سیاستکالم نگار

تحریک انصاف حکومت کی تین سالہ کارکردگی۔۔

عیسیٰ خان دانش

 

تاریخ کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف 1996 میں معرض وجود میں آئی اس سے قبل اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صرف دو بڑی جماعتیں جس میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی ہی موجود تھیں دونوں جماعتیں انتہائی مضبوط اور طاقتور ہونے کے سبب ہمیشہ باری باری برسراقتدار میں ہوتی تھیں ان دونوں پارٹیوں کے ہوتے ہوئے تیسری پارٹی کا برسراقتدار آنا ناقابل یقین تصور کیا جاتا تھا لیکن ایسے میں عمران خان صاحب جو کہ 1992 والڈ کپ کے فاتح کپتان بھی تھے والڈ کپ جیتنے کے چار سال بعد یعنی 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کے نام سے اپنی پارٹی بنانے کا باقاعدہ اور باضابطہ طور پر اعلان کیا بظاہر یہ ایک چھوٹی سی ، عام اور ہمیشہ کیلئے ناکام ترین پارٹی تصور کی جاتی تھی لیکن عمران خان صاحب نے مشکل وقت میں مایوسی کے بجائے مسلسل جہدوجہد ، کوشش اور لگن سے اپنے مشن اور ویژن کو جاری و ساری رکھا۔۔

ابتدائی الیکشنز میں عمران خان صاحب کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا کیوں کہ پورے پاکستان میں تحریک انصاف کے ٹکٹ لینے کیلئے کوئی امیدوار تیار نہیں تھا جس کے بدولت ابتدائی ایک دو الیکشنز میں عمران خان صاحب کو الیکشن سے بائیکاٹ بھی کرنا پڑا لیکن پھر بھی وہ اپنی جہدوجہد کو جاری کرتا رہا اسی طرح جب 2013 کا الیکشن ہوا تو عمران خان صاحب کی جماعت یعنی تحریک انصاف نے خیبر پختون خوا میں بھاری اکثریت سے عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی پھر عمران خان صاحب نے عوامی امنگوں پر پورا اترتے ہوئے خیبر پختون خوا میں وہ نظام حکومت بنایا جس کا اس نے عوام سے وعدہ کیا تھا عمران خان صاحب نے خیبر پختون خوا میں اپنے پانچ سال کے اندر پولیس کو عوام دوست بنایا ، تعلیم اور صحت کے شعبے کو بہتر بنایا ، ایک ارب درخت لگایا ، سڑکوں کا جال بچھایا ، نیب اور عدالتوں کو بااختیار بنایا وغیرہ

خیبر پختون خوا کے اندر تبدیلی اور کارگردگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پاکستانی عوام نے 2018 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو صوبہ پنجاب ، خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں بھاری مینڈیٹ سے سرخرو کرایا جب کہ صوبہ سندھ میں پاکستان تحریک انصاف دوسرے نمبر پر رہی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ریکارڈ قائم ہوا کہ عمران خان صاحب نے 2018 کے الیکشن میں پانچ جگہوں سے الیکشن لڑا جس میں پانچ کے پانچ جگہوں سے کامیاب ہوا پس یہ کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی قوم عمران خان صاحب سے بے پناہ محبت کرتی ہے

جب 2018 میں عمران خان صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ملک پاکستان کو بےشمار مسائل کا سامنا تھا ملک سابقہ حکومتوں کے قرضوں سے ڈوبا ہوا تھا ، ہر ادارے کے اندر رشوت کا بازار گرم تھا ، لوٹ مار بھتہ اور غنڈہ گردی عام تھی ہر ادارے کا سربراہ ایک نامور مافیا ہوتا تھا ، ملک کو بیرونی اور اندرونی دہشت گردی کا سامنا تھا خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوئی تھی وغیرہ ان سب مسائل پر قابو پانا یقیناً تحریک انصاف کی حکومت کیلئے ایک چیلنج تھا لیکن عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت نے ملک کو مزید قرضوں سے بچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کا آغاز کیا

وزیر اعظم عمران خان صاحب نے نوجوانوں کیلئے بلا سود سستے قرضوں کا اجرا کیا ، بے گھر لوگوں کیلئے سستے گھروں کا قیام عمل میں لایا ، ملک بھر میں مسافرون کیلئے شلٹر ہومز بنائے ، غریبوں کیلئے ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا جس کے بدولت وہ اپنا مفت علاج معالجہ کرا سکیں ، سڑکوں کا جال بچھایا ، کورونا وائرس کے سنگین صورتحال میں پاکستانی قوم کو احساس پروگرام کے نام سے بارہ ہزار روپے دیے ، ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم کا حکم صادر کیا ، سبز پاسپورٹ کی دنیا بھر میں عزت کروایا ، پاکستانی قوم کے عزت نفس کو بحال کرایا ، حریف ملک انڈیا اور امریکا کو ہر فورم پر منہ توڑ جواب دیا ، کشمیر کا سفیر بن کر اقوام متحدہ جیسے عظیم پلیٹ فارم پر دنیا کے نامور طاقتور ممالک کو للکارا ، خارجہ پالیسی کو مستحکم بنایا جس کے بدولت آج دنیا کے سپر پاور امریکا بھی افغانستان میں اپنی مدد کیلئے پاکستان سے بھیک مانگ رہا ہے

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ وقت میں مہنگائی تھوڑی زیادہ ہے اس کی بنیادی وجہ ہمیں جاننے کی اشد ضرورت ہے بنا سوچے سمجھے تحریک انصاف کی حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار ٹھرانہ یقیناً بےوقوفی کے زمرے میں آتا ہے اگر سابقہ ادوار کے حکومتوں کی طرف دیکھا جائے تو شریف فیملی اور زرداری گروپ نے جس بے دردی کے ساتھ اس ملک کو لوٹا ہے اس مثال کہیں نہیں ملتی ہاں یہ بھی سچ ہے کہ ایشیائے خورونوش میں کسی حد تک کمی تھی لیکن وہ باہر ممالک سے اربوں ڈالر سود سے پیسے لیکر یہاں اپنا بینک بیلنس بنا لیتے اور ایشیائے خرونوش میں بھی کمی کرتے اس سے نقصان یہ ہوتا چلا گیا کہ آنے والی نسلیں مقروض ہوتی گئیں پاکستانی عوام تھوڑا اور صبر کریں انشااللہ یہ مشکل وقت بھی گزر جائیگا

کل اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ایک پروگرام کا انعقاد کیا جس میں انھوں نے اپنے تین سالہ کارگردگی کو پاکستانی عوام کے سامنے رکھا اس تین سالہ کارگردگی کو دکھانے کیلئے ملک بھر میں بڑے بڑے سکرین نصب کئے گئے جہاں عوام نے حکومت کے تین سالہ کارگردگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا یہ بھی ایک تبدیلی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ہر سال اپنی کارگردگی عوام کے سامنے رکھتی ہے حالانکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا دور حاضر میں تحریک انصاف کیلئے مہنگائی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے لیکن بقول وزیر اعظم عمران خان صاحب کے یہ مشکل وقت بھی گزر جائیگا اور پاکستان آنے والے وقتوں میں طاقتور ممالک کے فہرست میں شامل ہو جائیگا

آخر میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامت رکھے۔۔۔!

اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button