اپر چترالتورکھوٹیکنالوجیخبریںدروشلاسپورلٹکوہلوئیر چترالمستوجموڑکھو

چترال میں ٹیلی نار کی ناقص کارکردگی پر ٹیلی نار پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے نام کھلا خط

مکرمی !

میں آپ کے مؤقر برقیاتی جریدے کی وساطت سے ٹیلی نار سروس پاکستان کے اعلیٰ حکام کی توجہ چترال میں ٹیلی نار کی ناقص کارکردگی اور ادارہ ہذاکی کمزوریوں کی نشاندہی کرنے پر علاقائی صحافیوں کو نا کردہ گناہوں کی پاداش میں عدالت کے کٹہیروں میں گھسینٹے اور اس پر عوام کے معقول رد عمل کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں ۔ 

 محترم چیف ایگزیکٹیو صاحب اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیلی نار پاکستان میں ابلاغ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس کاجال پاکستان کے کونے کونے تک پھیلا ہوا ہے جو کہ خوش ائند بات ہے اور ہم اس سہولت پر ٹیلی نار کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ لیکن آپ کو شاید یہ بھی معلوم ہو کہ پاکستان میں ایک علاقہ ایسا بھی ہے جسے پاکستان کا سر کہتے ہیں جس کی سرحدیں افغانستان کی مختلف ریا ستوں سے ملی ہوئی ہیں ۔ اس علاقے کا نام چترال ہے جوکہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں دو ضلعوں پر منقسم ہے ایک ضلع کا نام لوؤر چترال ہے جبکہ ایک کو اپر چترال کہتے ہیں ۔ اپر چترال ایک نوزائدہ ضلع ہے جو کہ اپنی ابتدائی نشو نما سے گزر رہا ہے ۔ یہ نوزائدہ ضلع کئی ایک مسائل سے دوچار ہے ان مسائل میں سب سے اہم اور بنیادی مسائل سڑکوں ، پلوں ، تعلیم اور صحت کے ہیں ۔ لیکن یہ تمام مسائل اُس وقت حل ہوسکتے ہیں جب ہم اپنی غرض و غائیت رسل و رسائل اور ابلاغی ذرائع کی وساطت سے حکام بالا تک پہنچا سکیں ۔ بد قسمتی ہے اپر چترال میں شعبہ ابلاغیات خصوصاً ٹیلی فون ( ٹٰیلی نار) اور انٹر نٹ کی سہولیات یکسر مفقود ہیں ۔ 

 یہاں ٹٰیلی نار کے کھمبے جگہ جگہ اور گاؤں گاؤں استادہ نظر آتے ہیں ۔ لیکن ان کی کارکردگی اتنی ناقص ہے کہ ایک صارف 500 روپے کا بیلنس ڈال کے کوئی ضروری بات دوسرے آدمی تک آسانی سے نہیں پہنچا پاتا ۔ کمر توڑ مہنگائی کے اس مخدوش دور میں اگر ایک صارف 500 روپے کا بیلینس اپنے سیل فون میں ڈال کر اپنا ما فی الضمیر کسی ہنگامی صورت حال میں دوسری طرف پہنچانے میں قاصر رہے تو کیا آپ وثوق سے کہ پائیں گے کہ آپ کے ادارے کی کار کردگی میں کوئی نقص نہیں ہے ۔ بظاہر تو کوئی نقص نہیں ہے کیوں کہ آپ کو دھڑا دھڑ پیسہ آ رہا ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ علاقے کے باسیوں نے علاقائی برقی اخبارات کی وساطت سے اپنے مسائل آپ کے گوش گزار کرنے کی جتن کی تو آپ کے ادارے نے اُن اخبارات کے مدیرروں کے خلاف عدالت عدالتوں کی فطر رجوع کیا ۔ سننے میں یہ آٰیا ہے کہ چترال ٹائمز اور چترال ٹو ڈے نے اپنے برقی جریوں میں عوام کے ان مسائل کا ذکر کیا تھا ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے عوام کی آواز کی ترجمانی کی ہوگی نہ کہ ٹیلی نار کے خلاف کوئی غیر اخلاقی نکتہ اُٹھا یا ہوگا ۔ میں اس برقی اخبار کی وساطت سے ٹیلی نار کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے ادارے کی کمزوریوں پر پردہ ڈال کر اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے والے صحافیوں کی عزت نفس کو عدالتوں کے کٹہروں میں بلاوجہ کھڑا کر کے مجروح کرنے پر نظر ثانی کی جائے اور ٹیلی نار کی ناقص سروس پر اُٹھنے والی عوام کی آواز کی قدر کی جائے ۔

العارض  

شمس الحق قمر ؔ اپر چترال

Back to top button