چترالیوں کی کامیابیخواتین کا صفحہ

امریکہ میں مقیم چترال کی بیٹی نگہت اکبر شاہ کی پیشکش فلم "دریا کے اس پار” کولکتہ انٹرنیشنل فلم کولت فیسٹول 2021 کے لئے منتخب

گلگت بلتستان اور چترال کے نفسیاتی مسائل کی عکاس مختصر فلم "دریا کے اس پار” کولکتہ انٹرنیشنل فلم کولت فیسٹیول 2021 کے لئے منتخب ہوئی ہے۔ فلم ” دریا کے اس پار ” امریکہ میں مقیم چترال کی بیٹی نگہت اکبر شاہ کی پیشکش ہے۔

 

یاد رہے گلگت بلتستان اور چترال میں نفسیاتی مسائل بالخصوص خواتین کے زہنی مسائل پر ایک مختصر فلم تیار کی گئی ہے جو کولکتہ انٹرنیشنل فلم کولت فیسٹیول 2021 میں پیش جائے گی۔ فلم تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی فلم ہوگی جو شمالی علاقہ جات اور چترال کی خواتین کے مسائل کو اجاگر کرے گی۔فلم کا نام "دریا کے اِس پار” ہے جس میں شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی "گل زرین” کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ یہ کہانی گل زرین کی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو دنیا سے بیگانہ ہوچکی ہوتی ہے۔ پہاڑوں سے آتی تیز و تند ہوا میں موجود تنہائی اس کی زہنی اذیت کا مزید سبب بنتی ہے۔

گل زرین کے زہنی دباؤ میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا جاتا ہے جو اسکول میں داخل ہونے سے شروع ہوتا ہے اور اس کی شادی کے وقت تک انتہا کو پہنچ چکا ہوتا ہے۔ ان کی زہنی پریشانیوں کو سمجھنے کے لئے کوئی بھی رشتہ دار یا دوست تیار نہیں ہوتا۔ سخت سماجی اقدار اور روایات ان کے دکھوں کی آگ میں تیل کا کردار ادا کرکے اضافہ کرتے ہیں۔

بالاخر، مسلسل زہنی دباؤ گل زرین کو خودکشی کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

کہانی معاشرے میں زہنی بیماریوں کو نظر انداز کرکے لاپرواہ رویہ اپنانے کے رواج کی عکاسی کرتا ہے۔ بلاشبہ یہ مختصر فلم آئے روز پیش آنے والے حقیقی واقعات کی ترجمانی کرتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ اس مختصر فلم کو دیکھنے کے بعد معاشرے کے اس ناسور کے حوالے سے ناظرین سوچنے پر ضرور مجبور ہونگے۔

یار رہے فلم ” دریا کے اس پار ” نیویارک سٹی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول 2021 پیش ہونے کے لئے منتخب ہوچکی ہے۔ فلم دریا کے اس پار نیو یارک سٹی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول 2021 میں پیش ہونی واحد پاکستانی فلم ہے۔ 

واضح رہے کہ فلم میں استعمال کیا گیا نام "گل زرین” ایک فرضی نام ہے اور کردار کا کسی حقیقی کہانی سے تعلق ہونا محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button