اپر چترالخبریںسماجیسیاستلوئیر چترال

سرکاری ملازمتوں سے چترال کے نوجوانوں کو محروم رکھنے کا سلسلہ جاری

کریم اللہ

 

2013ء سے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہے پی ٹی آئی کا پہلے دن ہی سے یہ دعوی رہا ہے کہ وہ میرٹ کو بحال رکھیں گے اور سارے شہریوں کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کیا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی حکومت نے واقعی چترال کے ساتھ انصاف کیا ہے۔۔؟؟
پی ٹی آئی کے پہلے دور حکومت کے دوران بروغل کو نیشنل پارک قرار دے کر اس پراجیکٹ کےلئے کم و بیش سترہ سے بیس بندے بھرتی ہوئے جن میں واچر اور کمیونٹی موبیلائزر بھی شامل تھے ۔ مگر ان میں سے ایک بھی لوکل بندے کو بھرتی نہیں کیا گیا بلکہ اس پروجیکٹ میں بھرتی ہونے والے سارے افراد کا تعلق پشاور، مردان اور نوشہرہ سے تھے ، حد یہ ہے کہ خاتون سوشل / کمیونٹی موبیلائزر کی پوزیشن پہ مردان کے کسی لڑکی کو بھرتی کیا گیا۔ اس کے خلاف پریس کانفرنسز ہوئے احتجاج ہوا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔ چار پانچ سالوں کے اندر بروغل نیشنل پارک کے نام پر مردان ، صوابی، نوشہرہ اور پشاور سے تعلق رکھنے والے افراد تنخواہوں کے مزے اڑاتے رہے مگر کسی ایک ملازم نے موسم گرما میں ٹور کے لئے بھی بروغل آنے کی زحمت گوارا نہ کی ۔
2۔ کلاس فور ملازمتوں میں ہیرا پھیرا کی باتین آپ سب کے علم میں ہے ، محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم میں نہ صرف چترال کے اندر دور دراز سے من پسند افراد کی تعیناتی ہوتی رہی بلکہ محکمہ صحت میں مردان اور پشاور سمیت ڈاؤن ڈسٹرکٹ سے کلاس فور بھرتی کرکے گرم چشمہ اور دوسرے علاقوں میں تقرری جیسے کارنامے بھی اسی حکومت میں دیکھنے کو ملی۔ ایسی صورتحال میں چترال کے منتخب و چنتخب ہر د و قسم کے نمائندگان آپس میں ایکدوسرے سے دست و گریبان تو ہوئے مگر لوگوں کو ان کا جائز حق دلوانے میں کسی نے بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
3۔ چند ماہ قبل ایک خبر چلی کہ ڈسٹرکٹ ایٹرنی اپر چترال میں کلاس و فور ڈرائیور سمیت درجنوں ضلعی کیڈر کی پوسٹوں پر پشاور، نوشہرہ ، صوابی اور مردان وغیرہ سے بندوں کی پوسٹنگ کرکے گزشتہ آٹھ ماہ سے انہیں پشاور میں رکھا گیا پھر آٹھ نو ماہ بعداپر چترال بھیج دیا گیا اس کے خلاف سوشل میڈیا میں ہو ہاؤ ہوئی اور پھر معاملہ ختم ہوگیا ۔
یہ تو پی ٹی آئی کی قیادت کو پتہ ہے کہ اپر چترال کے نوجوانوں میں آفس اسسٹنٹ یا کمپیوٹر اپریٹر بننے کی صلاحیت کسی میں نہیں مگر کیا اپر چترال میں کلاس فور اور ڈرائیور کی پوسٹ کے لئے بھی کوئی اہل نہیں۔۔۔؟؟
4۔ حال ہی میں محکمہ آبی حیات یعنی فیشریز میں بڑے پیمانے پر واچر بھرتی ہوئے میرے ذرائع کے مطابق اپر چترال میں واچر کی کل تیس پوسٹیں تھی ان میں سے اکثریت سوات سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کرکے اپر چترال بھیجا گیا ۔ پی ٹی آئی کے انتہائی سنئیر ذرائع نے بتایا کہ لوئر چترال میں واچر کے دس پوسٹوں پر بھی سوات سے بندوں کو بھرتی کیا گیا۔ مگر پی ٹی آئی چترال کے بعض رہنما فیس بک میں صفائیاں دیتے رہے کہ پوسٹیں تو ڈویژنل لیول کی تھی ۔ حالانکہ واچر کی بنیادی ذمہ داری علاقے میں جانوروں کی نگرانی ہوتی ہے جو اسی مخصوص علاقے کے لوگوں کا حق بنتا ہے مگر انصاف کی حکومت میں اگر کلاس فور و ڈرائیور کوئی چترالی نہیں بن سکتا تو واچر کس طرح بن سکتا ہے۔
یہی انصاف کی حکومت کے چند موٹے موٹے کارہائے نمایاں ہے ، البتہ پس پردہ کیا کیا ہوتے رہے اس کا زیادہ اندازہ نہیں۔

Back to top button