تعلیمکالم نگار

بورڈز کے حالیہ نتائج ، ایک پہلو یہ بھی ہے۔

نثار احمد

تلخ و شیریں

 

زیادہ نمبرات دینے پر پشاور بورڈ کو کوستے کوستے اور محنت کر کے زیادہ نمبر لینے والے بچوں کا مذاق اُڑاتے اڑاتے اگر سیر ہو چکے ہیں تو تھوڑی سی زحمت کر کے اب اتنی بات بھی سمجھ لیں کہ اس مرتبہ ہزار سے اوپرنمبر لینا محنتی بچوں کے لیے اتنا مشکل بھی نہیں تھا جتنا سمجھا اور باور کرایا گیا۔ حقیقت ِ حال کا ادراک کیے بغیر نہ صرف پشاور بورڈ پر طعن و تشنیع کے تیر برسائے گئے بلکہ زیادہ نمبر لینے والے بچوں کے حاصل کردہ نمبرات پر الٹے سیدھے جملے کس کر ان کی بھی زبردست حوصلہ شکنی کی گئی۔ ستم یہ ہوا کہ دوسروں لوگوں کی ہمنوائی میں بورڈ میں پیپر چیک کرنے والے اور ان بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ کرام بھی اس مکروہ عمل میں پیش پیش رہے۔ حالانکہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ اس مرتبہ دسویں اور گیارہویں میں تمام مضامین کی بجائے چند (اختیاری) مضامین کا امتحان ہوا تھا۔ طلبہ و طالبات نے بارہویں میں تین کتابوں کا اور دسویں میں چار کتابوں کا پرچہ دیا تھا۔ مطلب بارہویں کے جس طالب علم نے بھی ان تین پرچوں میں سے فی پارچہ ساٹھ بٹا پچھتر لینے میں کامیاب ہوا فارمولے کے مطابق اس کے ایک ہزار سے اوپر نمبرز کنفرم ہو گئے۔ مثلاً زید نے اگر بارہویں کی بیالوجی میں ساٹھ نمبر لیا ہے تو اُسے گیارہویں کی بیالوجی میں بھی خود بخود چونسٹھ نمبر ملے ہیں اور دونوں پرچوں میں اسی تناسب سے پریکٹیکل کے نمبر بھی ملے ہیں یہی نہیں بلکہ جن کتابوں کا امتحان سرے سے دیا ہی نہیں۔ گیارہویں میں نہ بارہویں میں، ان میں بھی اسی تناسب سے نمبر ملے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس بار دسویں اور بارہویں میں بالترتیب صرف تین اور چار مضامین کا امتحان ہوا۔ پڑھاکو اور محنتی بچے کے لیے تین پرچوں میں اچھے نمبر لینا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔

اطہر قاسم میرے محلے کا رہائشی بھی ہے اور دور دراز کا رشتہ دار بھی۔ اطہر کا والد ہی نہیں، والدہ بھی ٹیچر ہے۔ تعلیمی سال کے دوران تمام چیزوں سے لا پروا ہو کر اس بچے نے اپنی پوری توجہ پڑھائی بالخصوص میٹرک میں اچھے نتائج کے حصول پر مرکوز رکھی تھی۔ نویں کی چھوٹی سی اسلامیات کی کتاب کی تیاری بھی اس بچے نے میرے پاس کی تھی۔ روز عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے اور میں اسے تیاری کرواتا۔ تیاری اتنی زبردست کی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ پچاس میں سے پچاس نہ لے سکے تو کم از کم اڑتالیس ضرور لے گا۔ وہ الگ بات ہے کہ کرونا کی وجہ سے پچھلے سال پیپرز کی نوبت نہیں آئی۔۔ جو بچہ اسلامیات کی تیاری بھی بہترین استاد کے پاس جا کر اپنے طور پر کرتا ہو، کیا وہ بیالوجی فزکس اور کیمسٹری کی تیاری نہیں کرے گا؟ اتنے محنتی بچے کے لیے صرف چار کتابوں میں اچھے نمبر لینا کون سا مشکل کام ہے؟؟ ۔ اطہر قاسم کے 1054 نمبر آ گئے اور بجا طور پر اطہر ان نمبروں کا مستحق تھا۔ میرے سابقہ سکول جی ایچ ایس ایس برم اویر میں میرے چار اسٹوڈنٹس ملیحہ مہتاب، لائبہ اور محمد عباس اور عائشہ کوثر نے بالترتیب 922,922 ، 920 اور902 نمبرز لیے ہیں۔ ان تینوں بچوں کو میں نے بارہویں کی ہسٹری پڑھائی تھی اور مجھے پہلے سے یقین تھا کہ یہ اچھے نمبرات لیں گے۔ حسبِ توقع ان کا نتیجہ اچھا رہا۔

