تعلیمکالم نگار

چھٹی کی آڑ میں اقبال کی چھٹی

یوم اقبال جو ہر سال 9 نومبر کو قومی جذبے اور عقیدت سے منایا جاتا تھا، آجکل ٹی وی ہیڈ لائنز تک محدود ہو کر رہ گیا ہے

سارہ حسن خان

 

یوم اقبال جو ہر سال 9 نومبر کو قومی جذبے اور عقیدت سے منایا جاتا تھا، آجکل ٹی وی ہیڈ لائنز تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقبال کے فلسفہِ خودی کو سمجھنا اتنا سہل نہیں۔ اقبال کے فلسفے کو جاننے کے بعد ہماری غیرت اور خودی ہمیں صراط مستقیم تک لے کر جاتے ہیں جو کہ انتہائی مشکل راستہ ہے اور ہم بحیثیتِ پاکستانی اس ایک راہ کے علاوہ ہر راہ پر چلنے کو ہمہ تن تیار ہیں۔یوم اقبال کی سرکاری تعطیل ختم کر کے حالیہ حکومت نے ایک احسن قدم اٹھایا ہے جو کہ سراہے جانے کے قابل ہے-
افسوس کہ ہم اقبال کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے ان کے نقش پا مٹاتے جا رہے ہیں,ایک طرف یوم اقبال کی آڑ لے کر اپنے کاہل وجود کو تسکین پہنچا رہے ہیں تو دوسری جانب جا بجا اقبال کے فلسفہ خودی کا خون ہو رہا ہے,ہم ہمہ وقت کشکول گدائی اٹھائے دیار غیر سے امداد کی آس لئے بیٹھے ہیں جبکہ ہمارا اقبال کہتا ہے:

نگاہِ فقر میں شان سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ھو وہ قیصری کیا ہے

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نا امیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

اب سوال تو یہ بنتا ہے کہ کیا ہم اقبال کے فلسفے پر ڈٹ کر کھڑے ہیں یا ہم بذات خود بھی تقدیر بلا تدبیر کے قائل ہو گئے ہیں؟ اگر ہمیں ایک ساتھ آگے جانا ہے تو ہم کس کا سہارا لیں,کس کا ہاتھ تھامیں,کس کو اپنا مشعل راہ سمجھیں…

ہمارے نام نہاد علماء تو ، شخصیت پرستی اور تفریق سے کبھی آگے بڑھنے نہ پائے۔ان کا تو سرے سےکام ہی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دائرہ اسلام کو ہر عام آدمی کیلئے محدود تر کر دینا ہے، عمریں لگا کر ہمارے اجداد نے دوسرے مسالک کو باطل اور اپنے مسلک کو حق ثابت کیا تھا اور ہم کتنے آسانی سے ان کی محنت پر پانی پھیر رہے ہیں..

ہمارے سیاست دان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے ان کی کڑی شرائط کے باوجود بھاری قرضے لے لے کر بڑے فخر سے قوم کو اپنی کامیابی کی نوید سناتے ہیں۔ جبکہ اقبال غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے افلاس کو غنیمت سمجھتے رہے,

کاش کہ ہم صرف گدائی پر بھی اکتفا کر لیتے,ہم نے تو اقبال کے ہر ہر تصور کو ڈبویا ہے,کاش غیروں کا دیا کھا کر بھی ہم یکجا رہتے,رزق حرام نے ہمیں نابینا کر دیا ہے,ہمارا اب ایک ہونا ناگزیر ہو چکا ہے

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کاشغر

جبکہ حرم کی پاسبانی کے لیے اب یہود و نصاری موجود ہیں اور وہ مسلمانوں سے بہتر انداز میں حرم کی پاسبانی کر رہے ہیں۔

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

مسلمان تو ویسے بھی فرقوں میں اس قدر جکڑے ہیں کہ ہمیں خبر ہی نہیں دنیا میں ہو کیا رہا ہے۔

ہم نے پہلے انگریزوں کی غلامی کی اور اب امریکہ کی غلامی زوروشور جاری ہے۔ امریکی ڈالروں سے ہم سے زیادہ شاید ہی کوئی خوش ہوگا۔ اقبال کو تو سمجھ ہی نہیں تھی کہ غیرت نہیں ڈالر ہی بڑی چیز ہے جہان تگ و دو میں۔

اللہ کا بڑا کرم ہے ہم بہت خوش ہیں اس غلامی میں اور مطمئن ہیں کہ یہی ہمارا مقدر ہے۔ اقبال کا کیا ہے وہ تو ویسے ہی کہتے ہیں۔

تو شاہین ہیں پرواز ہے کام تیرا

ایسا اقبال ہمیں بھلا کہاں قبول۔ ہمیں تو وہ اقبال عزیز ہے جو ہمیں سب اچھا ہے کا راگ الاپتا رہے۔ جو ہماری خوشی کی خاطر اپنے فلسفہِ خودی کو بھی تبدیل کرنے سے گریز نہ کرے۔ اقبال کی عجیب و غریب باتیں ہماری آنے والی نسل کو خراب کر رہی تھیں اس وجہ سے ہم نے اقبال کو ہی دیس سے نکال دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button