خواتین کا صفحہسماجینیا اضافہ

قومی غیرت پر سوالیہ نشان

" ہم غیرت مند قوم ہیں" یہ جملہ بچپن سے ہی ہمارے دماغوں میں نصب کر دیا گیا ہے، لیکن عافیہ والے معاملے کے بعد سے میرے لیے یہ جملہ صرف سننے میں ہی اچھا لگتا ہے"

سارہ حسن خان

 

ڈاکڑ عافیہ صدیقی ایک ایسا نام ہے جو ہمارے سامنے لیا جائے تو پورے جسم میں ایک کپکپی سی طاری ہوتی ہے۔ اس کی وجہ شاید ہماری بے بسی ہے کہ ہمارےہاتھ میں کچھ نہیں ہے یا پھر یہ کہ مصروف زندگی میں ان کے بارے میں سوچنے کیلئے وقت نہیں نکال پاتے اور شرمندگی کا احساس نا چاہتے ہوئے بھی ہمیں اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس احساس کے بعد وہ حق جو ڈاکڑ عافیہ کا ہم پر ہے، کیا وہ ادا ہو جاتا ہے؟ ” ہم غیرت مند قوم ہیں” یہ جملہ بچپن سے ہی ہمارے دماغوں میں نصب کر دیا گیا ہے، لیکن عافیہ والے معاملے کے بعد سے میرے لیے یہ جملہ صرف سننے میں ہی اچھا لگتا ہے، حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں ہے۔ غیرت کا تصور تو صرف ہمارے گھر کی عورت تک محدود ہے۔ہمارے گھر کی چاردیواری پھلانگنے کی کوئی کوشش کرے تب ہی ہماری غیرت جاگتی ہے۔ مگر عافیہ صدیقی کے معاملے میں ہماری غیرت اور حمیت سو جاتی ہیں۔

لیکن ہمیں کون بتائے کہ قومی اخوت کا درس اس سے مختلف ہے۔ اسلام میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ وہ بھلا مجرم ہی سہی لیکن تشویش کیلئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اس ملک کی شہری ہے لیکن ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اسے دوسرے ملک کے حوالے کیا ہوا ہے۔ کیا یہ بات بھی ہماری غیرت کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں ہے؟ جب ہماری اپنی بہنیں سکول، یونیورسٹی جاتی ہیں تو صرف اس خیال سے کہ کہیں ہہماری بہن کو کوئی ہاتھ نا لگا لے، وہ ایک خیال، ایک لمحہ ہمیں کرب کی کیفیت سے دوچار کر دیتا ہے۔ تو کیا عافیہ کے گھر والوں کی تکلیف کا اندازہ لگانا ناممکن ہے؟ خاص طور پر میں ان لوگوں سے مخاطب ہوں جو اسطرح کے حالات سے گزرے ہو۔ کیا کچھ محسوس ہورہا ہے؟ آپکو تو یہ خیال ہی اذیت میں مبتلا کرنے کو کافی ہونا چاہیے کہ عافیہ کا وہ بیٹا جس کی عمر صرف اور صرف گیارہ برس ہے اس کا ہر لمحہ کیسے کیسے خیالات کے بھنور میں گزرتا ہوگا۔

کیا یہ کہنا درست نہیں کہ احمد کو پورا پورا اختیار اور آزادی ہے کہ اپنی ماں کے بارے میں ہمارے گریبان میں ہاتھ ڈال کر ہم سے سوال پوچھے؟ وہ ہمارے اربابِ اختیار سے پوچھے کہ ریاست بھی ماں جیسی ہوتی ہے تو پھر انکی اپنی ماں کو دوسروں کے حوالے کیوں کیا گیا؟ کیا آپ لوگ اس وقت اس کے سوالوں کا جواب دینگے؟ یہ بہت مشکل سوال ہے کیونکہ ہم انائیت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے لوگ ہیں۔ میں اسی معاشرے کا حصہ ہوں۔ اس سوال جواب دیتے ہوئے شاید میرے قدم بھی معاشرے کے ڈر سے قدم ڈگمائیں کیونکہ بات کرنے اور عمل کرنے میں بہت فرق ہے۔ اپنی زندگی کی رونقوں میں مصروف ہونے سے پہلے ان ہاتھوں کے بارے میں ضرور سوچیے گا جو ہمارے گریبانوں کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button