اپر چترالتعلیمچترالیوں کی کامیابیسیاستمستوج

”سردار حسین شاہ، جن یا انس“ (دوسری قسط)

شمس الحق قمر

میری ڈائری کے اوراق سے
 

سردار کی ہر حرکت دوسروں سے مختلف ہوا کرتی تھی ۔ سردار کا طریقہ واردات بچپن ہی سے عام آمیوں سے مختلف تھا۔ ہم جب سکول میں تھے تو سردار ہم سے دو جماعت آگے تھے۔ یہ مجھ سے بڑے تھے لیکن میں اُن کے حلقہ احباب میں شامل تھا ۔ توراتوں کو ہماری بیٹھک ہوتی، فضول کی رتجگے کرتے ، تاش کھیلتے یا بے سرُ کی موسیقی گاتے اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کے نام پر اُچھلتے رہتے۔ آپ جناب کو گانے یاد ہونا عام بات تھی اُن کی یاد داشت بچپن سے ہی اتنیمضبوط تھی کہ مثنوی ِمولانا رومی کے بے شما راشعار یاد تھے ، پڑھتے ہوئے ہمار ے لیے ترجمے بھی فرمایا کرتے لیکن جب ترنم سے پڑھنے کی کوشش کرتے تو سارا مزہ کر کرا ہو جاتا ۔ تمام پرانے گانوں کے بول اُسے یاد تھے ۔ گانوں کے بول اشعار کی صورت میں سناتے تو بار بار سننے کو دل کرتا کیوں آپ نپے تلے رموز و اوقاف کے ساتھ اشعار کچھ اس انداز سے پڑھتے کہ تشریح خود بخود سمجھ آتی لیکن جب ترنم پہ اُترتے تو ذہن پر ہر شعر گراں گزرتا ۔ آپ کو عام انسانوں سے بہت مختلف کہا جا سکتا ہے اگرچہ یہ بہت بڑی بات ہے لیکن یہ بڑی بات کہنے پر میں اس لیے حق بجانب ہوں کہ ہم نے اپنے بچپن میں آپ کے لڑکپن کو قریب سے دیکھا ہے ۔

