اپر چترالپولوکالم نگارکھیل

چترال میں شکیل دورانی کے بعد پہلا مثالی ڈپٹی کمشنر محمد علی

شمس الحق قمر

میری ڈائری کے آوراق سے

میں اگر کہوں کہ محمد علی کو اپر چترال کے لیے ڈپٹی کمشنر تعینات کرنا حکومت وقت کا اپر چترال پر بڑا احسان ہے تو بے جا نہیں ہوگاتاہم لوگ اس سے مطلب ضرور تراشیں گے لہذا میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میرا کسی سرکاری کوتوال یا کسی سیاسی ہرکارے سے کوئی مراسم نہیں البتہ چیزیں جیسی نظر آتی ہیں ویسی دکھانے کی ہمت باندھتے ہیں ۔ مجھے یاد ہے ہم جب چھوٹے ہوتے تھے تو چترال میں شکیل درانی نام کا ایک ڈپٹی کمشنر وارد ہوےتھے ۔ اُن کا نام آج بھی چترال میں میری عمر یا میری عمر سے بڑے لوگوں کے یہاں زبان زد خاص و عام ہے ۔ موصوف جب اپر چترال آتے تو بستی کے لوگ خوشی سے پھولا نہ سماتے ۔ یہ لوگوں کو ایک دوسرے سے ملانے کا ایک بہانہ اور ایک ذریعہ بن کر آتے ۔ دن کو پولو کا میچ ہوتا اور رات کو چترالی دھول کی تھاپ اور سرنائے کی لے پر رقص و سرود کی محفلیں ۔

موصوف چترال کے لوگوں کی طرح پولو کے بڑے شوقین تھے ۔ جب بھی بونی پولو گراؤنڈ تشریف لاتے تو لوگ شکیل درانی زندہ باد کے فلگ شگاف نعروں سے اُن کا استقبال کرتے ۔ ایسا معلوم ہوتا جیسے ملک کا وزیر اعظم آئے ہیں ۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ یہاں کے لوگوں کے گھروں میں مہمان ٹھہرتے یا نہیں لیکن بونی کی تمام قد آور شخصیات سے اُن کی گہری شناسائی تھی جن میں حیدر احمد حیدر (سابق وزیر تجارت ریاست چترال ) بابا خلیفہ صوبیدار ( مرحوم) صوبیدار نازک ( مرحوم ) بابا محمد دبور ( مرحوم ) وغیرہ اُن کے ہالے میں ہمیشہ نظر آتے تھے ۔ شکیل صاحب نے جو سب سے بڑا کا م کیا وہ اُن کا چترال کے لوگوں کے لیے امن و امان کا درس تھا ۔ وہ جب تک یہاں رہے لوگوں کو اپنے خلوص کے دام میں پھنسا ئے رکھے ۔ ہم نے لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ شکیل درانی بلا تفریقِ مسلک ، علاقہ ، زبان اور عمر سب کو اُن کے ظرف کے مطابق عزت دیتے ، احترام کرتے اور کرواتے ۔ ایک مرتبہ بونی کے پولوگراؤنڈ میں انہوں نے مجھ سے بھی ہاتھ ملایا تھا ، آج تک یاد ہے ۔ یار باش اور عوامی آدمی تھے ایک اور واقعہ جو آج تک یا د ہے وہ یہ کہ ایک پولو ٹور نامنٹ کے دوران مسل خان پولو گراؤنڈ میں وارد ہوئے ۔ مسل خان زنانہ بھیس میں آئے تھے ۔

ایک خاکی رنگ کی تنگ پتلوں اوپر نیلون کی جسم کے ساتھ چپکنے والی زنانہ بنیان اور سینے کی دونوں اطرف روئیاں ٹھونسنے سے دل لبھانے والا نسوانی ابھار ، بالوں کے لٹ کے اوپر کالے چسموں بینڈ مخمور آنکھیں اورسر پر کاؤ بوائے والی ہیٹ ایک فلمی حلیے میں بونی جنالی میں نازل ہوئے ۔

مسل خان کے پرستار وں کے علاوہ جتنے بھی من چلے اور موجود تھے سب نے اتنی بے تحاشا تالیاں بجائیں کہ اسٹیج پر موجود تمام لوگ ایک دوسرے کو دھکیل کر کھڑے ہو ہو کے مسل خان کو دیکھنے لگے اتنے میں مسل خان ایک خاص لجاجت سے نسوانی چال چلتے ہوئے چبوترے کے سامنے سے سے گزرنے لگے تو شکیل درانی سے رہا نہ گیا ۔ اسٹیج سے اتر کر مسل خان سے گلے ملنے نیچے گراونڈ میں آئے تو اُن کے ساتھ بونی کے تمام معتبرات نیچے آئے اور مسل خان سے باری باری ملنے لگے ایسا لگا جیسے یہ لوگ کسی دوسرے ملک کے سفر کو خوش آمدید کہ رہے ہوں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے کہیں کوئی اشارہ ہوا ، سرنائے پر تیز دھن چلی تو آگے مسل خان پیچھے شکیل درانی اور اس کے پیچھے بونی کے تمام معتبرات ناچنتے لگے ۔ ۔

یہ تھی شکیل درانی کی کہانی جو ہم نے دیکھی تھی ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد علی اور سابق ڈپٹی کمشنر چترال شکیل درانی میں کیوں کر ایک نسبت نظر آتی ہے بلکہ محمد علی ایک بالشت آگے کیوں ہیں ؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں تھوڑی تمہید باندھنی ہوگی ۔

