اپر چترالخبریںخواتین کا صفحہسیاست

نظامت کی خاتون امیدوار

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ملک کی سب بڑی حکمران جماعت پی ٹی آئی کی ناقابل یقین شکست کے بعد جہاں پارٹی کے اندر تشویشناک صورت حال پیدا ہوئی ہے وہیں عنقریب دوسرے فیز میں ہونے والی انتخابات کیلیے ضلع اپر چترال کی سطح پر پارٹی سربراہان اور ورکرز بھی سیاسی جوڑ توڑ اور اور سیاسی اہلیت کے حامل امیدوار میدان میں اتار کر پارٹی کی جیت یقینی بنانے کیلیے پُرعزم و پُرجوش ہیں. جس کیلیے اب تک مقامی سطح پر نظامت کیلیے مختلف پارٹی کارکن اور عہدہ داروں کے نام مختلف غیر اعلانیہ طور پر گردش کر رہی ہیں.اور یہاں تک کے بعض ناراض کارکناں ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں آذاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا بھی اعلان کر چکے ہیں. جبکہ کچھ پارٹی سطح پر ٹکٹ ملنے کی امید کیساتھ سیاسی سرگرمیاں تیز کرتی نظر آ رہی ہیں.تاہم بعض پارٹی کارکناں کے باہمی چپقلش اور اختلافات کی وجہ سے پارٹی ٹکٹ متنازعہ ہوتی نظر آ رہی ہے،تاہم پارٹی کے اندر اس غیر یقینی صورت حال کو دیکھتے ہوے حکمران جماعت کے بعض نظریاتی کارکن و نوجوان جو کسی بھی گروپ اور بلاگ کا حصہ نہیں ہیں ایک عجیب مخمصے کے شکار ہونے کیساتھ کسی بھی صورت پارٹی کے اندرونی صورت حال کو دوبارہ سے بحال کرنے اور ہر قسم کے اختلافات کو ختم کرکے ایک غیر جانبدار اور غیر متنازعہ امیدوار لانے کیلیے بھی سرگرم عمل ہیں. تاکہ پارٹی کو ذیادہ سے ذیادہ نشستیں دلوا کر پارٹی کو ممکنہ شکست سے بچایا جا سکے..جسکے لیے مقامی سطح پر کوششیں جاری ہیں. اور گزشتہ دن اس سلسلے اپر چترال کے وی سی پرواک میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جسکی صدارت سابق سابقہ وی سی چیرمین اور پی ٹی ائی کے سابقہ وی سی صدر حمید اللہ نے کی،اجلاس میں پی ٹی آئی کے مختلف مقامی عہدہ دران و کارکناں کی بھرپور شرکت کیساتھ خواتین ونگ اپر چترال مستوج کے سابقہ خواتین جنرل سیکٹری محترمہ سارہ شاہ نے بھی شرکت کی. اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ عنقریب ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تحصیل مستوج کی نظامت میں پارٹی کی جیت کو یقینی بنانے کیلیے تمام اختلافات بھلاکر ایسا نوجوان اور پارٹی ورکر کو امیدوار میدان میں اتارا جاے جو سب کیلیے منظور نظر اور قابل قبول ہو،.اسکے علاوہ مذکورہ 

اجلاس میں متفقہ طور پر پی ٹی آئی کے سابقہ جنرل سیکٹری خواتین ونگ اپر چترال مستوج سارہ شاہ کو بحیثیت نوجوان سیاسی و سماجی کارکن پارٹی کیطرف سے تحصیل مستوج کی نظامت کیلیے ٹکٹ دینے پر بھی زور دیا گیا،اور پارٹی کے ضلعی عہدہ دران سے اپیل کرتے ہوے اس بات پر زور دیا گیا کہ سارہ شاہ بحیثیت نوجوان خاتون امیدوار اس نشست کیلیے سب سے موزون اور غیر متنازعہ امیدوار ہو سکتی ہیں،اور بتایا گیا کہ محترمہ اعلی تعلیم یافتہ، بے لوث اور سنجیدہ ایک نظریاتی سیاسی و سماجی کارکن اور مقامی سطح پر ایک بے لوث عوامی خدمتگار انسان ہیں.جو وہ 2006 سے لیکر اب تک مختلف مقامی خواتین کو بااختیار بنانے کیلیے کوشان، علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلیے خواتین جلسوں کی قیادت، وی سی خواتین ونگ میں بحیثیت سرپرست اعلی، خواتین یوتھ فورم کے ٹرینر، اور عام انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کیلیے خدمات کے علاوہ کئی دوسرےخواتین جلسے جلسوں میں بحیثیت سابقہ خاتون کونسلر خواتین کی نمائندگی بھی کرتی آ رہی ہیں…

Back to top button