تعلیمثقافتٹیکنالوجی

Wu Wei” وو-وی

ندا اسحاق

 

ایک کسان کچھ موٹیویشنل وڈیوز دیکھنے کے بعد سوچتا ہے کہ اب اسے دوگنی محنت کرنے اور امیر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، کسان کھیتوں میں جاتا ہے سوچتا ہے وہ دوگنی محنت کرکے جلدی اور بہترین نتائج حاصل کرسکتا ہے، کھیتوں کو دوگنا پانی دے کر اور دوگنا پسینہ بہا کر وہ جلدی امیر اور کامیاب کسان بن جائے گا۔ لیکن افسوس کہ دوگنا پانی کھیتوں کو سر سبز کرنے کی بجائے خراب کردیتا ہے۔

جب بات کامیابی کی یا اپنے مقصد کو پورا کرنے کی آئے تو ہمارا رویہ بھی اس کسان سے مختلف نہیں ہوتا۔ ہمیں بھی کہا جاتا ہے کہ دوگنی محنت کرو کیونکہ کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، ہم بھی موٹیویشنل وڈیوز دیکھ کر پرجوش ہوجاتے ہیں لیکن کچھ ہی دنوں میں جب فطرت کے قوانین آڑے آتے ہیں اور حقیقت کے تھپڑ منہ پر لگتے ہیں تو ساری موٹیویشن ہوا اور وقت ضائع ہوجاتا ہے۔ موٹیویشن بری نہیں ہوتی، یہ کسی حد تک ضروری ہے لیکن اگر موٹیویشن کو حقائق کے ساتھ ملا کر عمل کروایا جائے تو شاید بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ فطرت کے قوانین کو مدِ نظر نہیں رکھیں گے تو چاہے ڈبل محنت کرلیں نتائج ہمیشہ آپ کی توقع کے مطابق نہیں ہونگے۔ فطرت کا ہر کام کو کرنے کا اپنا الگ راستہ ہے، آپ اس رستے کو جوڑ توڑ(manipulate ) تو سکتے ہیں لیکن بدل نہیں سکتے۔

موٹیویشن کو حقائق اور فطرت کے ساتھ سیدھ میں لانے کا عمل ہمیں چائنیز فلسفہ “وو -وی” (wu-wei) کی جانب لے کر جاتا ہے۔ یہ فلسفہ پیراڈاکسیکل ہے، اس کے کئی لفظی معنی ہیں جن میں “غیر کاروائی”(non action)، “بے عمل کاروائی” (actionless action), “آسان کاروائی”(effortless action)، اس کے علاوہ اور بھی کئی لفظی معنی شامل ہیں۔ آپ بھی سوچیں گے کہ بنا ایکشن کے کونسی کامیابی ملے گی؟ دراصل تبھی تو یہ فلسفہ متضاد ہے اور اسکی کئی پرتیں ہیں۔ ‘ٹاؤ ٹی چِنگ’ (Tao Te Ching) کے لکھاری ‘لاؤ سو’ (Lao Tzu) کہتے ہیں کہ فطرت اپنے قوانین کے حساب سے چلتی ہے، فطرت میں ہماری بےجا مداخلت اکثر ہمیں تکلیف دیتی ہے، البتہ فطرت/دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لاؤ سو کا فلسفہ ہمیں وو-وی کی مختلف پرتوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ کس طرح ہم وو-وی کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں عملی جامعہ پہنا سکتے ہیں۔

وو-وی کی عام تشریح (پہلی پرت):
وو-وی کی عام تشریح یہی ہے کہ اپنے عمل کو فطرت کے قوانین کے ساتھ ملا کر زندگی گزارنا۔ ایکشن تب لینا جب ضروری ہو، اور ایکشن لے کر فطرت کو اسکا کام کرنے دینا۔ جیسا کہ کسان اگر بیج بو کر پانی دے کر فطرت کو اسکا کام کرنے دیتا، بار بار پانی دے کر فطرت کے کام میں مداخلت نہیں کرتا تو اسکو آخر میں بس پھل کاٹنے کا انتظار کرنا پڑتا۔

