اپر چترالخبریں

ڈپی پی او لوئیر چترال اکرام الله خان کا دورہ اپر چترال ۔

ڈی پی او لوئیر چترال اکرام اللہ خان جس کے پاس اپر چترال کا اضافی چارچ بھی ہےآج اپر چترال بونی پولیس اسٹیشن کا سرکاری دورۂ کیا۔ ایس ڈی پی او ہیڈ کوارٹر اپر چترال محمد شفیع شفا نے ڈی پی او کا استقبال کیا۔ تھانہ بونی پہنچنے پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی دی ۔ڈی پی او۔نے یادگار شہدا پر پھول چڑھاکر دعائے معفرت کی اور پولیس اسٹیشن کے لان میں پودہ لگا کر شجرکاری مہم کا آغاز کیا۔بعد میں مختلف شعبوں کا معائینہ کیا ایس ڈی پی او ہیڈ کوارٹر محمد شفیع نے اپر چترال ، پولیس کی کارکردگی اور مسائل کے بارے تفصیلی بریفنگ دی بعد میں علاقے کے معتبرات سے خصوصی میٹنگ منعقد کی گئی۔ میٹنگ میں پولیس سے متعلق مختلف امور پر مفصل گفتگو ہوئی۔معتبرات میں تحصیل چیرمین مستوج سردار حکیم ،پریزڈنٹ اسماعیلیہ کونسل یوسف حیات،سابق چیرمین فیض الرحمٰن ،سابق تحصیل ناظم شمس الرحمٰن لال،سابق کونسلر رحمت سلام لال، امیر جماعت اسلامی اپر چترال مولانا جاوید حسین،تحصیل صدر مسلم لیگ نون جاوید لال اور ریٹائرڈ صوبیدار میجر قربان علی وغیرہ شامل تھے۔

معززین نےاپر چترال پولیس کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کی اور ان کا کہنا تھا کہ اپر چترال پولیس محدود وسائل کے باوجود بہترین خدمات سر انجام دے رہی ہے۔تاہم بعض امور پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر تجویز پیش کی ان میں منشیات کی روک تھام پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے ،ساتھ ٹرانسپورٹ کرایوں پر خصوصی نظر رکھنے کی درخواست شامل تھی۔ڈی پی او اکرام الله خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ چترال ایک پرامن علاقہ ہے یہاں کے لوگ تعلیم کی زیوار سے اراستہ ہیں۔جرائم کی شرح بہت کم ہے۔اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ ہم اپنے ارد گرد کے ماحول سے بے خبر رہینگے۔پولیس کے ساتھ عوام کو بھی مشکوک کرداروں پر نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

پولیس ہر وقت جرائم کے روک تھام ،منشیات کے خاتمے اور مثبت سرگرمیوں کو فروع دینے کی جدوجہد میں مصروف ہے تاہم اہداف حاصل کرنے کے لیے عوام کی بھر معاونت کی اشد ضرورت ہے جب تک عوام اور پولیس میں قریبی رابطہ نہ ہو ۔پولیس شاید مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں کر پائیگا۔پولیس کے دروازے ہر وقت عوام کے لیے کھلے ہیں۔اور عوام کی شراکت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔معاشرے کی بہتری کے لیے مسجد و منبر اورمذہبی زمہ داروں پر بھاری زمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔اصلاحِ معاشرہ کے لیے ان کا کردار ادا کرنا اشد ضروری ہے۔ ڈی پی او نے کہا کہ جو مسلے میرے اختیار میں حل ہونا ہے وہ ضرور حل ہونگے اور جو میرے اختیار سے باہر ہیں انہیں بالائی حکام تک پہنچایا جائیگا ۔ بعد اسٹاف کے ساتھ خصوصی میٹنگ بھی منعقد کی۔

Back to top button