     انتظامیہ کا مطلب کسی علاقے کے انتظام انصرام کو کچھ اس ادا سے چلا نا کہ سانپ اور لاٹھی دونو ں پر کوئی آنچ نہ آئے ۔ کوئی فرد اُس وقت تک کسی گھر ، دفتر ، گاؤں ، ضلع، صوبہ اور ملک کے لیے ایک بہترین منتظم ثابت نہیں ہو سکتا / سکتی جب تک کہ وہ اپنے دائرہ کار میں موجود باسیوں کے مزاج سے مانوس نہ ہو، اُن کی عزت نفس کا خیال نہ رکھے ، ا ُن کے دکھ میں دکھی نہ ہو ، اُن کے درد کو اپنے سینے میں محسوس نہ کرے اور اُن کی خوشیوں میں شریک نہ ہو ۔ محمد علی صاحب نے جب سے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے اپر چترال کی بھاگ ڈور سنبھالی ہے تب سے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ چکی ہے ۔ موصوف کے بارے میں آپ از راہ تفنن ہی کسی سے استفسار کیجئے تو بھی آپ کو اُ ن کے بارے میں خوش آئند اور مثبت جواب ملے گا ۔ اپر چترال میں کوئی غمزدہ خاندان ایسا نہیں جہاں تعزیت کےلئے یہ آدمی نہ گیے ہوں۔ سکولوں کی تقریبات میں جاکر طلبہ کی دلجمعی و حوصلہ افزائی سے لیکر مریضوں کی عیادت تک کی سرگرمیاں موصوف کے دفتری فرائض کے علاوہ ہیں ۔ ضلعے کا ڈپٹی کمشنر بے حد مصروف جوابدہ آدمی ہوتا ہے جنہیں دن رات مستعد رہنا پڑتا ہے ۔ ایسے میں یہ آدمی دفتر سے گھر جاکے ڈھیر ہونے کے بجائے اگر اپنا ذاتی وقت باقی لوگوں کی نذر کرتا ہے تو اُس سے بڑ ا آدمی میری نظر میں کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اُنہوں نے علاقے میں امن قائم کرنے کےلیے بہت سارے قوانیں نہیں بنائے ہیں صرف ایک قانون ہے اور وہ ہے اُس کی اپنی مقناطیسیت کہ جس کی وجہ سے لوگ اُن سے چپک گیے ہیں ۔ اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی اُن کی محبتوں کی لکیر کو پھلانگ کر قانون شکنی کرے ۔

کسی علاقے کی ترقی کےلیے یہ ضروری نہیں کہ کوئی ذمہ دار آدمی جیب سے یا ادارے سے ایک دو روپے لاکر پل بنائے یا ایک سکول بنا کے اپنے آپ کو اپنے فرائض سے سبکدوش سمجھے بلکہ ایک علاقہ صحیح معنوں میں ترقی کے زینے اُس وقت چڑھنا شروع کرتا ہے جب باہر سے لوگ آپ کے علاقے میں آئیں ، سیرو سیاحت کو فروع ملے ، آپ کے ہوٹل چل پڑیں ، دکانوں میں سودے سلف ہو ں، آپ کے کھیت کی سبزی بکے ، آپ کی ٹکسی چلے ۔ یہی کچھ اپر چترال میں محمد علی صاحب کی آنتھک کاوشوں اور دور اندیشی سے واقع ہو رہا ہے ۔ حال ہی میں اپر چترال کے مرکز بونی میں دو بڑے ایونٹ ہوئے جن میں پیرا گلائڈنگ کے قومی سطح پر قاقلشت میں ہونے والے مقابلے اپر چترال کی تاریخ کا حصہ بنے کہ جس کی خبر پوری دنیا کی میڈیا میں بریکینگ نیوز کے طور پر سنسنی پھیلاتی رہی ۔ توقع کی جاتی ہے کہ اگلے سال کسی موزوں وقت پر یہ مقابلے بڑے پیمانے پر ہوں گے جس میں بہت ممکن ہے کہ بین الاقوامی ٹیمیں بھی حصہ لیں گی اور اس کا سہر ا اپر چترال کے ڈپٹی کمشنر کے سر ہمیشہ کےلیے سجے گا ۔ یہ مقابلے بین الاقوامی سطح پر اگر شہرت کے حامل رہے تو پاکستان کے شعبہ سیر و سیاحت کو بین الاقوامی پائیلٹوں کی میزبانی کا اعزاز بھی حاصل ہو گا جس سے بڑے پیمانے پر زر مبادلہ کی توقع کی جاتی ہے ۔ دوسرا بڑا ایونٹ بونی میں ڈپٹی کمشنر پولو کپ ٹورنامنٹ کا تھا جس میں گلگت سے ضلع غذر یاسین کی ٹیم نے بھی حصہ لیا ۔ یہ ٹورنامنٹ گلگت اور چترال کے مابیں دوستی کے ہاتھ بڑھانے کے ایک عظیم سلسلے کی پہلی کڑی تصور ہوتی ہے جس کا سہرا بھی محمد علی صاحب کے سر سجتا ہے 

    میں اگرچہ چترال میں مقیم نہیں ہوں تاہم ( کے پی کے ) کی صوبائی حکومت سے یہ اپیل ضرور ہے کہ اس ڈپٹی کمشنر کی مدت خدمات میں کچھ سالوں کی مزید توسیع کر کے ا ِنہیں چترال کی خدمت کا موقع دیا جائے تو شاید یہ نیا ضلع ترقی کی راہوں پر جلد گامزن ہو پائے گے ۔

Back to top button