اسکی ایک اور مثال اچھی عادت بنانے اور بری عادت ختم کرنے کی ہے۔ موٹیویشنل وڈیوز ہمیں جذبہ ضرور دیتی ہیں لیکن یہ نہیں بتاتی کہ ان عادتوں کو بنانے کے لیے انٹیلیجنٹ اپروچ کے ساتھ فطرت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ نئی عادت بنانا مطلب دماغ میں نئے نیورون (neuron) کو حرکت میں لاکر نئے راستے بنانا اور پرانی عادت ختم کرنا مطلب کہ نیورون کی حرکت کو روکنا۔ نئے راستے بننے اور پرانے راستے ختم ہونے میں وقت لگتا ہے، آپ چاہے کچھ بھی کر لیں فطرت نے اپنے مقررہ وقت پر ہی نئے نیورون کو حرکت دینی ہے۔ اسی لیے ہم اکثر ڈی-موٹیویٹ ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم سے صبر نہیں ہوتا، ہم سکون سے اپنا کردار پورا کرکے فطرت کو اسکا کام نہیں کرنے دیتے، اور یہی وجہ کہ ہم مایوس ہوجاتے ہیں۔ یا بعض اوقات خود پر مزید جبر کرکے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن نتیجہ ہماری توقعات کے برعکس نکلتا ہے۔

کبھی کبھار جبر کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، لیکن کہاں فورس کرنا ہے اور کہاں نہیں اس کے لیے اس گیم کی معلومات ہونی چاہیے جسے کھیلنے کی آپ نے ٹھانی ہے۔ آپ کو ایکٹو(active) اور پیسو (passive) دونوں قوتوں کا استعمال آنا چاہیے۔ ہر جگہ بغاوت اور ہر جگہ خاموش رہنے کے لیے نہیں ہوتی۔

وو-وی کی دوسری پرت:
اب تھوڑا اور گہرائی میں جائیں تو وو-وی کی “آسان کاروائی” (effortless action) والی تعریف بہت ہی دلچسپ اور غور طلب ہے۔ یوں تصور کریں کہ دریا میں کشتی اسی سمت میں جارہی ہے جس سمت میں دریا کا بہاؤ ہے، آپ اگر بہاؤ کے خلاف جانے کی کوشش کریں گے تو بہت انرجی لگے گی، اور فرض کریں کہ دریا سے لڑنے کی ہمت آپ میں نہیں تو ایسے موقعوں پر بہاؤ کے ساتھ بہنا بہتر فیصلہ رہتا ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ منزل کیا ہے، نتیجہ کیا ہوگا، یوں سوچیں آپ نتائج سے بے فکر دریا کی سمت فالو کررہے ہیں، کہیں نہ کہیں ضرور پہنچیں گے ۔ کافی تصوراتی تعریف ہے، اب اس پر عام زندگی کی مثال کو اپلائی کرکے دیکھتے ہیں۔

اگر آپ کو کسی سے ملنے جانا ہے، یا پھر آپ کی پریزنٹیشن ہے تو سب سے پہلا خیال جو ذہن میں آئے گا وہ یہ ہوگا کہ جس سے ملنا ہے وہ مجھے پسند کرے، اور پریزنٹیشن ایسی ہو کہ تالیوں کی گونج ہو پورے ہال میں۔
یقیناً پہلے سے تیاری کرنا غلط نہیں لیکن اس بات کو ذہن میں رکھنا کہ وہی ہو جو آپ نے سوچا ہے تو اس سے آپ پر ایک پریشر آئے گا، اب آپ کا ایکشن نیچرل نہیں اب آپ پسند کیے جانے کے لیے جبر کررہے ہیں اور اب ذرا سی چُوک یا تالیوں میں کمی آپ پر زیادہ گراں گزرے گی۔ ہم سب انسان نیچرل اور اچانک سے پیش آنے والے اتفاق کو پسند کرتے ہیں۔ بناوٹ یا ضرورت سے زیادہ تیاری ہمیں زیادہ عرصہ متاثر کیے نہیں رہتی۔ ہم نیچر کا پراڈکٹ ہیں اور لاشعوری طور پر ہماری ترجیح بھی نیچرل رویے ہوتے ہیں۔

سوچیں کسی نے آئن اسٹائن یا بیتھوون سے پوچھا ہو کہ اتنی پیچیدہ سائنس یا اتنا بہترین میوزک کیسے بنا لیتے ہو ہمیں بھی کوئی طریقہ بتاؤ، دونوں نے جواب میں کندھے اچکائے ہونگے یقیناً! ہمارے وہ دوست جو کسی مشکل کام کو یونہی کرلیتے ہیں اور ہمارے پوچھنے پر کہتے ہیں کہ ‘یار! پتہ نہیں بس ہوجاتا ہے مجھ سے’، ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنے اس ٹیلنٹ یا اس خاص حرکت سے اٹیچ نہیں ہوتے، وہ اسے بہت نیچرلی اور بنا زیادہ سوچے اور طاقت لگائے کرلیتے ہیں اور ہم حیرانگی میں مبتلا رہتے ہیں کہ ان کے پاس ایسی کونسی طاقت ہے جو ہمارے پاس نہیں۔

