خبریںخواتین کا صفحہسماجیطرز زندگی

تنہائی

فریدہ سلطانہ فری

فری نامہ

 

 

انسان کواگرغورسےدیکھا جا ئے تواس میں عجیب سی عاداتیں بسی ہوتی ہیں۔نجانےکب،کس سانچےمیں ڈھل کرکونسا روپ اختیارکرجائےاوراس کے رویے میں کب کونسی تبدیلی دیکھنےکوملے۔کیونکہ انسان کےاندرقدرت نےایک ایسی نمایاں لچک رکھی ہےکہ وہ حالات اورواقعات کےمطابق خود کو بدلنےکا ہنراچھے سےجانتا ہےاوراس بات پربھی ہم سب کا پکاایمان ہے کہ یہ دنیا ازمائش گاہ ہےاوریہاں انسان کوہرقسم کے حالات و واقعات کے لئے زہنی طورپرامادہ رہنے کی ضرورت ہے۔میں جن ازمائشوں کی بات کررہی ہوں ان میں سےایک تنہائی کی ازمائش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تنہائی زہرکی طرح کی ہوتی ہےکسی بھی صورت میں انسان کے لئے نفع بخش نہیں ہوتی مگربعض حالات میں تنہائی نعمت بھی ہوتی ہےکیونکہ یہ اپ کو اپنی ذات کو پہچاننے اورخدا کی دی ہوِئی نعمتوں کا اعتراف کرنے کا بہترین موقعہ فراہم کرتی ہے۔مگراس کیفیت تک پہنچنے کے لئے انسان کے پاس دوچیزوں کا ہونا لازمی ہے ایک پرسکون زہنی کیفیت اوردوسرا سازگار ماحول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان دونوں کا فقدان ہو تو اس معیار تک پہنچنا ہرگز ممکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔منفی معنوں میں ہی سہی ادب میں بھی تنہاِئی کا اپنا معیاراورمقام ہے۔ بعضی شعرا اورادیبوں نے توتنہائی کوانسان کے لئے جان لیوا قراردی ہے کیونکہ تنہائی انسان کو معاشرہ، سماج اور ماحو ل سے دورکردیتی ہے اورانسان اپنے حصار میں رہ کرجینا شروع کردیتا ہے جوکہ اچھی علامت نہیں۔ مگرمیں جس تنہائی کی بات کررہی ہوں وہ ان سب سے بلکل الگ تھلک ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جس میں انسان نہ صرف خود کی قدر کرنے لگتا ہےبلکہ خدا کی ذات کو بھی پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔کیونکہ اس میں نہ اپ کسی کے پاس جاسکتے ہیں نہ اپ کے پاس کوئی اسکتا ہے بس ایک نفسہ نفسی کا سا عالم ہوتا ہے اورسب کواپنی جان کی پڑی ہوتی ہے یہی سوچ کراگر اس کے پاس گئی توخدا نخواستہ یہ بیماری مجھے لگ جاَئے گی۔ بس اسی ڈر اورخوف کے مارے سبھی ایک دوسرے سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی ہاں میں دوران کویڈ ایسولیشن کی بات کررہی ہوں۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اجکل میں بھی کویڈ میں مبتلا ہوکراس بے بس سی تنہائی کا شکا رہوں جومیری سوچ کے ہر زاوئے میں ایک عجیب سی تبدیلی لا چکا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسا ن اس دنیا میں تنہا اتا ہے اورتنہا چلا جاتا ہے مگر اس بیچ کےسفرمیں بھِی اتنی ازیت ناک تنہائی ہوگی اس کا اندازہ بھی مجھے نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Back to top button