تعلیمخبریں

آل امپلائز ایسوسی ایشن جامعہ چترال جامعہ چترال کے جملہ ملازمین نے پر امن احتجاج کا اعلان کر دیا

 

جامعہ چترال میں جاری لاقانونیت اور خیبرپختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ کی مسلسل پامالی اور انتظامی و مالی بے قاعدگیوں کے خلاف جامعہ کے پیشرو اور بانی ملازمین نے آج سے پر امن احتجاج کا آغاز کیا ہے۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی کے جملہ امور خیبرپختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ کے مطابق انجام دیے جانے چاہئیں۔ یاد رہے گزشتہ چھ سالوں سے یونیورسٹی آف چترال تین بابوؤں کے ہاتھوں یرغمال ہے، جنہوں نے غیر قانونی طور پر خود کو ایک سے زیادہ اضافی انتظامی اور فنانشل پوسٹوں پر تعینات کیے بیٹھے ہیں۔ اس قبضہ مافیا کی لاقانونیت اور بے قاعدگیوں اور خود غرضانہ کاموں کی وجہ سے یونیورسٹی زوال کی طرف گامزن ہے۔ ایک کلرکل سٹاف سپرنٹینڈنٹ کے پاس دو غیر قانونی کلیدی اضافی چارجز ہیں۔

یہی سپرینٹنڈنٹ یونیورسٹی کے پی اینڈ ڈی کا بھی ذمہ دار ہے اور ساتھ ساتھ اسسٹنٹ کنٹرولر سیکریسی بھی ہے۔ ساتھ ساتھ یہی بابو یونیورسٹی کے سٹیٹیوٹس ڈرافٹ کرنے والی کمیٹی کا سیکریٹری بھی ہے۔ یہ ساری تعیناتییقں اور ذمہ داریاں خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایک دوسرا کلرکل سٹاف سپرینٹنڈنٹ کے پاس اضافی چارجز اسسٹنٹ رجسٹرار اکیڈیمکس اور انچارج اسپورٹس بھی ہیں اور ساتھ ساتھ اسسٹنٹ رجسٹرار میٹنگ اینڈ ریکارڈز آفس کا بھی غیر اعلانیہ انچارج یہی بابو ہے۔ ایک نان گیزیٹیڈ آڈٹ آفیسر جامعہ چترال کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی ہے اور ساتھ ساتھ وہی خود سینیئر آڈیٹر بھی ہے۔ یاد رہے یہ ساری تعیناتیاں قانون کی صریح خلاف ورزیاں ہیں۔ ان کے خود غرضانہ اور ہائی جیک کرنیوالی کرتوتوں کی وجہ سے آئے روز یونیورسٹی کے ملازمین اور طلباء کے لیے مسئلے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ ان تینوں نے پہلے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو بلیک میل کرکے خود کو مذکورہ کلیدی انتظامی عہدوں پر تعینات کرایا، اور اب وائس چانسلر صاحب کو بلیک میل کرکے ان پوزیشنوں پر غیر قانونی طور خود کو تعینات رکھا ہے اور یونیورسٹی کا بیڑہ غرق کرنے میں رن رات لگے ہوئے ہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے دوسرے پیشرو ریگولر ملازمین اور جامعہ کے جملہ ملازمین کے سروس سے متعلقہ معاملات یا تو خراب کیے جاتے ہیں اور یا پھر بیجا طور پر تاخیر کا شکار بنا دیے جاتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ یہی بابو لوگ غیر قانونی طور جامعہ کے ایگزیکٹیو سٹیٹیوٹری باڈیز یعنی سینڈیکیٹ، ایف این پی سی اور سینیٹ میں یونیورسٹی کے کلیدی انتظامی عہدیداروں کے حساب سے بیٹھتے ہیں اور اپنی سیڈِسٹ ذہنیت کی وجہ سے اِن معزز فورموں کو غلط حقائق دکھا کر، سہی حقائق چھپا کر اور غلط انفارمیشن دے کر ملازمین کے سروس معاملات میں مسئلے بناتے ہیں۔ اِن کی گمراہ کن فیڈنگ کی وجہ سے مذکورہ معزز سٹیٹیوٹری فورمز ملازمین کے قانونی حقوق پر قانونی فیصلے کرنے کے بجائے کمیٹی پر کمیٹی بناتے رہتے ہیں اور ملازمین کو بیجا طور پر ذہنی کوفت پہنچائی جاتی ہے۔

