تعلیمخبریںگلگت بلتستان

آغا خان ایجوکیشن سروس گلگت بلتستان کے زیر اہتمام تقریبِ تقسیمِ اسناد و انعامات

گلگت (چمرکھن )آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان، گلگت بلتسان اور چترال کے نونہالوں کو معیاری تعلیم سے مستفیض کرنے میں ملک میں اپنی نوعیت کے نتعلیمی اداروں میں مثالی کردار کر رہی ہے ۔ ان سکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ ملک اور ملک سے باہر نامور جامعات سے اپنی تعلیم مکمل کرکے مخلتف اداروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں سول سروس اور افواج پاکستان کے علاوہ طب ، انجینئرنگ اور دیگر شعبے شامل ہیں ۔ آج اساتذہ کے قومی دن کے موقع پر آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان ، گلگت بلتسان کے تمام سکولوں نے مل کر حالیہ سالانہ امتحانات میں قومی اور صوبائی سطح پر نمایاں پوزیشن حاصل کرکے والدین ، استاتذہ اور قوم کا نام روشن کرنے والے ستاروں کے اعزاز میں Merit Citation کے نام سے ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا ۔ پروگرام میں آغا خان یونیورسٹی ایجوکیشن امتحانی بورڈ اور قراقرم انٹرنشل یونیورسٹی امتحانی سیکشن کے سالانہ امتحانات برائے سال 2021-22 میں جماعت ,نہم تا دو از دہم ، نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو تعریفی اسناد اور انعامات سے نوازا گیا ۔

    اس تقریب کے مہمان خصوصی چیف سیکرٹری گلگت بلتسان جناب محی الدین احمد وانی تھے ۔ محفل کی صدارت اسماعیلی ریجنل کونسل گلگت کے پریزیڈنٹ جناب نعیم اللہ نے کی۔ اس محفل میں علمی گفتگو کےلیے وزیرفدا علی ایثار مدعو تھے۔ جبکہ جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان گلگت بلتسان اور چترال بریگیڈئِر( ریٹائرڈ) خوش محمد خان اور اُن کا جملہ عملہ، آغا خان ایجوکیشن سروس گلگت بلتسان کے سکولوں کے پرنسپلز اور ہیڈماسٹرز اور طلبہ تقریب کا مرکز رہے۔ دیگر مہمانوں میں سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور طلبہ کو حوصلہ بخشا ۔

    تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور نعتِ رسول مقبوٖل صلی اللہ علیہ و الہِ وسلم سے ہوا ۔ اس کے بعد جنرل منیجر آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان ، گلگت بلتسان اور چترال بریگیڈئِر( ریٹائرڈ) خوش محمد خان نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے پروگرم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آج کی اس تقریب کا مقصد آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی ایگزامینیشن سیکشن کے سالانہ امتحانات منعقدہ 2021-2022 میں شاندار کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔میں اس تقریب کی وساطت سے اپنے ہونہار طلبہ، ان کے والدین اور اسکول کے اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔آپ نے ہمار سر فخر سے بلند کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ دنیا میں آج کا یہ دن اساتذہ کی انتھک محنت اور علمی کاوشوں پر اُنہیں خراج تحسین اور سلام پیش کرنے کےلیے منایا جارہا ہے لہذا میں آج سی ای او آغاخان ایجوکیشن سروس پاکستان ،مرکزی انتظامیہ ،آغاخان ایجوکیشن سروس پاکستان کے کُلی عملہ اور اپنی جانب سے پوری دنیا، پاکستان اور خصوصی طور پر گلگت بلتسان و چترال کے تمام اساتذہ کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ اس سال کے یوم اساتذہ کو ہم ” تعلیم کی پیوندکاری کی ابتدا اساتذہ سے شروع ہوتی ہے ” کے موضوع پر منا رہے ہیں ۔اُنہوں نے آغا خان ایجوکیشن سروس کے سکولوں کی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آغا خان ایجوکیشن سروس کی طرف سے گوادر بلوچستان میں پہلے سکول کے سنگ بنادسے آج تک ایک صدی گزر چکی ہے جبکہ گلگت بلتسان میں ان سکولوں کی تاریخ سات عشروں پر محیط ہے ۔ اس سرزمین پر 1946 میں بارہ پرائمری سکوں کے قیام سے لیکر آج تک معیاری تعلیم کو سب کے لیے عام کرنے میں ہم نے بے مثال کامیابی حاصل کی ہے اور یہ سفر جاری و ساری ہے ۔

    اُنہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار اور اہلیت کے ضمن میں دنیا مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے ۔اس سرعت سے بدلتی دنیا کے طلبہ نے ٹکنالوجی میں اتنی مہارت حاصل کی ہے کہ کسی بھی قسم کی معلومات کونہ صرف لمحوں میں یکجا کر سکتے ہیں بلکہ اُنہیں پرکھ کر نتیجہ اخذ کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ۔اس پر مستزاد یہ کہ یہ طلبہ دنیا کے مسائل کے ساتھ ساتھ مواقع کا بھی بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ایسے تیز طراز طلبہ کے لیے درس و تدریس کے روایتی طریقوں سے معلومات کی فراہمی کو تسلی بخش بنانا اساتذہ کے لیے ایک مشکل امر ہے ۔ بہ زبانِ ہز ہائنس آغاخان:

 “What students know is no longer the most important measure of an education. The true test is the ability of students and graduates to engage with what they do not know, and to work out a solution. They must also be able to reach conclusions that constitute the basis for informed judgements. The ability to make judgements that are grounded in solid information, and employ careful analysis, should be one of the most important goals for any educational endeavour.”

Further on, His Highness says “there is no better investment that individuals, parents and the nation can make than an investment in education of the highest possible quality. Such investments are reflected, and endure, in the formation of the kind of social conscience that our world so desperately needs.” 

 ہز ہائنس مزید فرماتے ہیں ۔

 "We live in a time of rapid change — change that is often unpredictable and not always positive. My experience with development, as an observer and a practitioner, has led me to the conclusion that the best way to manage change, whether positive or negative, is to prepare for it and that there is no greater form of preparation for change than investments in education. These investments must focus, of course, on teachers of the highest quality — teachers who are creative and committed to their own life-long learning and self-improvement. It also means investments in facilities that provide an environment conducive to the less tangible but equally important elements of an education — self-esteem, leadership, tolerance, ethical judgment and moral reasoning.”

جنرل منیجر نے کہا کہ ہز ہائنس کی راہمائی کی روشنی میں آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان، علاقے میں تعلیم کے معیار کر بہتر بنانے کے ضمن میں مختلف اقدامات مثلاً ای سی ڈی پر خصوصی توجہ، کمرہ جماعتوں کی توسیع، مخصوص نصاب کا اجرااور اساتذہ کی پیشہ وارانہ تربیت پر سرمایہ کاری کے علاوہ سبجیکٹ اسپیشیلسٹ ٹریننگ ، پرائمری تا جماعت ہشتم پہلے سےتیار شدہ سبقی منصوبہ بندی کی فراہمی ، اسکیم اف ورک اور سب سے بڑھ کر تمام سکولوں میں PrISM (Personal, Intellectual, Social and Moral development) کو نصاب کا حصہ بنا کر بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت کے لیے کوشاں ہے ۔

    سکولوں کو میسر سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی تجربہ گاہوں کی توسیع عمل میں لائی گئی ہے اور36 سکولوں کی کمپوٹر لیبس میں جدید کمپوٹرز، تھِن پیڈ اور ٹبلیٹس مہیا کی جا چکی ہیں ۔ طلبہ کو ٹکنالوجی کے جدید طریقوں سے پڑھانے کے لیے جماعت اول تا دو از دہم ICT سلیبس فراہم کیا گیا ہے ۔ پنتیس سکولوں کے اساتذہ اور طلبہ تیز رفتار انٹر نٹ کی سہولت سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ قابل مگر ضرورت مند طلبہ کی مالی اعانت کو ترجیح حاصل ہے ۔اس وقت ہمارے سکولوں میں طلبہ کی کل تعداد28288 ہے جن میں سے 15591 طلبہ کی میرٹ کی بنیاد پر مالی اعانت ہو رہی ہے ۔ 

    صاحب موصوف کی تقریر کے بعد پروگرام کو مختلف حصوں میں پیش کیا گیا – جس میں طلبہ کی طرف پیش کی جانے والی مختلف سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تقسیم اسناد کا سلسلہ بھی جاری رہا ۔ ڈائمند جوبلی ہائی سکول سونی کوٹ، ڈائمند جوبلی ہائی سکول دنییور، ڈائمنڈ جوبلی ہائی سکول محمد آباد اور آغا خان ہائیر سیکنڈری سکول گلگت کے طلبہ نے تلاوت کلام پاک کا اُردو اور انگیزی ترجمہ ، نعت رسول مقبوٖل صلی اللہ علیہ و الہِ وسلم، ملی نغمے اور شاعری سے تقریب کو چار چاند لگادیا ۔اس پروگرام کی دوسری نشست تقسیم اسناد اور انعامات پر مبنی رہی ۔ جس میں سالانہ امتحانات میں ملکی اور صوبائی سطح پر امتیازی نمبر حاصل کرنے والے درج ذیل طلبہ کو بدست مہمان خصوصی اور دیگر مہمانان تعریفی اسناد و انعامات سے حوصلہ افزائی کی گئی۔ 