وو-وی کی تیسری پرت:
اب مزید گہرائی میں جاکر دیکھتے ہیں تو ہمارا سامنا خود شناسی (ego) اور خالی پن (emptiness) سے ہوتا ہے۔ ہماری شخصیت کا دارومدار ہمارے کلچر، نظریات جو ہمیں پڑھائے گئے، ماحول پر ہوتا ہے۔ ہم اسی خول میں رہ کر اپنے مخصوص نظریات اور تجربات کا چشمہ لگائے دنیا اور اپنے مسائل کا حل ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر محدود نظریات کو تھامے اگر شوہر اپنی بیوی سے گفتگو کررہا ہے تو اس کی ایگو اسے معاملات کا حقیقی جائزہ لینے سے روکے گی کیونکہ جہاں بیوی نے کچھ ایسا کہا جو شوہر کے نظریات سے ہٹ کر ہے وہ مجرم قرار پائے گی۔ وہ لوگ جو اپنی دانشوری کی چار دیواری میں رہتے ہیں وہ معاملات کا دوسرا رخ نہیں دیکھ پاتے۔ جتنی بڑی ایگو اتنا ہی اپنے نظریات پر اٹل رہتا ہے انسان۔ اسی لیے لاؤسو غیر منبت شدہ بلاک (uncarved block) بننے کی تلقین کرتے ہیں، ایک ایسا انسان جو اپنے دانشوری اور پختہ نظریات کے بوجھ تلے نہ دبا ہو تاکہ ایک کلیئر ویژن کے ساتھ دنیا اور معاملات کا حقیقی جائزہ لے سکے۔

اکثرفلسفی ٹاؤ-ٹی-چنگ میں موجود لفظ ‘خلا’ (emptiness) کو کشادگی (openness) سے تشبیہ دیتے ہیں، یعنی قبول کرنے کی صلاحیت۔ یعنی وو-وی محض فطرت کے قوانین کو فالو کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اس سے کئی بڑھ کر، یعنی اپنے نظریات اور خیالات کو بدلنے کی ہمت کا نام بھی ہے(یقین مانیے اپنے نظریات اور خیالات کو چیلنج کرنا بہت ہمت کا کام ہے)۔

مزید گہرائی میں جائیں تو چائنیز فلسفی شونگزی ایک قصہ سناتے ہیں کہ

“کنفیوشس (Confucius) کے پاس انکا ایک شاگرد آیا اور کہا کہ وہ موجودہ جابر حکمران کے پاس جاکر اسے بتانے والا ہے کہ کس طرح اسکی جابرانہ پالیسی سے لوگوں کو تکلیف ہے، اسے ریاست چلانے نہیں آتی۔ اس پر کنفیوشس نے جواب دیا کہ:
“تمہارے مقاصد انا پر مبنی ہیں، تمہیں کیا لگتا ہے کہ وہ تمہاری سنے گا۔ ایک عام آدمی اپنے عام معاملات میں دوسروں کا بولنا پسند نہیں کرتا تو ایک جابر حکمران سے یہ امید رکھنا کہ وہ آپ سے سنے کہ اسے ریاست کس طرح چلانی چاہیے، خواب ہے!
البتہ کنفیوشس نے اسے مشورہ دیا کہ وہ حکمران کو سکھانے کی بجائے خود اس ریاست کے رسم و رواج، پالیسی، اور حکمران کے طریقہ کار پر غوروفکر کرے اور اسے سمجھے اور جب موقع ہاتھ آئے(کیونکہ حکمران کی غلط پالیسی کا نتیجہ سامنے غلط ہی آنا ہے) تو وہ مشکل حالات میں بہتر حل نکالنے کے قابل ہوگا, لیکن اس سے قبل اسے اپنا سیکھا ہوا اور نظریات جسے وہ سب سے درست مانتا ہے ، کو بالائے طاق رکھ کر جابر حکمران اور اسکی ریاست کو سمجھنا ہوگا۔”

یہ کام بہت ہمت کا ہے، کسی سوپر ہیومن کے بس کا ہے، عام آدمی کو تو خود کے علاوہ کوئی صحیح نہیں لگتا اور جس نےغلطی سے چار کتابیں پڑھ لیں، پھر تو ناممکنات میں شامل ہے ایسی ہمت کا مظاہرہ کرنا۔ لیکن جس نے ایسی ہمت کی وہ بنا انرجی ضائع کیے اپنے مسائل کے حل ڈھونڈتا ہے۔

(وو-وی کا فلسفہ بہت گہرا ہے، میں نے آسان الفاظ میں اپنی محدود سمجھ کے ساتھ لکھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن فلسفہ سمجھنے کے لیے اسکی بنیاد رکھنا ضروری ہوتا ہے، کسی کے پاس زیادہ آسان الفاظ میں وو-وی کی مثالیں ہیں تو شیئر کر سکتے ہیں)۔

Back to top button