اپر چترالخبریںدروشلوئیر چترال

بلدیاتی انتخابات، پہلے مرحلے کی ہار جیت اور نئی صف بندیاں!


خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی فتح و شکست کے بعد جہاں سیاسی پنڈت مستقبل کی پیشنگوئیوں کے حوالے سے نیا بیانیہ ترتیب دینے میں مصروف ہیں وہیں مختلف سیاسی جماعتیں اور سیاسی مہرے نئی صف بندیوں میں مصروف ہیں۔
حد سے زیادہ پر امید پاکستان پیپلز کی پہلے مرحلے میں بدترین کارکردگی نے مرکزی و صوبائی قیادت کو دوسرے مرحلے کے انتخابات کے علاوہ آنے والے عام انتخابات کے حوالے سے بھی از سر نو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چترال لوئر سے شہزادہ خالد پرویز پیپلز پارٹی کی طرف اڑان بھرنے کو تیار ہے۔ اس سلسلے میں ان کی صوبائی صدر نجم الدین خان سمیت دیگر اعلیٰ قیادت سے ایک سے زائد مرتبہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور ان دونوں جانب سے مختلف نوعیت کے وعدے وعید ہو چکے ہیں۔صدقہ زرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ ان ملاقاتوں کا پی پی پی چترال کو بھی علم ہے اور حفظ ماتقدم کے پیش نظر پی پی لوئر و اپر چترال کی جانب سے متفقہ قراردادیں پاس کرکے صوبائی قیادت کو ارسال کی گئیں تھیں جس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ ایسے کسی بھی فیصلے کو پارٹی کے نظریاتی کارکنان قبول نہیں کریں گے۔ اور نجم الدین خان کی جانب سے ان خدشات کو یہ کہہ کر مسترد کیا گیا کہ موجودہ وقت میں ہم نے پارٹی ٹکٹ پہ سیٹیں نکالنی ہیں تاکہ عام انتخابات کےلئے پارٹی کا مورال بلند ہو اور اس کےلئے ہمیں نئی صف بندی میں "الیکٹ ایبلز” کی ضرورت ہیں۔ تاہم پی پی پی چترال اور شہزادہ خالد پرویز دونوں اس حوالے سے تاحال خاموشی اختیار کئے ہوئےہیں شاید کوئی سیاسی حکمت عملی ہے یا پھر مناسب موقع کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اگر پی پی پی دروش سے ٹکٹ شہزادہ خالد پرویز کو دیا جاتا ہے تو ان کے جیتنے کے امکانات کس حد تک روشن ہیں یہ تو سیاسی پنڈت ہی بتا سکیں گے فی الوقت یہ بہت دلچسپ صورت حال ہوگی کہ کیا پیپلز پارٹی کا ووٹ شہزادہ لیگ کو جائے گا؟ ن لیگ اور شہزادہ افتخار اس فیصلے سے کس حد تک متاثر ہوں گے؟ شہزادہ محی الدین صاحب کے ووٹرز پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں گے؟؟

Back to top button