دوسری طرف جن فیکلٹی ممبرز کی مذکورہ سٹیٹیوٹری فورمز میں قانونی ممبرشپ ہے انہیں ممبرشپ نہیں دی جاتی، اور مذکورہ تین بابو غیر قانونی طور پر ان فورموں میں جا بیٹھتے ہیں، جہاں قانون کے مطابق ان کی ممبرشپ ہے ہی نہیں۔ انہی لوگوں کی وجہ سے خود غرضانہ کاموں کی وجہ سے جامعہ چترال آج تک زمین ایکوائر کرنے، فنڈز لینے اور تعمیرات کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ جبکہ صوبہ کی دوسری جامعات جن کا قیام جامعہ چترال کے ساتھ ہوا تھا زمین ایکوائر کرکے ترقیاتی بجٹ حاصل کرکے ترقی کی طرف گامزن ہیں۔ اور جامعہ چترال ہے کہ ان تینوں بابوؤں کے ہاتھوں یرغمال ہے اور آئے روز رو بہ زوال ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی انسپکشن ٹیم نے بھی دوسری بے قاعدگیوں سمیت ان بابوؤں کی کلیدی انتظامی عہدوں پر رکھنے کے خلاف تحریری تحفظات دیے ہیں۔ ان تحفظات کو بھی پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے۔ 

ملازمین کی ریگولر تنخواہیں، ایڈہاک ریلیف، ہاؤس رینٹ الاؤنس اور ڈی آر اے الاؤنس جو قانونی طور ان کا حق ہے ان کو نہیں دیے جاتے۔

ان بابوؤں کی نا اہلی اور نالائقی کی وجہ سے اے ڈی اے کے پروگرامات چترال یونیورسٹی نے شیرینگل یونیورسٹی کے حوالے کیا ہوا ہے اور کروڑوں کا ریونیو شیرینگل یونیورسٹی کو دیا گیا ہے۔ جو بہت بڑی نا اہلی ہے۔ 

جامعہ کے فارغ التحصیل سٹوڈنٹس کو ٹرانسکرپٹ جاری کرنے میں کئی سال لگا کر ہمارے طلباء کا قیمتی وقت ضائع کیا جا رہا ہے اور انہیں مقابلے کے امتحانات کے مواقع سے محروم رکھا جاتا ہے۔ 

طلباء کے بنیادی حقوق اور بنیادی سہولیات پہنچانا انتظامیہ کی ترجیح میں شامل نہیں ہے۔ سٹوڈنٹس کے لیے ہاسٹلز، کامن رومز اور موزوں ٹرانسپورٹ نہیں ہیں۔ دوسری جانب بابو صاحباں غیر قانونی طور پر مختلف میٹنگوں کے بہانے یونیورسٹی کی گاڑیاں اور ریسورسز لے کر پشاور گھومتے رہتے ہیں۔

مذکورہ لاقانونیت اور بے قاعدگیوں کے علاوہ دوسری بھی بہت ساری بے قاعدگیاں ہیں، جنہیں وی سی صاحب کی نوٹس میں گزشتہ ایک سال سے لایا جاتا رہا ہے، مگر وی سی صاحب نے کبھی بھی ان خطوط اور مطالبات کو اہمیت نہیں دی۔ بالآخر مجبور ہوکر جملہ ملازمین نے آج سے پر امن احتجاج پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جامعہ چترال میں جملہ انتظامی و مالی بے قاعدگیوں اور لاقونیت کے خاتمے تک اور یونیورسٹی کے جملہ امور خیبرپختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ کے مطابق چلائے جانے تک جملہ ملازمین پرامن احتجاج پر نکلے ہوئے ہیں۔ بے قاعدگیاں اگر دور نہ ہوئیں اور ملازمین کے قانونی حقوق ان کو نہ دیے گیے اور اعلیٰ تعلیم کے اس ادارے کو قانون کے مطابق سہی راستے پر نہ ڈھالا گیا تو احتجاج شدت اختیار کر سکتی ہے اور جملہ ملازمین گورنر خیبرپختونخوا، جو کہ یونیورسٹیز کا چانسلر ہوتا ہے، کے آفس کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ 

دورانِ احتجاج طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی ذمہ داری جامعہ چترال کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ 

جملہ ملازمین نے گورنر خیبرپختونخوا کو خط کے ذریعے سے درخواست کی ہے کہ جامعہ کے اندر انتظامی اور مالی بے قاعدگیوں کا فوراً نوٹس لیا جائے اور یونیورسٹی کو زوال کی طرف جانے سے بچایا جائے۔

Back to top button