سماجیسیاستطرز زندگیکاروباری دنیاکالم نگار

باقر شوکت ڈاکٹرائن اور غربت کی ٹوپی

وسعت اللہ خان

بی بی سی اردو

 

گزشتہ ماہ گورنر اسٹیٹ بینک نے لندن میں ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گراوٹ کا مثبت پہلو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ سمندر پار پاکستانیوں کی محنت مشقت کی کمائی سے بھیجے جانے والے زرِ مبادلہ کی قدر میں موجودہ شرح ِ تبادلہ کے سبب اضافہ ہو رہا ہے۔

مثلاً اگر پاکستان میں تیس ارب ڈالرِ زرمبادلہ بھیجا جا رہا ہے اور روپے کی قدر میں دس فیصد کمی ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ زرِ مبادلہ بھیجے جانے والوں کو روپے کی قدر میں کمی سے تین ارب ڈالر کا اضافی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ہر معاشی پالیسی کچھ لوگوں کے لیے نقصان دہ تو کچھ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے ۔‘‘

اس بیان میں روپے کی قدر میں کمی کے نتیجے میں لاکھوں سمندر پار پاکستانیوں کے مقابلے میں کروڑوں غیر سمندر پار پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی تکالیف کو ’’ کچھ لوگوں کے نقصان ‘‘ کے قالین تلے دبانے کی کوشش پر میڈیا اور سوشل میڈیا میں گورنر اسٹیٹ بینک پر خاصی تنقید ہوئی مگر وہ آج بھی اپنے ’’ وچاروں ‘‘ پر بلاترمیم قائم ہیں۔

تازہ ’’ ارسطوکاری ‘‘ مشیرِ خزانہ شوکت ترین کی جانب سے سامنے آئی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں صحافیوں سے گفتگو میں فرمایا کہ پاکستان میں غربت سے بھی بڑا مسئلہ افراطِ زر کا ہے۔آپ نے یہ بتانے کے بجائے کہ پاکستان میں شرح غربت اڑتیس سے چالیس فیصد کے درمیان جھول رہی ہے (جو کسی بھی خود دار قوم کے لیے قابلِ خفت بات ہے)یہ خوشخبری سنائی کہ عالمی بینک کے تازہ آنکڑوں کے حساب سے گزشتہ ایک برس کے دوران غربت کی شرح پانچ اعشاریہ چار فیصد سے کم ہو کر چار اعشاریہ دو فیصد ہو گئی ہے۔ ( یعنی ایک اعشاریہ دو فیصد کی کمی )۔

آپ نے فرمایا کہ دیہی علاقوں میں زبردست فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کے سبب موٹر سائیکلوں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ متوسط اور اوپری طبقے کے دن بھی پھرے ہیں۔ ریستوران بھرے پڑے ہیں۔کاریں طلب میں اضافے کے سبب مہنگی ہو گئی ہیں۔

یہ وہی دلائل ہیں جو پرویز مشرف ، شوکت عزیز اور خود شوکت ترین سن دو ہزار سے دو ہزار چھ تک کے زمانے کی ادھاری ببل اکانومی (غبارہ معیشت)  کے ’’ سنہری دور ‘‘ میں دیا کرتے تھے۔ جب یہ غبارہ دو ہزار آٹھ میں پھٹا تو پھر ’’ نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا ‘‘ والا معاملہ ہوگیا۔پرویز مشرف اور شوکت عزیز ہوا ہو گئے اور بھائی ترین بھی کئی برس تک تارہ بننے کے بعد دوبارہ بحفاظت لینڈ کر گئے کیونکہ ان سے بہتر فی الحال کون جانتا ہے کہ بھنوروں سے گھری معیشت کو بھنور سے کیسے نکالا جاتا ہے۔

گزشتہ تین برس میں ڈالر اوپن مارکیٹ میں ایک سو بیس روپے سے ایک سو اٹہتر روپے تک کیسے پہنچا ؟ اس بارے میں اعلیٰ حضرت ترین نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں صحافیوں سے ہمکلام ہوتے ہوئے براہِ راست تبصرے سے بوجوہ گریز کیا۔ بس کرنسی ذخیرہ کرنے والوں کو خبردار کیا کہ ڈالر اوپر جا سکتا ہے تو نیچے بھی آ سکتا ہے اور ڈالر پر کمند ڈالنے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مجھے ہرگز ہرگز نہیں معلوم تھا کہ افراطِ زر غربت سے بڑا مسئلہ ہے۔مجھے تو بس یہ معلوم تھا کہ جب درآمد شدہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی اور پٹرول و ڈیزل سے چلنے والی ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے۔چنانچہ پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور پھر لگژری کہلائے جانے والے آئٹمز سے لے کر روٹی تک ہر شے مہنگی ہو جاتی ہے اور اس عمل کے دوران اگر آمدنی اور تنخواہ ساتھ نہ دے تو غربت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔لیکن اگر ’’ باقر و شوکت ڈاکٹرائن ‘‘ پر اعتبار کر لیا جائے تو سب اچھا ہے ، بہترین ہے ، کشل منگل ہے۔

بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی کنزیومر پرائس انڈیکس کے ریکارڈ کا ہی ایکسرے کر لیا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔اگست دو ہزار اٹھارہ سے اکتوبر دو ہزار اکیس کے درمیان کاسٹ آف لیونگ ( زندہ رہنے کی قیمت)اوسطاً پینتیس فیصد بڑھی ہے۔خوراک کے نرخوں میں گزشتہ اڑتیس ماہ کے دوران اڑتالیس فیصد ، صحت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بتیس فیصد ، آٹے کی قیمت میں انسٹھ فیصد، چینی کی قیمت میں اناسی فیصد، مرغی کے گوشت کی قیمت میں ایک سو اٹھارہ فیصد، خوردنی تیل کی قیمت میں نواسی فیصد ، دالوں کی قیمت میں تراسی فیصد ، انڈوں کی قیمت میں اکہتر فیصد ، تازہ دودھ کی قیمت میں تینتیس فیصد اور سبزیوں کی قیمت میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جولائی دو ہزار اٹھارہ سے قبل اسٹیج پر سے یہ کہا جاتا تھا کہ مہنگائی دراصل حکمرانوں کی کرپشن کا نتیجہ ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ قیمتوں میں عالمی سطح پر کوویڈ کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔پھر بھی ہمارے ہاں قیمتیں بھارت اور بنگلہ دیش سے اب بھی کم ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ گھبرانا نہیں ہے۔اچھے دن بس نکڑ پر کھڑے ہیں کے ساتھ ساتھ یہ جملہ بھی تکیہ کلام میں جوڑ لیا جائے کہ میرے پاکستانیو !ہمارے ہاں غربت ضرور ہے مگر آج بھی صومالیہ ، چاڈ اور کانگو سے کم ہے۔

گذرے زمانوں میں حکمران بھیس بدل کر بازاروں میں حقیقی حالات کی ٹوہ لینے کے لیے گھومتے تھے۔آج کے وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ اور مشیرانِ کرام بھی وقتاً فوقتاً بازاروں کا اچانک دورہ کرتے ہیں۔مگر یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ اچانک دورے کے باوجود میڈیا پہلے سے کیمرے لے کر کیسے کھڑا ہوتا ہے ، دکانوں پر نرخ نامے خود بخود لٹکنے کا چمتکار کیسے ہو جاتا ہے اور کاؤنٹرز کے پیچھے مستعد کھڑے دکانداروں کو ’’جی سر یس سر آپ درست فرما رہے ہیں ‘‘ کا ورد کون پروٹوکولی یاد کراتا ہے ۔اور جیسے ہی اس اچانک دورے میں شامل شاہی قافلے کی لینڈ کروزرز کی لمبی قطار دھول چھوڑتی ہوئی آگے بڑھتی ہے تو یہی دھول لٹکے ہوئے نرخ ناموں اور عام آدمی کے ہونق چہرے پر دوبارہ جم جاتی ہے۔

اب تو ہفتہ وار کنزیومر پرائس انڈیکس بھی ماہانہ کر دی گئی ہے۔فرض کر لیا گیا ہے کہ اس اقدام سے دن وار مہنگائی سے پیدا ہونے والی مرگی سے عام آدمی کو بچایا جا سکے گا۔ظاہر ہے یہ عام آدمی براہ راست بازار جانے سے پہلے کنزیومرپرائس انڈیکس پڑھ کے ہی شاپنگ کے لیے نکلتا ہے۔ہر دکان دار کے پاس بھی اس انڈیکس کی مصدقہ کاپی ہوتی ہے۔پہلے وہ اس پر نظر ڈالتا ہے اور پھر گاہک کو بتاتا ہے کہ آج دہی کی کیا قیمت ہے اور آٹا کس بھاؤ ہے۔ایسا ہی ہے نا ؟

میں کن لوگوں میں رہنا چاہتا تھا

یہ کن لوگوں میں رہنا پڑ رہا ہے

Back to top button