعد ایک دوسرے کو مختلف القابات سے نوازنا ایک معمول بن چکا ہے۔اس سے جمہوری روایات اور ادارے کمزور ہو جاتے ہیں۔جو بھی ہار تا ہے اسکو پتہ ہونے کے باوجود الیکشن کو دھاندلی زدہ کہہ کر دوبارہ امیدیں باندھتا ہے۔ان روایات کو ختم ہونا چاہیے۔دور جدیدمیں ٹیکنالوجی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ہمارے جیب میں موبائل سے لیکر کھانے پینے،سفر کرنے اور پہنے کے اشیاء ٹیکنالوجی کی مرہون منٹ ہے۔جس طرح ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب برپا کر رکھی ہے۔

اگر ایک دن میں پورے پاکستان میں الیکٹرانک مشین کے ذریعے انتخابات انعقاد کرنے کا سوال ہو۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔کہ یہ ایک مشکل کام ہوگا، کہ ایک ہی دن پورے پاکستان میں الیکشن منعقد ہوسکے ۔لیکن اگر مرحلہ وار بھی ہوجائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ۔رہی بات اپوزیشن کی تو اپوزیشن کا کام ہی گورنمنٹ کو ٹف ٹائم دینا ہوتا ہے،بہت کم ایسے کام ہوتے ہیں کہ دونوں متفق ہوں۔اس میں کچھ سیاستدان ڈرے ہوئے ہیں،کہیں الیکٹرانک ووٹنگ مشین ان کا کام ہی تمام نہ کردے۔اندرونی سندھ سے لے کر جنوبی پنجاب سے ہوتے ہوئے بلوچستان اور کے پی کے کچھ علاقوں میں ووٹنگ شفاف ہوتے ہیں یہ صرف بات کی حد تک درست ہے۔یہ واقع میں ان لوگوں کیلئے ہضم کرنا مشکل ہوگا۔باقی کچھ ہمارے دوستوں نے رٹ لگا رکھی ہے۔کہ اسکو ہیگ کیا جاسکتا ہے۔جب تک کوئی چیز انٹرنیٹ سے ربط میں نہ ہو تو اسکو ہیک کرنا کوئی آسان کام نہیں۔یہ پاکستانی آئی ٹی سپیشلسٹ کا اپنا بنایا ہوا مشین ہے۔جسکا انٹرنیٹ سے کوئی کام ہی نہیں ہے۔اور ساتھ ساتھ تھرڈ پارٹی ویریفائڈ مشین ہے

 دنیا کے جن ممالک میں ووٹنگ کیلئے ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے۔ان میں اسٹونیا 2005 سے،نمیبیا میں 2014سے، انڈیا میں 1998 سے، فلپائن میں 2010سے، برازیل میں 2000 سے، منگولیا 2010 سے، امریکا 1960 سے، کرغزستان میں ،عراق 2018 سے باقاعدگی سے الیکشن میں استعمال ہوتے ہیں۔جن ممالک میں جزوی طور پر استعمال ہوتے ہیں ،ان میں کینیڈا، بیلجیئم، فرانس، روس ،ایران اور ارجنٹینا شامل ہیں ۔اب جن ممالک میں ازمائش میں ہیں ان میں انڈونیشیا، بنگلہ دیش، بلغاریہ اور ناروے شامل ہیں ۔اب جن ممالک میں ان مشین کو استعمال کرنا چھوڑ دیا ہیں ان میں ائیر لینڈ ،پیراگوئے، نیدرلینڈز، جرمنی شامل ہیں۔جن ممالک نے استعمال کرنا چھوڑ دیا ہیں ان میں کہیں بھی دھاندلی یا ہیک کا کی ڈر سے ختم کئے، کہیں بھی ثابت نہیں ہوئے۔جرمنی میں کورٹ نے اس سسٹم کو معطل کئے رکھا ہے۔باقی اگر دیکھے جائے تو دنیا کے ترقی پذیر ممالک الیکٹرانک ووٹنگ کی طرف آرہے ہیں ۔آخرکار یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم ٹیکنالوجی سے انکار نہیں کرسکتے ہیں۔اس میں خامیاں ہوسکتے ہیں۔لیکن وہ آپس میں مل کر ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ارتقا کے عمل سے ہی ہر چیز میں پختگی ممکن ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ خان صاحب نے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے کر ان سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا۔جوکہ ایک نیک شگون کام ہے۔اس چیز سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے ،کہ سمندر پار پاکستانیوں کا اس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں خاطرخواہ حصہ شامل ہیں۔سمندر پار پاکستانی دن رات محنت کرکے خاطیر رقم ڈالر کی صورت میں بھیجتے ہیں۔جو ملک کی اکانومی کو بحال رکھنے میں اہم کردار ادا رہے ہیں۔پچھلے مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے خاطیر 2۔24 بلیں ڈالر بھیجے جو ملک کی بیلنس آف پیمنٹ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔پاکستان جیسے ملک جسکی ایکسپورٹ مشکل سے 4۔28 بلیں ڈالرز ہوں،اور امپورٹ 50 بلین ڈالرز ہوں،تو خدانخواستہ اگر ہمارے سمندر پاکستانی یہ خاطیر رقم نہ بھیجتے ۔تو آپ خود اندازہ لگالیں ہمارے اکانومی کا کیا حال ہونا تھا۔بتانے کا مطلب خان صاحب نے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے کر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ ان کا ہمارے اوپر احسان کا بوجھ تھوڑا ہلکا ہوگا۔

تیسری بات گلبھوش کا معاملہ ہے۔جو کہ اس وقت انڈیا کی طرف سے انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے جایاگیا تھا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے دونوں فریقین انڈیا اور پاکستانی وکلاء کے پینل کو سننے کے بعد ریمارکس میں پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا تھا اور ساتھ ساتھ پاکستان کوکچھ ریکامینڈیشن دئے تھے کہ وہ گلبھوشن کو سفارتی رسائی دے دیں۔انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ایک ذمہ دار ممبر کی ممبر کی حیثیت سے ہم ان کے ریکامینڈیشن ماننے کے پابند ہیں۔ورنہ انڈیا ہمارے خلاف اسکو ایک آلہ کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔سفارتی رسائی کا مطلب کھبی بھی یہ نہیں کہ انکو رہا کیا جائگا۔سفارتی رسائی کا مطلب ان کے ملک کے سفارت کا ان سے ملاقات کر سکیں گے۔باقی وہ ایک سزا یافتہ ملزم ہے۔

عجلت ہی صحیح ملک میں ریفارم کی طرف پہلا قدم اٹھایاگیا ہے۔ مستقل قریب میں مختلف ڈیپارٹمنٹس میں ریفارمز سے فائدہ صرف عوام کو ہی ہوگا۔جس طرح الیکشن کے مشکل ترین مراحل کو ایک آنگوٹھے کی کلیک کے ذرائع آسان بنایا گیا ہے۔اسی طرح مستقبل میں عدالتی نظام ،صحت کے نظام ،تعلیم کے نظام،پولیس کے نظام اور دوسرے اداروں میں جدید دنیا کے ضروریات کے مطابق ریفارمز کے ذریعے عوام کے لئے مزید آسانیاں پیدا ہونگے۔

Back to top button