اپر چترالٹیکنالوجیخبریںمستوج

بجلی کی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کے خلاف اپر چترال کے عوام 27 جون کو بھر پور احتجاج کرینگے۔ عمائدین کی میٹنگ میں متفقہ فیصلہ ۔

بونی (ذاکر زخمی ) عرصہ دراز سے اپر چترال اور کوہ یو سی شدید بلکہ بدترین لوڈ شیڈنگ کی زد میں ہے۔کئی بار میٹنگ منعقد ہوئے قرارداد پاس کرکے حکامِ بالا تک پہنچا دیے گئے عدالت کے دروازے کھٹکھٹائے گئے۔صوبائی اسمبلی،قومی اسمبلی اور سینٹ تک چیخ و پکار سننے کو ملے لیکن متعلقہ زمہ دار اندھے ،بہرے اور گونگے بن کے عوام کو شدید ہریشانی سے دوچار کیے ہوئے ہیں اور نتیجہ صفر ہی رہی۔ لوگوں کے کاروبار ان سے چھین لیے گئے بچوں کو تعلیم کی سہولت سے محروم رکھا گیا کسی کی التجا پر کوئی کان دھرنے کو تیار نہیں تو عوام کو مجبوراً تنگ آمد بجنگ آمد کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا پڑا ہے۔امیرِ جماعت اسلامی مولانا جاوید حسین کی کال پر آج اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی میں باضابطہ میٹنگ منعقد ہوئی۔

جس میں سابق ناظمین،کونسلرز،نو منتخب ویلج چیرمین،تحریکِ حقوقِ عوام اپر کے زمہ دران اور سول سوسائٹیز کے نمائیندوں نے بھر پور شرکت کی تلاوت کلام پاک سے ابتدا کی گئی۔

صدارت سابق تحصیل ناظم شمس الرحمن لال نے کی ۔ اجلاس میں متفقہ طور پر 24جون کو کوہ میں ہونے والے جلسے میں شرکت کا فیصلہ کیا گیا تھا (جو بعد میں معلوم ہونے پر کہ کوہ جلسہ 28 تک موخر کردی گئی ) کوہ جانے کو تب تک موخر کر کے 27 جون کو اپر چترال کے مختلف جگہوں پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کافیصلہ کیاگیا اور قرار داد کے ذریعے تمام زمہ دراں بشمول عوامی نمائیندوں کو متنبہ کی کہ مسلہ حل نہ ہونے کی صورت میں شندورو روڈ تا منظوری مطالبہ بلاک کر دیا جائیگا۔اور عوام اس وقت اپنی بنیادی حق کے حصول کےلیے ہر قسم کے قربانی دینے کو تیار ہے۔اس میٹنگ میں اپر چترال کےہر علاقے سے صارفینِ بجلی کی نمائندگی کرتے ہوئے نمائندہ موجود تھے .

Back to top button