اپر چترالخبریںموڑکھو

نوجوان طالب علم بونی روڈ پر ریشن کے قریب موٹر سایکل سمیت دریائے چترال میں گر کر لاپتہ۔ تلاش جاری ہے۔

چترال(گل حماد فاروقی) نوجوان طالب علم موٹر سایکل سمیت دریاے چترال میں گر کر لاپتہ۔ تفصیلات کے مطابق شایان احمد جو موٹر سایکل پر جارہا تھا وہ ریشن کے قریب اویر پل کے پاس دریاے چترال میں موٹر سایکل سمیت گر کر لاپتہ ہوا ہے۔ ابھی تک تلاش جاری ہے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر محمد جمیل چترالی کا بھتیجا شایان احمد ولد شکیل احمد عمر سولہ سال جو عصر کے وقت موٹر سایکل پر بونی کی جانب جارہا تھا وہ ضلع اپر چترال میں ریشن کے قریب لون پل سے آگے دریائے چترال میں گر گیا۔
شایان احمد نے حال ہی میں میٹرک کا امتحان دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی بہنیں بھی اسی سڑک پر جارہی تھی جن کو شایان احمد نے کراس کرکے آگے نکلا اور ان کے سامنے وہ موٹر سایکل سمیت دریاء میں گر گیا جنہوں نے ریشن میں جاکر لوگوں اور گھر والوں کو بتایا کہ شایان دریا میں گر گیا۔ مقامی لوگوں نے اس کی تلاش شروع کردی تاہم اس رپورٹ کی تحریر تک اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ واضح رہے کہ چترال میں سڑکوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہہ ہے۔ اس سڑک پر تعمیراتی کام بھی شروع ہو اتھا جس کی کشادگی ہورہی تھی۔ مقامی لوگ اکثر شکایت کرتے رہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر نگرانی جو سڑک کی کشادگی ہورہی ہے اس میں ٹھیکدار دریا کی جانب غیر معیاری حفاظتی دیوار تعمیر کررہا ہے۔
ہمارے نمائندے نے پشاور یونیورسٹی میں پروفیسر ڈاکٹر جمیل سے فون پر بات کرکے ان سے اس واقعے کے بارے میں تفصیلات پوچھی جنہوں نے تصدیق کرلی کہ شایان احمد میرا بھائی کا بیٹاتھا جن کی تین بہنیں ہیں اور یہ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا جو اس حادثے کا شکار ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے ریسکیو 1122 والوں سے بات ہوئی ہے جو ریسکیو اپریشن میں مصروف تھے مگر پانی نہایت گدلا ہے اور شام کے بعد ریسکیو اپریشن بند کرنا پڑا اب صبح روشنی لگتے ہی ریسکیو اپریشن دوبارہ شروع ہوگا۔ پروفیسر جمیل اس واقعے کا سن کر وہ خود بھی چترال کی طرف روانہ ہوا ہے اور وہ راستے میں تھے۔ تاہم وہ اس بات پر نہایت رنجیدہ تھے کہ شایان احمد والدین کا اکلوتا بیٹا ہونے کے ناطے یہ حادثہ پورے خاندان کیلئے نہایت ناقابل برداشت دکھ ہوگا۔ انہوں نے تمام لوگوں سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ شایان کیلئے دعا کرے کہ وہ آسانی کے ساتھ مل سکے۔

Back to top button