سماجیکالم نگار

زندگی کھٹن ضرور ہے مگر دائمی نہیں

شاد سرحدی

زندگی گزارنے کے لیے کافی جتن کرنا پڑتا ہے، اپنی خوشی کے ساتھ آس پاس ان لوگوں کی خوشی کا بھی خیال رکھنا ہوتا ہے جو ایک امید کے ساتھ آپ پر نظریں مرکوز کرکے منتظر ہوتے ہیں اور آپ کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں، 

 انسان کوئی بھی ہو وہ ایک بیٹا ضرور ہوتا ہے، اسے بہترین بیٹے ہونے کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے ہاں بیٹے کے متعلق ایک کہاوت بھی مشہور ہے، کہ بیٹے کی پیدائش ہی کافی ہے کیونکہ جب بچہ جنم لیتا ہے تو والدین کو ایک کندھا ملتا ہے، وہ خود کو مظبوط تصور کرتے ہیں، وہ اپنا دکھ درد اپنی اولاد کے ساتھ بانٹ لیتے ہیں، پھر اسکی جوانی ماں باپ کے لئے کسی بڑے سہارے سے کم نہیں ہوتی،

بیٹے کے بعد اس کو بھائی ہونے کا شرف بھی حاصل ہوتا ہے، اس وقت اپنے بھائیوں کے بازو اور اپنی بہنوں کی طاقت متصور کیا جاتا ہے، اور جب صاحب اولاد ہوتا ہے تو اسکے کندھے مزید بوجھل ہوجاتے ہیں، اس پر زمہ داری کا چٹان آ جاتا ہے، پھر اسے زندگی اپنے لئے کم اپنے متعلقین کے لیے زیادہ گزارنا پڑتی ہے،

والدین کی دل و جان سے خدمت کرنا، بہن بھائیوں کی پسند ناپسند کا خیال کرکے ان کی فرمائشیں پوری کرنا، اولاد کو بہترین تربیت اور اعلی تعلیم دلانا وغیرہ ہی اسکی زندگی کا کُل مقصد بن جاتا ہے، اس کے پاس اپنے لئے چند لمحے نکالنے کے لیے بھی وقت نہیں ہوتا، ان تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بسا اوقات انکو دیار غیر تک جانا پڑتا ہے، اپنوں کی خوشی کے لیے انہیں اپنوں سے دور کئی سال بتانا پڑتا ہے،

زندگی ان مشکلات سے گزرنے کے باوجود بھی اگر وہ انسان خوش اخلاق ہے، اپنے والدین کا وفادار ہے، بہن بھائیوں سے بنا کے رکھتا ہے، کسی اپنے یا غیر کو خود سے ناراض نہیں رکھتا، وہ شخص اصلی مرد ہونے کا حق بھی رکھتا ہے، زندگی کٹھن ضرور ہے، مگر دائمی نہیں ہے، اسے مسکراہٹ کے ساتھ، مسکراہٹیں تقسیم کرتے ہوئے گزار دینا چاہیے،

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button