کالم نگار

خصوصی افراد کون ہوتے ہیں

محمد عبد الباری

ہر ایک انسان اپنی خصوصیات ، شکل و صورت ، جسمانی قدوقامت الغرض کسی نہ کسی صورت دوسرے انسانون سے مختلف پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے مابین رنگ ونسل ، قبیلوں یا زبان کی بنیاد پر کوئ امتیاز نہیں رکھا ہے البتہ اخلاق اور تقویٰ کی بنیاد پر ان لوگوں کو برتری حاصل ہے جو متقی اور اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔ 

انسان کی ذات اور شخصیت کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو مادی جسمانی ہے جس کی تخلیق زمین کی خاص مٹی سے کی گئ ہے اس کی مکمل تفصیل قرآن کریم کے سورہ البقرہ آیت 30 تا 34 اور سورہ الحجر آیت نمبر 26 تا 33 اس کے علاؤہ کئ اور مقامات پر بھی بیاں کیا گیا ہے۔ انسان کی اس جسمانی پہلو میں بہت سے کمزوریاں اور اختلافات رکھے گیے ہیں ،سورہ النساء کے یہ الفاظ اس حقیقت پر شاہد ہیں۔ 

ترجمہ: اور انسان تو کمزور ہی پیدا کیا گیا ہے۔ 

 قارئین محترم آپ آپنے اردگرد غور سے اگر دیکھیں گے تو یقیناً کئ ایسے افراد کو آپ دیکھ پائیں گے جو آپنے جسم کے کسی نہ کسی حصے میں کمزوری یا محرومی کا شکار ہیں، کوئ قوت سماعت میں کمزور ہے تو کوئ قوت بصارت میں، کسی کا بازو نہیں ہے تو کوئ آپنے ٹانگ سے محروم ہیں ، کوئ انتہائ ذہین ہے تو کوئ ذہنی اعتبار سے کمزور ہے ،کوئ بول نہیں سکتا ہے تو کوئ سن نہیں سکتا ہے ،کسی کو چلنے میں دشواری ہے تو کوئ کھڑا ہی نہیں ہو سکتا ہے۔ الغرض یہ کہ ہر انسان میں کوئ نہ کوئ کمزوری ہوتی ہے بس فرق یہ ہے کہ بعض میں کمزوری ذیادہ ہے اور بعض میں کم۔

انسانی ذات کا دوسرا پہلو روحانی ہے اور روح حکم الٰہی ہے اس لیے یہ پہلو بہت رافع اور بلند ہے اور انسان کو اللہ نے ان روحانی اور جسمانی خصوصات کی وجہ سے اشرف المخلوقات کا درجہِ دیا ہے اسلئے معاشرے میں بسنے والے تمام انسانون میں کوئ امتیاز نہیں ہے سوائے اچھے اخلاق اور متقی لوگوں کے۔ اور اگر بات کمزوروں کی آجائیے تو اسلام کے کئ ایسے احکامات ہیں جو ہمیں اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ ہمیشہ کمزوروں کا خیال رکھا جاے ان کی ہر مشکل میں انہیں خصوصی رعایت دی جاے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ان معزور ،مجبور اور کمزور لوگوں کے لے اسلامی احکامات میں خصوصی رعایت حاصل ہے ، مثلاً کسی معزور پر جہاد فرض نہیں ہے اور اس کی کمزوریوں کے مطابق دیگر فرائض میں بھی اسے رعایت حاصل ہے۔ یہ سب کچھ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارا مذہب کسی کمزوری یا معزوری کی وجہ سے انسانوں میں کوئ امتیاز نہیں رکھتا ہے تو ہم اس دین کے پیروکار ہوتے ہوے ایسا کیوں کرتے ہیں۔؟؟ اسلام نے تو ان کی کمزوری کی وجہ سے ان کو خصوصی رعایت دی ہے تو ہم کیوں ایسا نہیں کرتے ہیں ؟ 

ہم ان خصوصی افراد کا سہارا بننے کے بجائے ان کی مستقبل کی راہ میں رکاوٹ کیوں بن جاتے ہیں ؟