بروز کے قاضی شریف احمد (ایس ایس ہسٹری) ہمارے ساتھ سکول کے کولیگ ہیں۔ان کا بیٹا قاضی آفاق احمد بھی دسویں کے امتحان میں شریک تھا۔ امتحان سے پہلے ہی قاضی سر ہمیں کہا کرتے تھے کہ میرا بیٹا نو سو پچاس سے زیادہ نمبر لے گا۔ یہ ایسے ہی نیک فالی طور پر نہیں، بلکہ اپنے بیٹے کی پڑھائی اور تیاری مدنظر رکھ کر کہتے تھے۔ اب جب نتیجہ آ گیا تو توقع کے عین مطابق قاضی صاحب کے فرزند نے ایک ہزار اڑتیس نمبر لینے میں کامیابی حاصل کی۔

اسی طرح سوات بورڈ میں 1094 نمبر لے کر والدین اور جملہ رشتہ داروں کی سرخروئی کا سبب بننے والا ہونہار فرقان احمد اگر آغا خان بورڈ سے بھی امتحان دیتا تو اس کے یہی نمبر آنے تھے۔ جس بندے کا کل اوڑھنا بچھونا ہی پڑھائی اور شوق ہی کتب بینی ہو، اور وہ گھر چھوڑ کر سوات (کیڈٹ کالج) میں صرف پڑھائی کے لیے رہتا ہو اس کے لیے چار پرچوں میں غیر معمولی مارکس لینا کم از کم میرے لیے کوئی اچھنبھا نہیں ہے۔ شریف النفس فرقان احمد میرے ابتدائی درجات کے استاد محترم زرتاج احمد مدظلہ کا فرزند ارجمند ہے۔

بڑی شدومد کے ساتھ ایک پروپگنڈا یہ جاری ہے کہ کرونا کی وجہ سے امسال سکول مہینوں بند رہے اسباق ہوئے نہیں پھر بھی نتیجہ ننانوے فی صد آیا۔ پہلی بات یہ ہے ننانوے والی بات درست نہیں لگ رہی، نتیجہ پورا پورا سو فی صد آنا چاہیے کیونکہ جب فیصلہ ہی سب کو پاس کرنے کا ہوا تھا تو پھر سو فی صد پاس نہ ہونے کا سوال ہی کہاں رہا؟؟ 

دوسری بات یہ ہے نتیجہ سب کے سب کا سب کا اے گریڈ یا اے پلس نہیں آیا ہے۔ مثلاً اس وقت میرے سامنے ایک نامی گرامی گورنمنٹ سکول کا پورا رزلٹ موجود ہے اس میں کسی بھی بچے کا نو سو سے اوپر نمبرز نہیں ہیں چہ جائیکہ ہزار ہوں۔ زیادہ تر تعداد E گریڈ میں پاس ہونے والوں کی ہے۔ ای گریڈ کا مطلب بمشکل بس پاس ہی ہو سکے ہیں۔ 

