کالم نگار

سوشل پروپگنڈہ ٹیمیں۔

میڈیا کی دنیا میں یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر،اور انسٹاگرام وغیرہ کی شکل میں سوشل میڈیا نے جب آنکھ کھولی تو یہ سوچ کر ہم خوشی سے نہال ہوئے تھے

 

نثار احمد

تلخ و شیریں

 

میڈیا کی دنیا میں یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر،اور انسٹاگرام وغیرہ کی شکل میں سوشل میڈیا نے جب آنکھ کھولی تو یہ سوچ کر ہم خوشی سے نہال ہوئے تھے کہ اب پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی دادا گیری مزید نہیں چلی گی۔ خیال یہی تھا کہ اب کسی خبر سے قاری کو دانستہ لا علم رکھا جا سکے گا اور نہ ہی خبر کو من پسند پہلو کی طرف موڑ کر واقعیت کا گلہ گھونٹا جا سکے گا۔ خوش فہمی یہی تھی کہ اب سنسنی خیزی کے لئے جھوٹی خبریں پھیلا کر عوام کو "گمراہ” کیا جا سکے گا نہ ہی حالات واقعات کی کوکھ سے پنپنے والی تاریخ کا چہرہ بری طرح مسخ کیا جا سکے گا۔ تب احساس ہی نہیں تھا کہ سوشل میڈیا ایسے گلے پڑے گا کہ مین اسٹریم میڈیا والے فرشتے معلوم ہوں گے۔ تب اندازہ ہی نہیں تھے کہ سوشل میڈیا میں نوجوان جھتے بنا کر "سوشل میڈیا ٹیم” کا عنوان قائم کر کے جعلی خبریں گھڑ کر عزت دار لوگوں کی ایسی پگڑیاں اچھالیں گے کہ سنسنی خیزی پھیلانے والے مین اسٹریم میڈیا کے معدودے "پروپگنڈہ باز” حاجی ثناء اللہ دکھائی دیں گے۔
جون جون سوشل طاقت پکڑتا گیا توں توں مذہبی گروہوں اور سیاسی جماعتوں نے "پروپیگنڈے” کے لئے اس پر انحصار کرنا شروع کیا۔ اس کی اہمیت کے پیشِ نظر ہر پارٹی نے سیاسی جنگ کے لئے مرکزی میدان اسے ہی بنانے پر زور صرف کیا۔ حتی کہ وزیر اعظم تک کے لیے مشیر برائے ڈیجیٹل میڈیا کا تقرّر ہی لازمی نہیں سمجھا گیا بلکہ باقاعدہ پیڈ ٹیمیں بھی تشکیل دی گئیں۔
بات جماعتی پروگرامات و خدمات کے کی ابلاغ و تشہیر کے لئے سوشل میڈیا کا سہارا لینے تک محدود رہتی تو قابلِ گوارا ہی نہیں، قابلِ تحسین بھی ہوتی۔ رویّہ اِبلاغ کے اس اہم ذریعے کو اپنی پارٹی کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے مثبت استعمال کا ہوتا، تو ہرگز قابلِ تشویش نہ ٹھہرتا لیکن معاملہ آگے بڑھ کر سیاسی مخالفین کی باجماعت تضحیک، بلا ثبوت کردار کشی، فضول الزام تراشی اور ناجائز تہمت تک چلا گیا۔ موبائل اٹھا کر مخالفین کی عزت کا فالودہ بنانا اب گناہ کا کام سمجھا جا رہا اور نہ ہی اخلاقی اعتبار سے قابلِ مذمت۔