۔ موصوف اپنی ہر دُھن کا پکا لڑکا تھا، جس کام کے لئے کمر کستے اُسے اُس کی پوری خوبیوں کے ساتھ مکمل کرکے دم لیتے ۔ زندگی کے دم خم کے تمام اکھاڑے آزمائے اور کامیاب ہوتے رہے۔ کسی فن کا آنا نہ آنا آپ کے لئے معنی نہیں رکھتا تھا ، آپ کی نظر میں دنیا میں کوئی بھی کام ایسا نہیں ہے جو ایک انسان نہ کر سکے۔ پرانے وقتوں کی بات ہے ہم جب سکول میں تھے تو سکول اسمبلی میں اعلان ہوا ”یارخون بالا سے کسی شخص کا ایک بے لگام اور خطرناک گھوڑا جو کہ انسانوں پر حملہ آور ہوتا ہے، اپنے مالک پر حملہ کرکے اُسے بُری طرح سے گھائل کرنے کے بعد لگام توڑ کے وہاں سے بھاگ کر بونی وارد ہوا ہے، گھوڑے کی رنگت سیاہ ہے، جہاں بھی نظر آئے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کی جائے“ اس اعلان کے دو دن بعد میں کھیتوں کو پانی دینے کی غرض سے گھر سے کول کی جانب نکلا توکیا دیکھتا ہوں کہ ایک سیاہ اوربے زین و بے عنان گھوڑے پر ایک لڑکا سوار ہے اور گھوڑے کو سرپٹ دوڑاتے ہوے آرہا ہے ، گھوڑا ہانپتا کانپتا سرپٹ دوڑ تا گزر گیا ، مجھ سے کوئی تیس، چالیس میٹر کے فاصلے سے گزرتے ہوے جب فاتحانہ انداز سے ”ہووپ“ بولے تو مجھ پر سواراشکار ہوا ۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ سردار حسین نے یہ گھوڑا کہاں سے پکڑا تھا اور کیسے سوار ہوا تھا۔اُس واقعے کے اُوپر ہمارے استفسار پر آج بھی جواب گول مول کر لیتے ہیں۔ کوئی بھی مشکل کام اپنے انداز سے کر لیتے ہیں لیکن پوچھنے پر کسی کو بھی آج تک خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہے ۔ یہی خوبی ہے میرے ہرجائی کی۔ ایک زمانہ ایسا آیا کہ سردار حسین نے اپنے گھر کے اندر ایک ڈبے میں دوکان کھولی، دن کے وقت یہ دوکان گھر کی چار دیواری سے باہر لاتے اور سودا گرم ہوتا اور شام ہوتے ہی یہ ڈبہ گھر کے اندر چلا جاتا ۔ اُن کی تجارت کا انداز نرالا تھا ۔ پاکستان کے نشیبی علاقوں سے گھوڑے، گدھے اور خچروں پر اشیائے خوردنی کی مختلف اشیا لاد کر پختون سوداگروں کے ٹولے ہمارے یہاں آتے اور ہمارے گاؤں میں ”ڈوک“ یا ”خولو دور“ میں پڑاؤ ڈالتے جنہیں ہمارے لوگ مقامی زبان میں ”پراچہ“ کہا کرتے۔اِن لوگوں کے کھانے میں جب دیسی اشیا ء کی ضرورت پڑتی تو گاؤں کے لوگ ٹماٹر، پیاز اور دوسری سبزیاں مفت میں اُنہیں دے دیتے اور ثواب دارین کماتے ۔ سردار حسین بھی اتنا ہی ٹماٹر مفت میں دیتے جتنے دوسرے لوگ حسب توفیق دیتے تھے لیکن یہ جناب ایک تھیلا جس میں یہ جناب ٹماٹر ،دھنیہ ، سبز مرچ اور پیاز بھر کو پراچوں کو بیج دیا کرتے یوں ثواب اور پیسہ ایک ساتھ کما کر ”پراچہ“ بھائیوں سے غلیل کے لئے ربڑ ، غلیل کے دستے ، چھوٹے چھوٹے چاقو، باجے، غبارے اور وِسل وغیرہ خریدکےاپنی ذاتی دوکان میں رکھا کرتے ۔ پراچہ بھائیوں کے بونی سے انخلا کے بعد سر دار بھائی اپنے خریدے ہوئے تمام اشیا ء میں سے ایک ایک سامان نمائش اور اشتہار کے لئے سکول لے آتے اور نتیجے کے طور پر سکول چھٹی ہوتے ہی سردار حسین کے پیچھے گاہک طلبا کا ایک تانتا بندھ جاتا اور بڑے پیمانے پر سودہ سُلف ہوتا۔ یوں سردار نے ساہو کاری میں بڑا نام پیدا کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سردار کا کاروبار چمک اُٹھا۔ دوکان ڈبے سے نکل کر الماری میں منتقل ہوئی اور الماری گھر سے نکل کر گلی کے ایک نکڑ تک آ گئی ۔ سردار صاحب کما ل کا بنیا تھے جب جاڑے کی طویل راتوں میں بہت دیر سے سونے والے لوگ بھی آٹھ بجے نیند کی آغوش میں جلے جاتے جبکہ سردار آٹھ بجے کے بعد اپنی دکان کھولتے لالٹین جلا کر کاروبار کا آغاز کرتے ۔ ، آس پاس کے گلی کوچوں میں بے مقصد گھومنے والے آوارہ نوجواں اسی دکان پر گپ شپ کے لئے آتے ، رات گئے تک ہاو ہو کرنے کے بعد سردار بھائی کی دکان بند ہوتی اور آوارہ لڑکے سردار حسین کی الماری اُٹھا کر پڑوسی کے بوسیدہ مویشی خانے(پرانو پُھرپ) میں حفاظت کے ساتھ استادہ کرتے صبح یہ دکان دوبارہ اپنی جگہ پیوست ہوتی ۔ الماری والی دوکان میں رزمرہ کے استعمال کی ہر چیز ملتی، مٹی کا تیل، ماچس، ڈالڈا، اور قلم پنسل سے لیکر چوہے مار دواؤں تک سب دستیاب ہوتا کمال کا کام موصوف نے یہ کیا تھا کہ پاپولیشن کنٹرول یعنی حمل روکنے کے کچھ عملی آوزار پالولیشن آفس سے مفت حاصل کرکے اپنی دوکان میں اونے پونے داموں فروخت کرتے اور یہ مال بڑے غباروں کے بھاؤ پہ بکتا اور بڑے پیمانے پر ان کی تجارت ہوتی ان ہی سرکاری غباروں کی بدولت دوکان کے گاہکوں میں شادی شدہ گاہکوں کا بھی بڑے پیمانے پر اصافہ ہوا ۔ ہم اُن غباروں میں منہ سے ہوا بھر کر سر کے بالوں سے رگڑتے اور دیواروں پر چسپان کرکے لطف اُٹھاتے اور سنجیدہ گاہک اُنہیں خرید کرے ہوا بھرے بغیر گھر لے جایا کرتے ۔

