خبریںکورونا وائرس

کیا کورونا ویکسین "حرام” ہے؟

بی بی سی کے ایک رپورٹ کے مطابق کچھ جعلی خبروں کی وجہ سے بعض لوگ کورونا ویکسین لگانے سے اجتناب کر رہے ہیں۔

 

چترال  (نمائندہ خصوصی چمرکھن) بی بی سی کے ایک رپورٹ کے مطابق کچھ جعلی خبروں کی وجہ سے بعض لوگ کورونا ویکسین لگانے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ ویکسین میں مبینہ طور پر "ممنوعہ” اجزا شامل کیے گئے ہیں جنکا مذہبی اور سماجی لحاظ سے استعمال درست نہیں۔ یہ تحفظات برطانیہ میں مقیم جنوبی ایشیائی شہریوں کی طرف سے سامنے آئے ہیں جہاں کورونا کی ویکسینیشن مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔

البتہ اس رپورٹ میں مذکورہ مسئلے سے متعلق مختلف طبی ماہرین کے آرا شامل کیے گئے ہیں جنہوں نے ویکسین میں کسی بھی قسم کے "ممنوعہ” اجزا کے استعمال ہونے کی تردید کی ہے۔ ان ماہرین نے کہا ہے کہ ویکسین میں کسی قسم کے جانور کی چربی، گائے یا سؤر کا گوشت یا ان سے لیے گئے اجزا شامل نہیں ہیں۔ ویکسین پر اعتراض کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں اور ہندؤوں کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کی ایک سو کے قریب مقامی مساجد ویکسین کے خلاف ہونے والے "گمراہ کُن” پراپیگنڈا کی روک تھام کیلئے مہم چلا رہی ہیں۔ وہاں کی مساجد اور علما کے قومی مشاورتی بورڈ کے سربراہ قاری عاصم نے بھی کہا ہے کہ اس ویکسین کے استعمال میں کوئی دریغ نہیں ہونا چاہیے۔

ان غپط خبروں اور رجحانات کی روک تھام کیلئے برطانیہ کے طبی ادارے بااثر مذہبی شخصیات کی معاؤنت حاصل کرنے کیلئے تیار ہیں۔

(یہ رپورٹ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر 16 جنوری 2021 کو شائع ہوئی ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button