اپر چترالکالم نگار

ملازمین کے تبادلے کا سلسلہ

طاہر الدین شادان

 

آج کل اپر چترال والے ملازمین کو اپر چترال ٹرانسفر کروانے کے لئے کچھ لوگ ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں اس سلسلے میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں سیاسی قیادت نے یکطرفہ طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم اپر چترال کے تمام ملازمین کو ٹرانسفر کروائے بغیر سکھ کا سانس نہیں لیں گے۔

حالانکہ سیاسی قیادت کو اس سلسلے میں فریقین کا موقف سننے کے بعد کوئی بیان جاری کرنا چاہئیے تھا۔  

اس سلسلے میں سیاسی قیادت انتظامیہ اور متعلقہ ادارے کو سنجیدگی سے غور کرکے کوئی فیصلہ صادر کرنے کی ضرورت ہے جذباتی بیانات سے دو اضلاع کے مابین تلخیاں پیدا ہوں گی ۔

میرے حساب سے اس سلسلے میں ڈومیسائل اور سکونت کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ پہلے ہونا چاہئیے ۔ کہ ضلع چترال کے ڈومیسائل کے حامل ملازمین کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے اور اپر لوئیر چترال میں کسی ایک ضلع کا ڈومیسائل رکھنے والے ملازمین کے لئے کیا فیصلہ ہونا چاہیے۔

اصولاً جو لوگ تقسیم سے پہلے ملازمت حاصل کر چکے ہیں وہ قانونا چترال کے ڈومیسائل کے حامل ہیں لہذا ان کے خلاف یہ تحریک بے سود ہے البتہ اپر چترال کے ڈومیسائل والے ملازمین کو بہرحال اپر چترال از خود چلے جانا چاہئیے اور لوئیر والے ڈومیسائل کے حامل لوئیر میں رہے ۔ 

دوسری بات لوئیر چترال میں مستقل طور پر رہائش پذیر ملازمین کو جبراً اپر چترال ٹرانسفر کرنا قانون اور عقل دونوں سے بالاتر ہے کہ کسی شہر میں مستقل رہائش پذیر شہری کو یہ کہ کر شہر سے نکالنا کہ آپ کی پیدائش اس شہر میں نہیں ہوئی یا آپ کے باب دادا دوسرے شہر سے آئے تھے یہ کسی طور پر قابل قبول نہیں ۔

ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو اپر چترال میں اپنی جائیدادیں فروخت کرکے لوئیر چترال میں کئی سالوں سے مقیم ہیں بہت ساروں کے ڈومیسائل اور شناختی کارڈ بھی لوئیر چترال کی ہیں ایسے میں یہ تعین کون کرے گا کہ کس طرح کے ڈومیسائل والے کو بھیجنا چاہئیے اور کس کو رکھنا چاہئیے۔ 

دوسری بات سکونت کا ہے سکونت کے حوالے سے اس بات کا تعین کون کرے گا کہ لوئیر چترال میں کتنے سے سال مقیم افراد لوئیر چترال کے باشندے شمار ہوں گے ؟ کیا پندرہ بیس تیس سال سے یہاں آباد ملازمین بھی ابھی تک لوئیر چترال کی شہریت سے محروم ہیں ؟؟ 

اس مسلے کو اگر مزید چھیڑا گیا تو یہ بات ملازمین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ اپر چترال سے لوئیر چترال منتقل ہونے والے ہر فرد کا مسلہ بنے گا یوں صرف ملازمین ہی نہیں بلکہ اپر سے لوئیر منتقل ہونے والے لاکھوں افراد عدم تحفظ اور بنیادی حقوق سے محرومی کے خلاف سراپا احتجاج ہوں گے کیونکہ لوئیر چترال کے کچھ لوگ اپر والوں کے ساتھ وہ سلوک کرنا چاہ رہے ہیں جو برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا گیا ۔ عشروں سے یہاں مقیم افراد کو ان کے گھروں سے نکال کر پھر اپر چترال جبرا بھیجنا کسی بھی زاویے سے درست نہیں لگتا اس لئے اس مسلے کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ تمام پہلوں پر غور کرکے حل کرنے کی ضرورت ہے بصورت دیگر اس مسلے کا قانونی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دیگر اضلاع میں دوسرے اضلاع سے آکر مقیم اور مستقل رہائش رکھنے والے ملازمین کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری حکم نامہ یا قانونی نوٹس جاری ہوا ہے کہ نہیں اگر نہیں تو صرف چترال میں کیوں ؟ 

مجھے امید ہے کہ چترال کے دانشوراں آپس میں مل بیٹھ کر اس مسلے کا کوئی قابل قبول حل نکالیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button