گلگت بلتسان کے مشہور سکالر وزیرفدا علی ایثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تمام ساتازہ کو یوم اساتذہ کے اس پرمسرت موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے طلبہ کی شاندار کامیابی کو استاتذہ کی محنت کا ثمر قرار دیتے ہوئے کہاکہ اللہ تبارک وتعالی نے قران پا ک میں نبی پاکؐ کے لیے کئی ایک القابات سے نواز لیکن نبی کریم ؐ نے اپنے لیے "علم کا شہر ” لقب پسند فرمایا ۔ لہذا علم پھیلانا میراث پیغمبری ؐ ہے ۔ اُنہوں نے طلبہ کی اچھی تعلیم و تربیت پر آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کی کوششوں کو سرہا اور طلبہ کو ایک منظوم پیغام میں کہا 

؎ گفتار میں کردار میں ہو جاو یگانہ

تا درس ِ عمل تم سے ہلے اہل زمانہ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری گلگت بلتسان جناب جناب محی الدین احمد وانی نے سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے تمام طلبہ اور اساتذہ کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان معیاری تعلیم کو عام کرنے میں اپنی مثال آپ ہے ۔اُنہوں سال 2021-22 کے سالانہ امتحان میں قومی اور صوبائی سطح پر امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ طلبہ کی اس شاندار کامیابی کے پیچھے صرف طلبہ کی محنت ہی نہیں بلکہ اساتذہ اور والدین کی کوششیں بھی کار فرما ہیں ۔ صاحب موصوف نے آج کے دن کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے اساتذہ کو سلام پیش کیا اور آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے سکولوں میں جدید درس و تدریس کے طریقوں کو سرہا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ بھی تعلم کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہی اصلی معنوں میں سرمایہ کاری ہے اور جو پیسہ ہم کسی دوسری سرگرمی کےلیے خرچ کرتے ہیں وہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ بے مقصد اخراجات ہیں ۔ تعلیم پر خرچ کرنا سرمایہ کاری کی وہ بہترین قسم ہے کہ جس سے قوم و ملت کو آشتی ، محبت ، انسان دوستی اور ہمدردی کا ثمر ملتا ہے۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان اور یہاں کےلوگوں نے مل کر اپنے علاقے کے نونہالوں کےلیے جو سرمایہ کاری کی ہے اُس کا نتیجہ ملک میں معاشی و معاشرتی ترقی، امن ، برداشت اور حب الوطنی کی صورت میں ملے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ آغا خان ایجوکیشن سروس نہ صرف تعلیم پر سرمایہ لگا رہی ہے بلکہ جدید طرز تعلیم کو بلا امتیازِ علاقہ ، رنگ و نسل اور زبان و مسلک کے سب کے لیے عام کرنے میں کوشاں ہے ۔ آج کی تقریب کا خلاصہ اس امر کی دلیل ہے کہ آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان جدید اور معیاری تعلیم کو سب کے لیے عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے لہذا یہ ادارہ ہزرا تحسین اور مبارکباد کا مستحق ہے ۔

تقریب کے صدر پریزیڈنٹ اسماعیلی ریجنل کونسل گلگت جناب نعیم اللہ نے اپنے صدارتی خطبے میں طلبہ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اُنہیں اپنی تعلیمی راستوں کو دنیا کے جدید تقاضوں سے ہم اہنگ کرنے کے لیے دن رات محنت کرنی پڑے گی ۔ اگرچہ دنیا میں کامیابی کے مواقع بے شمار ہیں لیکن اُن تک رسائی کےلیے طلبہ کو برق رفتاری سے اپنا علمی سفر جاری رکھنا ہوگا ۔آخر میں آغا خان ایجوکیشن سروس گلگت بلتسان غذر ریجن کے سنیئِر منیجر بلبل خان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ طلبہ اور مہمانوں کی ایک گروپ فوٹو گرافی کے ساتھ یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی ۔

Back to top button