اپر چترالتعلیمچترالیوں کی کامیابیخواتین کا صفحہلاسپور

چترال کی بیٹی شازیہ ولی کا بڑا اعزاز۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں چترال کو اپنی خوبصورتی ، ثقافت اور امن کی وجہ سے ایک مخصوص مقام حاصل ہے۔

قدرتی وسائل سے مالامال مگر بدقسمتی سے ترقی کے لحاظ پسماندہ ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لوگوں کو کوئی بھی ہرگز پسماندہ نہیں کہہ سکتا۔

شرحِ خواندگی کے لحاظ سے پاکستان کے کئی شہروں سے آگے ہیں۔ خواتین میں شرح خواندگی کے لحاظ سے چترال کا شمار صوبہ خیبر پختونخوا میں پہلے نمبر پر ہوتا ہے۔

چترال کو کئی باصلاحیت ، محنتی اور قابل بیٹیوں کو جنم دینے میں بہت سے شہروں سے آگے ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ چترال کی بیٹیاں اگرچہ محدود وسائل ہونے کی وجہ سے وہ سنگ میل عبور نہیں کرپارہی ہیں جو پاکستان کے شہری علاقوں کی بیٹیاں کر پارہی ہیں۔ لیکن حال ہی میں اپر چترال کے دور افتادہ گاؤں لاسپور بروک سے تعلق رکھنے والی بیٹی شازیہ وہ سنگ میل عبور کرنے میں کامیاب ہوگئی جن کے لئے پاکستان بھر سے سالانہ سینکڑوں طلبہ و طالبات نے قسمت آزماتی ہیں ۔ 

جہاں ہاں! وادی لاسپور سے تعلق رکھنے ولی آغا خان ہایئر سیکنڈری اسکول کوراغ کی طالبہ شازیہ ولی آغا خان میڈیکل یونیورسٹی میں ایم بی بی ایس کے لیے تحریری امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کرکے داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ 

واضح رہے شازیہ ولی کا خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا کے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل تعلیمی اداروں میں سیشن 22۔2021  میں داخلے کے لئے پہلی عبوری فہرست میں بھی نام شامل ہے۔۔ 

شازیہ والی اپنی اس عظیم کامیابی کو اپنے والد محترم محمد والی کے نام کرتی ہے ۔ انہوں نے چمرکھن انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اج میں جس مقام پر ہوں میری کامیابی کے پیچھے میری والدین کے دعائیں ہیں۔ انہوں مزید کہا میرے والد محترم کا مالی آمدن بالکل نہ ہونے کے باوجود محنت مزدوری کرکے مجھے بلکہ میری تمام بہین بھائیوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں۔ 

Back to top button