خواتین کا صفحہکالم نگار

بیٹیوں کا دن

فریدہ سلطانہ فری

فری نامہ

اس حقیقت سے تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اللہ پاک کی نظرمیں تمام انسان برابر ہیں اور نبی پاک نے بھی اللہ پاک کی انہی ارشادات کی روشنی میں زندگی گزار کر تمام انسانوں سے برابری ،حسن سلوک اور محبت کا درس دیا ہے مگر ہم انسانون سے اس حوالے سے بہت کوتاہیاں ہوتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے ہماری زندگی اونچ نیچ کا بھی شکار ہورہی ہے پچھلے دنوں بیٹیوں کے قومی دن کے طور پر منایا گیا اگر دیکھا جائے تو ہر دن بیٹیوں کے نام ہونا چاہیے کیونکہ اس بات سے تواب سب لوگوں کا اتفاق ہوگا کہ بیٹاں ہر گھر کے انگن کی زینت اورخوبصورتی ہوتی ہیں بیٹاں انتہائی حساس اور سب کا خیال رکھنے والی بے ضرر سی مخلوق ہوتی ہیں اور بلاشبہ بیٹیاں اللہ رب العزت کی طرف سے والدین کے لیے انعام ہوتی ہیں۔ وہ ایک ایسا پھول ہوتی ہیں جو کِھلتے ہی اپنی خوشبو ہر سُو پھیلا دیتی ہیں۔ نبی آخر الزمان ﷺ خود بھی بیٹیوں والے تھے، اگر کسی کی ایک یا ایک سے زائد بیٹیاں ہیں تو اس سے زیادہ فخر کی کیا بات ہوسکتی ہے کہ اس وجہ سے اسے نبی کریم ﷺ سے ایک نسبت اور مشابہت حاصل ہے۔
رحمت اللعالمین حضرت محمدﷺ نے فرمایا، ’’جس شخص نے تین لڑکیوں اور تین بہنوں کی سرپرستی کی، انہیں تعلیم و تربیت دی اور ان کے ساتھ رحم کا سلوک کیا، یہاں تک کہ خدا انہیں بے نیاز کردے تو ایسے شخص کے لیے خدا نے جنت واجب فرما دی‘‘۔ اس پر ایک آدمی بولا، ’’اگردو ہوں؟‘‘ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’دو لڑکیوں کی پرورش کا بھی یہی صلہ ہے‘‘۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اگر لوگ ایک کے بارے میں پوچھتے تو آپ ﷺ ایک کی پرورش پر بھی یہی بشار ت دیتے۔ (مشکوٰۃ
ہم اسلامی معاشرے کے تو دعوے دار ہیں اورچاہتے ہیں کہ اللہ کی رضآ کی خآطرزندگی گزارے مگرافسوس کا مقام یہ ہےکہ اج بھی ایسے گھرمیں نےدیکھے ہیں جہاں مائیں اس پریشانی میں ہوتی ہیں کہ میرے شوہریا ساس نےاس بار بیٹے کی فرمائش کی ہے اگر بیٹا نہ ہو تو گھر سے نکالے جاوگے اج بھی زمانہ جاہلیت کی طرح اکثریت بیٹی کی پیدائش پر زیادہ خوشی محسوس نہیں کرتی۔ اوراگر ایک سے زائد بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو انہیں رحمت کے بجائے بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ اور دوسر ی تیسری شادی تک اتر اتے ہیں ایسے گھر بھی میں نے دیکھے ہیں جہاں بیٹیوں سے حسنِ سلوک تک روا نہ نہیں رکھا جاتا اور لڑکو ں کے مقابلے میں انہیں جائز حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے اور ایسے گھر بھی ہیں جہان بیٹے اس غرض سے معیاری تعلیمی اداروں میں پڑھایا جاتا ہے کہ وہ خاندان کے کفیل ہوتے ہیں اور بیتٹیوں کو گورنمنٹ سکولوں میں بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ انہیں دوسرے گھر جانا ہوتا ہے یا سرے سے ان کو تعلیم سے ہی محروم رکھا جاتا ہے اج بھی ایسے گھرموجود ہیں جہان حق وراثت سے بیٹیوں کو محروم رکھا جاتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ چترال کی عدالت میں حق وراثت کے کیسز سب سے زیادہ ہیں۔ یوں تو ہم ہررشتوں کا عالمی یا قومی دن میڈیا میں شاندار طریقے سے منا رہے ہوتے ہیں مگرعملی طور انہی رشتوں کو نبھانے میں اتنے کامیاب نہیں ہیں جنتے میڈیا میں خود کودیکھآ رہے ہیں۔
ایک دن بیٹی کے نام کرنا اچھی بات ہے مگر اس سے بھی زیادہ اچھی بات یہ ہوگی کہ بیٹی کواچھی تعلیم وتربیت سے نواز کر اسے باآختیار اور باشعوربنایا جاَئےاورصنفی امیتاز سے بالا تر رکھ کر اس کی بنیادی حقوق اسےدی جائے۔ والدین کو چاہیے کہ بچپن ہی سے بچیوں کی مہارتوں اورصلاحیتوں پراعتماد کرتے ہوئے انھیں آگے بڑھنے کی جانب مائل کریں تاکہ وہ اپنی شخصیت سے متعلق ظاہری اور باطنی دونوں قسم کا اعتماد حاصل کرکےتعلیم و تربیت کی روشنی میں اگے بڑھ کر معاشرے کے ایک کامیاب فرد کے طور پر جانا جاسکیں۔

Back to top button