ایک شام میرے گھر کی لالٹین میں تیل ختم ہوا تو مجھے سردار کی دوکان سے تیل لانے کو کہا گیا۔ میں گیا اور دیکھا تو دُکان میں ایک پرکیف نشت جاری تھی کچھ لڑکے لاٹین کی روشنی میں تاش کھیل رہے تھے، کچھ اُونچے قہقہوں کی گونج میں گپیں ہانک رہے تھے اور کچھ سگریٹ کادھواں لاٹین کی دھیمی روشنی میں ناک کے نتھنوں سے نکال نکال کر ایک دوسرے کو تماشا دکھا رہے تھے۔ میں ایک بوتل یعنی ادھا لیٹر سے کم تیل خاک لے کر فوری طور پر گھر پہنچا اور جب والد صاحب بی بی سی میں ”شدھو بھائی“ کے طنزو مزاح پر منی پروگرام سنتے ہوئے اُنگنے لگے تو موقع کو غنیمت جان کر باپ کی چنگل سے آزاد ہو ا اور سیدھا سردار بھائی کی دوکان پہنچ گیا۔ یوں رات کے وقت ماں باپ کو سلا کر دوکان آنے جانے کاسلسلہ ایک عرصے تک جاری رہنے کے بعد ختم ہوا۔ زمانے کے ساتھ ساتھ سردار بھائی کی تجارت کے انداز بھی بدل گئے۔موصوف اب چھوٹے موٹے بیوپاریوں اور سوداگروں والا کام چھوڑ کر مال مویشیوں کے کارو بار میں ہاتھ ڈالا 

اگرچہ الماری والا کاروبار بھی منافع بخش تھا لیکن قرض کا سلسلہ یاروں کے حلقے کی نسبت سے اتنا بڑھ گیا تھا کہ کاروبار میں بڑے پیمانے پر مفت کے نقصان کا اندیشہ پیدا ۔ سردار بھائی چونکہ ایک دور اندیش ساہوکار تھے کاروبار میں حلقہ یاراں کی وجہ سے پیدا ہونے والے نقصان کو پھانپ کر فوری طور پر مال مویشیوں کے کاروبار کی جانب رخ کر لیا۔ الماری والی دوکان سمیٹتے ہوئے انہوں نے اپنی والدہ اور والد صاحب کو دولت سے مالامال کیا۔ ماں باپ کو مبلع پانچ سو روپے رائج الوقت اپنی بچت میں سے تھما دیا اور اُن کی خوشنودی اور دُعا حاصل کرکے دوسرے کاروبار میں ہاتھ ڈالا۔ ُاس کاروبار کی شروعات بھی بڑی دلچسپ ہے۔ اُنہوں نے سکول میں ”آوی“ کے بچوں سے سنا تھا کہ”آوی“ میں کسی کے گھر میں ایک کار آمد گدھا ہے اور مالک ایک گائے کے عوض اُسے بیچنا چاہتا ہے ۔ سردا ار حسین کو یکدم خیال آیا کہ یہ گدھا خریدنے کا چاہئے زریں موقعہ ہے کیوں کہ اُس زمانے میں جن جن حضرات نے گدھے خریدے تھے اُن کے وارے نیارے ہو گئے تھے۔ بونی کا سرکاری ہسپتال زیر تعمیر تھا بونی میں بہت سارے لوگ ہسپتال کی تعمیر کے وقت ندی نالوں کے کناروں سے صاف و شفاف عمارتی پتھر گدھوں پر لادکے لانے کے لئے گدھوں کی خریداری میں ایک دوسرے سے سبقت پانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ راتوں رات امیر بننے کی یہ سوچ سردار حسین کو بھی دامن گیر تھی لہذا کاروباری مقاصد کے پیش نظر گدھا خریدنا اُن کی مجبوری بنی۔ یہ جون کے طویل دنوں کا زمانہ تھا ۔ سردار سکول سے گھر آیا ، کھانہ کھایا تو سورج سوا نیزے پر آگیا تھا ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ گرمی اور دن بھر کی مشقت سے ہلکان ہو کر سب لوگ گھروں کے اندر گھس جاتے ہیں اور آرام کرتے ہیں۔ سردار حسین کے گھر والے بھی گھر میں آرام فرما رہے تھے کہ سردار نے موقع کو غنیمت جانا، باہر درخت کے ساتھ باندھی ہوئی گائے کو کھولا اور کوئی توقف کئے بغیر آوی کی جانب رخت سفر باندھ لیا۔ کوئی تین گھنٹے کی مسافت کے بعد سردار حسین گائے سمیت مطلوبہ مقام تک پہنچ چکے تھے ، گدھے کے مالک کے سامنے گائے کی خوبیوں پر دھواں دار خطبہ دیا۔ گدھے کے مالک نے سردار کو چائے پلانے کے بعد اُسے گدھے کا بلا شرکت ِ غیر ِ مالک بنا دیا اور موصوف گدھے پر سورا ہوکے اُسے سرپٹ دوڑاتے ہوئے ادھا گھنٹے میں واپس گھر پہنچ گیے۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب سردار کے ماں باپ گائے کی دن دھاڑے گم شدگی پر حیران و پریشان تھے۔۔۔۔۔۔۔۔ ( باقی تیسری قسط میں ملاحظہ ہو )

Back to top button