خبریں

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ملاکنڈ ڈویژن کے انتظامی معاملات اور امن و امان سے متعلق اہم اجلاس۔۔

پشاور (نمائندہ چمرکھن ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن کے انتظامی معاملات اور امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملاکنڈ ڈویژن میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، امن و امان کی صورتحال، جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور دیگر معاملات پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا ۔رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی ،چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سید ظفر علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیر الاسلام کے علاوہ دیگر اعلی حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔

وزیراعلیٰ نے ڈویژن کے بعض علاقوں میں پیش آنے والے امن و امان کے چند ناخوشگوار واقعات پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ اور پولیس حکام کو انتظامی معاملات اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ایک مہینے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک مہینے کے اندر صورتحال میں واضح بہتری نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ انتظامی معاملات اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ پیش کی جائے۔اُنہوںنے کہاکہ سیاحتی مقامات میں سیاحوں کو لوٹنے جیسے واقعات ناقابل برداشت ہیں اور اس قسم کے واقعات کو مستقل بنیادوں پر روکنے اور سیاحوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے کیلئے موثر اور جامع حکمت عملی وضع کی جائے ۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سوات میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کو تیز کیا جائے جبکہ دریاﺅں کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز اور موثر کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ اُنہوںنے مزید ہدایت کی کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر اور لینڈ مافیا کے خلاف کاروائیوں کے عمل میں بھی تیزی لائی جائے ۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریور پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور غیر قانونی تعمیرات میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ حکومتی عمل داری کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف مقدمے درج کرکے انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے سیکرٹری جنگلات کو کالام میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور جنگلات کی حد بندیوں کا معاملہ طے کرنے کے لئے پلان تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کے لئے نئی بھرتیوں کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکا م کو ہدایت کی کہ کالام میں تین ماہ کے اندراندر زمینوں کی سیٹلمنٹ کا عمل شروع کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کم سے کم ممکنہ وقت میں یہ عمل مکمل کرلیا جائے ۔ اجلاس کو کالام میں سیٹلمنٹ کے حوالے سے پیشرفت کے بارے میں بتایا گیا کہ دیر اپر ، دیر لوئر اور کالام میں سیٹلمنٹ کیلئے 1.9 ارب روپے کا منصوبہ منظور کرلیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کیلئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ جنگلات کے حکام کو ہدایت کی کہ مقامی لوگوں کی تعمیراتی لکڑی کے ذاتی ضروریات کوپورا کرنے کیلئے مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق لوکل کوٹہ پر عمل درآمد کیلئے میکنزم تیار کریں اور پکڑی جانے والی غیر قانونی لکڑی کی مقامی سطح پر نیلامی کیلئے بھی طریقہ کار وضع کریں تاکہ مقامی لوگوں کی ذاتی ضروریات پوری ہو سکیں اور اس طرح جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی موثر روک تھام ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button