تعلیمخبریںسیاستلوئیر چترال

فخر اعظم کے پاس جادو کی چھڑی ہے یا گیدڑ سنگھی!!

فخر اعظم پاکستان تحریک انصاف کے پرانے کارکن اور مشیر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا وزیر زادہ کے پرسنل سیکرٹری ہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کے خلاف مختلف جانب سے اقربا پروری، مختلف ترقیاتی منصوبوں میں اپنے بندوں کو نوازنے اور سرکاری ملازمتوں میں اپنے سفارشی بندے بھرتی کروانے کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ مخالف سیاسی جماعتوں کے علاوہ پی ٹی آئی کے اندر سے بھی ان کے خلاف آوازیں اٹھتی رہتی ہیں لیکن آج تک ان کے خلاف کسی قسم کی ٹھوس قانونی کاروائی کسی سطح پر عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

حالیہ دنوں گورنمنٹ ڈگری کالج چترال میں ڈرائیور کی خالی نشست پر بھرتی کے معاملے کو لے کر پی ٹی آئی تحصیل دروش کے سیکرٹری اطلاعات انجینئر اظہار دستگیر نے نہ صرف ان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی بلکہ اس بھرتی کے عمل میں ہونے والی تمام تر کاروائی بمعہ ثبوت کے پرنٹ و سوشیل میڈیا میں پیش کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق مذکورہ خالی نشست پر ڈرائیور بھرتی کرنے کےلئے ایک چار رکنی کمیٹی بنی تھی جس میں پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج چترال بطور چیئرمین اور وائس پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج چترال، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر چترال اور سیکشن آفیسر ہائیر ایجوکیشن کمیشن بطور ممبران شامل تھے۔ درخواست کنندہ امیدواروں سے ٹیسٹ انٹرویو کے بعد بروز سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد کو تعلیمی قابلیت، وسیع تجربہ اور ٹیسٹ کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پوسٹ کےلئے موزوں قرار دیتے ہوئے سیلیکشن کمیٹی کے چیئرمین اور دیگر دو ممبران نے دستخط کر دئے جبکہ سیکشن آفیسر نے چترال جانے کے بجائے کاغذات دستخط کرنے کےلئے پشاور منگوا لئے۔ اور تب سے اب تک وہ کاغذات واپس آ گئے نہ ہی بشیر احمد کی تقرری کا کوئی نوٹیفیکیشن ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق سیکشن آفیسر کی جانب سے دستخط نہ کرنے کی بنیادی وجہ فخر اعظم کی جانب سے ادارجاتی و سیاسی دباؤ ہے جو کہ مطلوبہ نشست پر اپنے پڑوسی کو بطور ڈرائیور بھرتی کروانا چاہتے ہیں۔
اس حوالے سے سیلیکشن کمیٹی کے ممبر اور گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کے اعلیٰ آفیسر سے جب چمرکھن نے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ جو الزامات اظہار دستگیر کی جانب سے لگائے گئے ہیں ان میں صداقت ہیں البتہ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا اور یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ مذکورہ سیاسی شخصیت نے اپنے سفارش کردہ امیدوار سے پیسے لئے ہیں یا نہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے بشیر احمد کے تقرر نامے پر ابھی تک سیکشن آفیسر دستخط نہیں کر رہے۔
ہم اس سوال کا جواب قارئین کی آراء میں تلاش کرنے کی کوشش کریں گے کہ آیا فخر اعظم اتنا طاقتور سیاسی شخصیت ہیں کہ ہر دوسرے دن ان پر الزامات کی بوچھاڑ کے بعد بھی کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا یا وزیر زادہ کی کوئی خاص مجبوری ہے جو چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی فخر اعظم سے اپنی ساکھ خراب کرنے پر سوال نہیں پوچھ سکتا یا پھر فخر اعظم کے پاس جادو کی کوئی چھڑی ہے یا گیدڑ سنگھی جو ان کی طرف آنے والا ہر بلا کو ٹال دیتی ہے؟؟؟؟

Back to top button