جس سوشل میڈیا کی آمد کے بعد یہ امید پیدا ہو چلی تھی کہ اب حقیقی صورت حال تک رسائی زیادہ مشکل نہیں ہو گی۔ کبھی کبھار اُسی سوشل میڈیا پر اصل خبر تک پہنچنا جُوئے شِیر لانے کے مترادف دکھائی دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جگہ گھیری ہر خبر اب اصلی نہیں لگتی۔ اس کے اصلی اور نقلی ہونے کو سمجھنے کے لئے مزید محنت کرنی پڑ رہی ہے۔ جب تک خبر کے جعلی ہونے کا ثبوت فراہم ہوتا ہے تب تک وہ خبر رائے عامہ کو اچھی خاصی متاثر کر چکی ہوتی ہے۔ صرف چند افراد نہیں، سیاسی جماعتوں کی چھتری تلے اب باقاعدہ طور پر سوشل میڈیا ٹیمیں اس کار ِ شر میں مصروف نظر آ رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں فیس بُک اور ٹویٹر پر جابجا اپنے ممدوح لیڈروں کو سپورٹ کرنے کے لئے حقائق کا قتلِ عام کرتے نظر آتی ہیں۔
سوشل میڈیا ٹیم سے وابستہ ان نوجوانوں کو چونکہ اپنے لیڈر کا مرتبہ ہی بلند رکھنا ہوتا ہے، اور اپنی سیاسی پارٹی کو نجات دہندہ ثابت کرنا ہوتا ہے اس لئے ان کی واحد سرگرمی اپنی پارٹی کے درست و غلط کو جواز کا پیراہن اوڑھانا ہوتا ہے اس قبیح مقصد کے حصول کے لئے یہ پروپگنڈ ٹیمیں گوبر کو حلوہ تک باور کرانے سے باز نہیں آتیں۔ مفت میں اندھے حمایتی میڈیا میں موجود ہوں تو سیاسی پارٹیاں ڈیلیور کیوں کریں؟ سو ان پارٹیوں کے رہنما بھی انتخابات کے موقع پر ہی بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ میدان میں نظر آتی ہیں۔ انتخابات کے ایام کے علاوہ انہیں عوام اور عوامی مسائل کی زیادہ پروا نہیں ہوتی۔ ان سیاسی لیڈروں کو عوام کے مسائل حل کرنے اور لوگوں کو ریلیف پہنچانے سے زیادہ ان ذیلی پروپگنڈہ ٹیموں کو مطمئن رکھنے کی فکر ہوتی ہے۔ اپنے خرچے پر کیس کرنے والے مُفت کے وکیل دستیاب ہوں تو مؤکل کو کیا پڑی ہے کہ ہاتھ پیر ہلا کر کچھ کرنے کی مشقت جھیلے۔ سو مؤکل کچھ بھی نہیں کر رہا اور وکلاء مسلسل لگے ہوئے ہیں۔
ان ٹیموں کے منہ زور پروپگنڈے کی برکت سے اب سچ اور جھوٹ میں تمیز بھی مشکل ہو رہا ہے۔ یک طرفہ مسلسل پروپگنڈے کے زریعے سوشل میڈیا میں موجود یہ کارکن سیاسی مخالفین کے اچھے اچھے کاموں کو بھی دھندلانے میں ناکام نہیں ہوتے۔ ان کی بدولت اب سب سے قابل ِ تشویش صورت حال ہی یہ بنی ہے کہ زیادہ تر لوگوں کو اچھے کام بُرے اور بُرے اچھے دکھائی دے رہے ہیں۔ سماج کا ایک بڑا حصّہ اب درست کو غلط اور غلط کو درست سمجھنے لگا۔ یہ صورت حال یقیناً الارمنگ ہے۔ ہر درد ِ دل رکھنے والے پاکستانی کے لئے، ہر باشعور شہری کے لئے۔۔۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایسے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو خود کو اس مذموم فعل کا حصّہ بنا رہے ہیں۔ کم از کم اگر دانشور سمجھے جانے والے ہمارے دوست احباب بھی اس روش پر تنقید کر کے اپنے زیرِ اثر نوجوانوں کو اس سے روکنے کی کوشش کریں گے تو کسی نہ کسی حد تک اس سیلاب کے آگے بند باندھا جا سکے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button