خبریںسماجی

چترالی پی ایم ایس افسران کو ڈپٹی کمشنر کیون نہیں لگایا جاتا؟

ظہور الحق دانش

چترال سے تعلق رکھنے والے پی ایم ایس افسران اپنے متعلقہ بیچ کے قابل ترین افسروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اُن کی کامپیٹنس اور دیانتداری سے ہر کوئی واقف ہے۔ پھر بھی آخر کیا وجہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے سلاٹ میں کسی ایک کو بھی آج تک تعینات نہیں کیا گیا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے وہ کہ صوبہ خیبرپختونخواہ کی لسانی اقلیتی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور صوبائی حکومت اور بیوروکریسی لسانی اکثریتی لابی کے کنٹرول میں ہیں اور چترالی افسران کے سپورٹ میں کوئی لابی یا اثرورسوخ والی سیاسی شخصیات نہیں ہیں؟ کئی ایک غیر چترالی پی ایم ایس افسران سکریٹریٹ اور فیلڈ میں ایسے چیدہ پوزیشنز میں تعینات رہے ہیں جن کے بارے میں ہم نے کئی ایک سکریٹریز کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ وہ اتنے نالائق اور نا اہل ہیں کہ ایک ڈی ایف اے بھی ڈھنگ سے تیار نہیں کر پاتے، نہ ہی وہ رولز کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی ایک جملہ درست دفتری انگریزی میں لکھ پاتے ہیں۔ چند ایک ایسے لسانی اکثریت سے تعلق رکھنے والے افسران کی (اِن)کامپیٹنس اور قوانین و پالیسیوں سے عدم آگہی و سمجھ بوجھ کا مشاہدہ ہم نے خود بھی کئی ایک میٹنگز اور معاملات میں کیا ہے۔ ہم ایک ایک کرکے ایسے نالائق اور نا اہل افسران کے نام بھی مع نا اہلی اور نالائقی کے ثبوت کے لے سکتے ہیں۔ مگر برسرِ عام اُن کے نام لینا اخلاقی طور پر مناسب نہیں ہوگا۔ 

بیوروکریسی جیسے اہمیت کے حامل ادارے میں پوسٹنگ صرف میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر ہونی چاہیے نہ کہ لسانی و حکومتی لابیز کے سپورٹ اور لسانی اکثریت سے تعلق کی وجہ سے۔ میرٹ اکیسویں صدی میں بھی نہیں تو کب؟

Back to top button