کالم نگار

چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ (قسط دوم)

چند روز پہلے چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کے بارے میں اپنے جذبات و احساسات کو الفاظ و حروف کی شکل میں قارئین و ناقدین کے سامنے رکھا تھا۔

نثار احمد

تلخ و شیریں

 

چند روز پہلے چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کے بارے میں اپنے جذبات و احساسات کو الفاظ و حروف کی شکل میں قارئین و ناقدین کے سامنے رکھا تھا۔بہت سارے احباب نے انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کے کاموں کو سراہتے ہوئے خوب حوصلہ افزائی فرمائی البتہ چند دوستوں کے کمنٹس، اور ایک دو ساتھیوں کے انبکس میں استفسار سے ایسا محسوس ہوا کہ ہمارے بہت سارے دوستوں کے زہن میں یہ بات آئی ہے کہ یہ ایک مذہبی سیاسی جماعت کا وہاٹس ایپ گروپ ہے۔ چونکہ حقیقت ِ حال ایسی نہیں ہے اس لئے تھوڑی سی تفصیلی خامہ فرسائی کے زریعے صورت ِ حال بے غبار کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ چترال کے تقریباً جملہ اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک ایسا گروپ ہے جسے چترالیوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے اور کسی حد تک اُن کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس گروپ میں صرف سیاسی لوگ تو نہیں ہیں، کہ اسے کسی ایک سیاسی جماعت کا وہاٹس ایپ گروپ گردانا اور جتلایا جائے۔ اس میں چترال سے تعلق رکھنے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی ہیں سماجی و ادبی شخصیات بھی۔ بیوروکریٹ بھی ہیں اور شاعر و گلوکار بھی۔ علماء بھی ہیں اور صحافی بھی۔ اس گلدستے میں ہر رنگ و بو کے پھول موجود ہیں جنہیں بلا امتیاز بس خوشبو بکھیر کر اردگرد حدودِ اربعہ کو معطر کرنا ہے۔
چترالیوں کے مسائل و مشکلات کو کم کرنے کے لئے یہ گروپ ضرور بنایا گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اس ڈیجیٹل گروپ کی بدولت چترالیوں کے تمام مسائل آنِ واحد میں حل ہوں اور دیکھتے ہی دیکھتے چترال کے چپے چپے اور گوشے گوشے سے دودھ و شہد کی پُرشور نہریں پھوٹ آئیں۔ دودھ و شہد کی نہریں ملک کے طول و عرض میں وہ لوگ نہیں بہا سکے جو اس کا وعدہ لے کر اقتدار میں آئے تھے۔ یہ چند بندے خاک بہا سکیں گے۔ بات بس اتنی سی ہے کہ گروپ کے جملہ ممبران اپنی بساط و رسائی کے مطابق چترالیوں کو لاحق ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے علاوہ اُن کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی غرض سے ایک جگہ جمع ہوئے ہیں۔ شروع میں یہ چند افراد پر مشتمل گروپ تھا ماشاءاللہ پھر اس کا دائرہ پھیلتے پھیلتے اب اچھا خاصا گروپ بن چکا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ معزّز ممبر کی طرف سے جس مسئلے کو گروپ کے علم میں لایا جاتا ہے۔ غور و فکر اور بحث و مباحثہ کے بعد جس ممبر کے بارے میں پیش آمدہ مسئلے کی بابت تعاون و تناصر کی توقع ہوتی ہے اُسے وہ مسئلہ سونپا جاتا ہے اب متعلقہ ممبر اپنے دائرہ ء اختیار میں اس مسئلے کو حل کرنے میں جُت جاتا ہے۔
مثلاً پچھلے دنوں کینسر سے متاثر ایک مستحق مریض کا مسئلہ گروپ میں لایا گیا۔ یوں علاج کے سلسلے میں اس بچّے کی مشکلات کو کم کرکے اُس کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے گروپ ممبران کی جانب سے عملی تگ و دو کا آغاز کیا گیا۔ تب سے لے کر اب تک گروپ کے ممبران پل پل لمحہ لمحہ اس بچّے کے والدین سے رابطے میں ہیں اور کسی بھی قسم کے تعاون سے دریغ نہیں کر رہے۔ بچے کو چترال کے ہسپتال میں لے جانے سے لے کر آغا خان ہسپتال کراچی پہنچانے تک منٹ منٹ کی خبر گروپ میں آتی رہی۔ رکاوٹوں کا ذکر بھی ہوتا رہا اور سہولیات بہم پہنچانے کی سبیل بھی نکالی جاتی رہی۔