 ان کو ہم نے قابل رحم بھکاری بناتے ہوئے بھی دیکھا ہے پھر راہ گزرتے ہوئے ایسے افراد کو دیکھ کر انہیں دو چار پیسے دے کر ہم سمجھتے ہیں کہ بڑے ثواب کا کام کیا ہم نے، بلاشبہ صدقہ دینا باعث ثواب ہے مگر کسی کو ذندگی بھر کے لیئے بھکاری یا دوسروں کا محتاج بنانا کسی بھی صورت جائز نہیں اور یہ Human right violation بھی ہے۔ اس کے بجاے اگر ہم بروقت ان کو ان کی ضرورت کے مطابق تربیت دینگے اور کوئ ہنر سکھائیں گے اور آپنے روایات اور قوانین میں ان کے لیے ان کی ضرورت کے مطابق ترمیم کر کے انہیں قبول کریں گے تو وہ معاشرے کے لیے مفید فرد بھی بن سکتے ہیں۔ 

ان سب غلطیوں کا ایک ہی وجہ ہے جو کہ ہماری کم علمی ہے ، اس وجہ سے ان کی کمزوریاں ہمیں نظر آتی ہیں مگر ان کے اندر چھپے ہوے قابلیت اور صلاحیت ہمیں نظر نہیں آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم انہیں کوئ اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ 

Special Person

 خصوصی افراد ہمارے معاشرے میں موجود وہ افراد ہیں جو جسمانی یا ذہنی صلاحیتوں میں کسی ایک یا ایک سے زائد صلاحیتوں سے محروم ہیں یا ان صلاحیتوں میں کسی قسم کی کمزوری کا شکار ہیں۔ جدید تحقیق کے بعد ان کو Differently abled person بھی کھتے ہیں۔ قانونی طور پر ان لوگوں کے لے جو Term استعمال کیا جاتا ہے وہ ہے Person with Disabilities یعنی افراد باہم معزوری۔ 

یہ خصوصی بچے معاشرے میں آپنے ہم عمر بچوں کے مقابلے میں زرا مختلف ہیں وجہ کسی بھی ایک یا ایک سے زائد صلاحیتوں میں کمزوری یا محرومی ہے اس لئے روزمرہ کے معاملات زندگی میں انہیں خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم انہیں خصوصی توجہ دے کر ان کی تربیت کریں اور انہیں ان کی صلاحیت کے مطابق کوئ ہنر سکھائیں تو یہی افراد مستقبل میں آذاد اور خودمختار زندگی گزارنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔

خصوصی افراد کی بحالی اور بہتری کے لئے ملک کے اندر ہی مختلف قسم کے ادارے موجود ہیں جہاں ان خصوصی افراد کی بحالی کے لیے ان کو ان کی ضرورت کے مطابق تربیت دیا جاتا ہے اور خصوصی نصاب (Special curriculum) کے ذریعے انہیں تعلیم جیسی نعمت سے بہی نوازا جاتا ہئے۔ خصوصی بچوں کی بہتری اور بحالی کے لیے قومی اور بین الاقوامی قوانین بھی موجود ہیں۔ اب ہر قومی ادارے کو چاہیئے کہ ان قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے آپنے خدمات سر انجام دیں۔ 

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی ان خصوصی افراد کے لیے خصوصی قوانین موجود ہیں ۔مگر المیہ یہ ہے کہ ان خصوصی قوانین پر نہ تو مکمل عملدرآمد کیا جاتا ہئے اور نہ ان خصوصی افراد کو ان قوانین کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر و بیشتر خصوصی افراد اپنے حقوق سے محروم رہتے ہیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر انہی قوانین پر نظر ثانی کر کے ضرورت کے مطابق ترمیم کر نے اور ان پر مکمل عملدرآمد کروانے کی اشد ضرورت ہئے۔ خصوصی افراد کے مسائل اور ان کے حل کے لئے پورے ملک میں بھر پور آگاہی مہم چلانے کی بھی اشد ضرورت ہئے۔ 

آپنا اور آپنے اردگرد خصوصی افراد کا خاص خیال رکھیں۔ (دعاؤں میں یاد رکھیے گا)

اللہ تبارک وتعالی سے دعاگو ہوں کہ ہمیں سمجھنے اور دوسروں کے ساتھ مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button