تیسری بات یہ ہے نصاب بھی تقریباً زیادہ تر اسکولوں میں مکمل ہوا تھا ایسا نہیں تھا کہ زیادہ تر سکولوں میں ادھورا رہا ہو۔ دس مئی کو گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سے میرا تبادلہ ہوا تھا تبادلہ ہونے سے پہلے پہلے گیارہویں کی اردو، ہسٹری ، اسلامیات اختیاری اور بارہویں کی اسلامی ہسٹری مکمل پڑھا ہی نہیں چکا تھا بلکہ اعادہ بھی بیچ تک کروایا تھا۔ یہی حال اکثر اساتذہ کا ہے۔ شاید ہی کسی نے کورس مکمل نہ کیا ہو۔ پھر سمارٹ سلیس کی وجہ سے مزید آسانی پیدا ہوئی تھی۔ ایسے میں اُن طلبا کا ہزار سے اوپر نمبر آنا بالکل انہونا نہیں ہے جن کے پیپرز کسی بھی وجہ سے اچھے ہوئے ہوں۔ جنہوں نے خوب محنت کی ہو۔

بورڈ میں بھی پرچہ جات حل کرنے کا باقاعدہ نظم مقرر ہے۔ پرچہ جات کی جانچ پڑتال کے لیے اساتذہ پر مشتمل ٹیم ہی متعین نہیں ہوتی بلکہ باقاعدہ ضابطے بھی پہلے سے طے ہیں کہ کس قسم کی مارکنگ کرنی ہے۔ ہمارے امتحانی نظام میں نقائص و خامیاں اپنی جگہ، کئی پہلوؤں سے اصلاح کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو اور ہرطرف طوفان ِ ناانصافی تباہی پھیلا رہا ہو۔ پرچہ جات کی جانچ پڑتال کے لیے قائم اساتذہ کی ٹیم میں مزاج اور افتاد ِ طبع کا فرق ہو سکتا ہے اور طبائع کا یہ فرق طالب علموں کے نمبرات میں انیس بیس کا فرق ڈال سکتا ہے لیکن یہ سمجھنا اور پروپگنڈہ کرنا قطعاً خلافِ حقیقت ہے کہ بورڈ میں آنکھیں بند کرکے نمبرات دیے جاتے ہیں۔

 ہمارے معاشرے کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ڈھنگ سے تنقید بھی نہیں آتی۔ جسے ہم تنقید سمجھ کر برتتے ہیں وہ دراصل تنقید نہیں، الزامات و اتہامات کا پلندہ ہوتا ہے۔ ہم لٹھ لے کر کسی کے پیچھے پڑنے کو تنقید کا نام دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی ایسا ہی ہوا کہ خواہ مخواہ بچوں کی محنت کا ٹھٹھہ کیا گیا۔

 اس سے بڑی لاپروائی اور کیا ہو گی کہ ایک فیس بکی صارف نے پانچ سطری طنزیہ پوسٹ لکھی کہ میرے 1080 نمبر آئے ہیں چونکہ پوسٹ میں ایک لفظ بھی اردو املا کی رو سے ٹھیک نہیں تھا اس لیے ناقدین نے اس کی پوسٹ کے اسکرین شاٹس دکھا دکھا کر خلاف لوگوں کو گمراہ بھی کیا اور پشاور بورڈ کی مٹی بھی پلید کی کہ یہ دیکھو ایک ہزار اسی نمبر لینے والے کا یہ حال ہے۔ کسی بھی بندے کو پوسٹ نگار کے دعوے کی تصدیق کی توفیق نہیں ہوئی۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ بندہ کراچی بورڈ سے کب کا انٹر بھی کر چکا ہے۔ مذکورہ پوسٹ اس نے طنزیہ لکھی تھی۔

آخر میں ان تمام طالب علموں اور ان کے والدین کو سلام جنہوں نے اچھے نمبر لیے ہیں۔ اور ان طالب علموں کو بھی مبارک باد جو پاس ہوئے یا کیے گئے۔ اگر وہ محنت کرنا چاہیں آگے مستقبل ان کا ہے۔

Back to top button