"چترال سے پشاور پہنچ گیا، پشاور میں رہائش کے انتظامات ہو چکے۔ کراچی کے لئے ٹکٹ ہو گیا، کراچی میں ریسیو کون کرے گا؟ ، وہاں رہائش کہاں ہو گی؟ ، کونسے ڈاکٹر کے پاس اپوائنٹمنٹ ہے؟، کُل خرچہ ء علاج اگر ستر اسی لاکھ کا ہے تو اسے بیس تیس لاکھ تک لانے کے لئے ویلفیئر کا پراسس کیسے ہو گا۔ اب تک اتنے پیسے جمع ہو چکے ہیں مزید اتنے چاہئیں۔ وغیرہ وغیرہ”
یہ تمام انتظامات ممبران انتہائی خاموشی سے نہ صرف کرتے رہے بلکہ اب بھی مسلسل لگے ہوئے ہیں۔ اور گروپ کے دیگر ممبران کو آگاہ بھی۔کر ریے ہیں۔ اس پورے مرحلے میں بچے کے والدین کو کہیں بھی یہ نہیں لگا کہ اس پریشانی کے عالم میں اکیلا ہونے کی بناء پر وہ کچھ نہیں کر پائیں گے۔
اس چھوٹی سی مثال کا تذکرہ اس لئے کیا تاکہ اس سوال کا جواب ملے کہ گروپ کس انداز میں کام کرتا ہے۔ پھر بھی گروپ ممبران کی اِن کوششوں کو میں آشکارا نہ کرتا اگر میرے سامنے ایسی اجتماعی جدوجہد کی بہت زیادہ اہمیت نہ ہوتی۔ ایسی اجتماعی کوششوں کی حوصلہ افزائی ہر صاحب ِ قلم پر لازم ہے۔
ایک چترالی ہونے کے ناتے میری دانست میں چترال کے مسائل کا واحد حل ایک ایسے پلیٹ فارم کے قیام میں ہے جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی ہو اور وہ سب کے سب چترال کی تعمیر و ترقی کے اکلوتے ایجنڈے کو اپنے جماعتی ایجنڈے پر فوقیت دینے کے ساتھ ساتھ علاقے کی تعمیر و ترقی کو اپنا مقصد ِ اتحاد بنائیں۔ سیاسی رسہ کشی اور کریڈٹ کریڈٹ کھیلنے کے نقصانات دیکھ ہی نہیں، بھگت بھی رہے ہیں۔ ہمارے بہت سارے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ کریڈٹ کا جنجال بھی ہے۔
چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کریڈٹ کے جنجال سے بالاتر ہو کر خدمتِ خلق جیسے عظیم مقصد کے حصول کے لئے ایک بہترین عملی قدم ہے۔ ایم این اے مولانا عبد الاکبر چترالی، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان ، ایم پی اے وزیر زادہ اور سابق منسٹر سلیم خان کو کون نہیں جانتا۔ اس گروپ کے ممبر ہیں۔ سکریٹریٹ میں خندہ پیشانی سے سب کا استقبال کرنے والے ڈپٹی سیکرٹری عبد الاکرم بھی اس گروپ کا فعّال حصّہ ہیں اور حیات شاہ، سید مظہر علی شاہ، محمد صالح کے ساتھ منہاس الدّین بھی۔اگر سماجی خدمات میں نام کمانے والے قاری فیض اللہ اور الخدمت لوئر چترال کے صدر نوید احمد اس سے منسلک ہیں تو چترال کا نام بین الاقوامی میڈیا میں روشن کرنے والے شاہی خطیب مولانا خلیق الزمان اور چیمبر آف کامرس کے سرتاج احمد خان بھی اس گروپ سے وابستہ ہیں۔ اگر شعبہء طب کے ڈاکٹر کریم گروپ کے کاموں میں دلچسپی لے رہے ہیں تو شعبہء صحافت کے فیاض احمد، سیف الرحمن عزیز اور شجاعت علی بہادر بھی اپنا حصّہ ڈال رہے ہیں۔ اسی طرح معروف سماجی کارکن محمد علی مجاہد کے ساتھ ساتھ شاعری و گلوکاری کی دنیا کے بڑے نام فضل الرحمن شاہد اور انصار نعمانی بھی گروپ کے روحِ رواں ہیں۔ان کے علاوہ غازی خان، اختر اقبال، سردار ایوب، پروفیسر ممتاز، ذاکر زخمی، آصف علی تاج، مفتی ولی اللہ، جاوید احمد (مئیر)، عطاء حسین اطہر، شمشیر، امیر نایاب اور کراچی سے ظہیر علی صفدر، فیض محمد پاشا پشاور سے خواجہ سعید، مہربان الٰہی حنفی، شمس النبی معاویہ، لاہور سے قاری وقار احمد، دوبئی سے زار خان، نظار ولی شاہ، مدینہ سے رحمت حبیب، یو ایس اے سے روزیمان شاہ وغیرہ اس گروپ کے معزّز اراکین ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سارے نام ہیں جو اس وقت میرے زہن میں نہیں آ رہے ہیں۔
گروپ کے ابتدائی دو ممبرز راجہ عادل غیاث اور صادق امین ہماری خصوصی دعاؤں کے مستحق ہیں۔کرونا کے دنوں میں لوگوں کی مدد کرتے کرتے بالآخر خود بھی فانی دنیا سے چل بسے۔ اللہ تعالیٰ دونوں کے درجات بلند فرمائے۔ان کی ناقابلِ فراموش خدمات تادیر یاد رکھی جائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button