ٹیکنالوجیخبریں

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 59 روپے تک اضافے کا اعلان کر دیا گیا

اسلام آباد (چمرکھن – اُردو پوائنٹ ) حکومت نے عوام پر چند ہی دنوں میں تیسرا پٹرول بم گرا دیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 59 روپے تک اضافے کا اعلان کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 16 جون سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ آج رات 12 بجے سے پٹرول 24 روپے اور ڈیزل 59 روپے مہنگا ہو جائے گا۔

رات 12 بجے کے بعد پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 233 روپے 89 پیسے ہو گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 263 روپے 61 پیسے مقرر کر دی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے 15 دنوں کے دوران پٹرول کی قیمت میں 84 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 115 روپے مہنگا کیا گیا۔ اس سے قبل ایکسپریس نیوز کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر تک اضافے کی سمری حکومت کو ارسال کی.

 اوگرا نے حکومت کو تجویز دی کہ پٹرول 29 جب کہ ڈیزل 55 روپے فی لٹر مہنگا کیا جائے۔ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر حتمی فیصلہ آج ہی کرنا تھا۔ قبل ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اب پٹرول اور ڈیزل پر کوئی سبسڈی نہیں دیں گے۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’ آج شاہزیب خانزادہ ‘ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق قیمتیں ہوں گی۔

جوالائی کے مہینے میں نقصان میں نہیں جائیں گے، سبسڈی کو اس سال ختم کریں گے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام نہ ملا تو ڈیفالٹ کے علاوہ چارہ نہیں۔ اس سے قبل بھی انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیا۔ مفتاح اسماعیل نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے جبکہ پٹرول کی قیمت میں 28 سے 30 روپے اضافے کی تجویز دی گئی۔

وزیر خزانہ نے پٹرولیم لیوی عائد کرنے کا بھی عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ آہستہ آہستہ پٹرولیم لیوی بڑھاتے رہیں گے۔ 5 روپے سے شروع کریں گے اور سال کے آخر تک پٹرولیم لیوی کی مد میں ساڑھے 700 ارب روپے تک جمع کر لیں گے، اس سے ہمارے بجٹ خسارے میں کمی ہو گی۔اس سے قبل اپنی بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پٹرولیم کی قیمتوں کے پیش نظر کم آمدنی والے طبقہ کو تحفظ دینے کا فیصلہ کیا ہے

Back to top button