خواتین کا صفحہکالم نگار

چترالی بیٹیوں کا قتل کب تک۔۔؟؟

ہماری خاموشی نے دو زندگیاں اور چھین لی چینیوٹ میں قوم کی بیٹی کا کم سن بچی کے ساتھ لرزہ خیز قتل۔

حسین علی صفدر

جنرل سکریٹری تحریک تحفظ چترالی پاکستان۔

 

 

زور بازو آزما شکوہ نہ کر صیاد سے۔
آج تک کوئی قفس ٹوٹا نہیں فریادسے۔

ہماری خاموشی نے دو زندگیاں اور چھین لی چینیوٹ میں قوم کی بیٹی کا کم سن بچی کے ساتھ لرزہ خیز قتل۔
نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہماری بیٹیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے ہماری بیٹیوں پر ظلم و تشددکیاجارہاہے مار دی جاتی ہے جانور کی طرح ذبح کی جارہی ہے ہم لاوارث ہیں؟؟
ہم کاروائی کیوں نہیں کرتے۔؟ روڈ کے لئے ہم احتجاج کرتے ہیں ہسپتال کے لئے کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کے لیے کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے لیے کرتے ہیں ۔
موبائل کی ناقص سروس کے لئے کرتے ہیں ۔
کیا آج تک اپنی مظلوم بہنوں کی خاطر ان کی عزت کی خاطر ہم سڑکوں پر آئے ہیں؟ ذرا سوچئے! پہلے ہماری بہنوں کی شادی دھوکہ دہی سے چترال سے باہر کرادی جاتی ہے بعد میں ان کی مناسب خبر گیری نہیں ہوتی کبھی قتل کرکے کبھی ذبح کرکے جنازےچترال بھیجے جاتےہیں اپنی مظلوم بہنوں کا جنازہ اٹھانے کے بعد بھی مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں کوئی توانا آواز کسی بھی فورم پر نہیں اٹھاتےقانونی کاروائی سے کیوں گھبراتے ہیں؟ اگر کاروائی کرتے بھی ہیں تو انجام تک نہیں پہنچاتے۔
ایسا کیوں؟؟؟؟
بحیثیت چترالی اپنی قوم سےایک ہی سوال ہےجب قیامت کے دن وہ دوسال کی معصوم بچی ہم سے سوال کرےگی کہ مجھے کیوں قتل کیا گیاکیوں ذبح کی گئی۔؟
تو ہے کوئی جواب؟؟؟؟
یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں ہے یہ پوری قوم کی عزت وناموس کا مسئلہ ہے۔
ہم کب جاگیں گے ؟؟؟؟؟
میری گزارش ہے اپنے بہادر وکلاء سے, سوشل ایکٹوسٹ سے, این جی اوز سےاور ہرچترالی بہن بھائی سے جو کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو کہ خدارا اٹھیں اپنی بہن کی آواز بنے جو ہماری بہن اور ان کی چھوٹی معصوم بیٹی کے ساتھ ہوا اس کودبانے نہیں دیں گےاور نہ اثرورسوخ کی بنیاد پر اس ایشو کو دبانے دیں گے۔
اس کو ہرفورم میں اٹھائیں گے اور ظالم سفاک درندوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے۔
اور کسی مصلحت کا شکارہرگز ہرگز نہیں ہوں گے۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button