تعلیمخواتین کا صفحہخودکشیصحتکالم نگار

ولڈ مینٹل ہیلتھ ڈے

فریدہ سلطانہ فری

فری نامہ

 

اللہ تعالی نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن کا ہم دن رات بھی شکرادا کریں تو کم ہے ا ن تعمتوں میں صحت اللہ پاک کی سب سے عظیم نعمت ہے اور یہ بھی سب سے بڑی حقیقت ہےکہ ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لئے جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ زہنی طور پر تندرست ہونا بے حد ضروری ہے۔
سالانہ ۱۰ اکتوبر کوورلڈ مینٹیل ہیلتھ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا واحد مقصد ذہنی اور دماغی امراض کی روک تھام اوراس کے بارے میں اگاہی اور شعور پھلانا ہے۔
پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی کی ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ملک میں 50 فیصد،جبکہ خیبر پختونخوا میں 80 فیصد آبادی کسی نہ کسی نفسیاتی یا ذہنی مرض کا شکار ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات، دہشت گردی ، بے روزگاری ،غربت اور خوف ،رشتوں میں اونچ نیچ ،خاندانی پیچیدگیاں ذہنی امراض کی بنیادی وجوہات میں سے چند ایک ہیں۔ اگرچترال کے تناظرمیں دیکھآ جائے توچترال میں اَئے دن خودکشیوں کی تعداد میں تشویش ناک اضآفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کہی نہ کہی ان خود کشیوں کے پیچھے زہنی امراض کا بھی ہاتھ ہے اس حوالے سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس طرف نہ حکومت توجہ دے رہی ہے اورنہ ہی نجی سطح پرکوئی خاص اقدمات اٹھائے جارہے ہیں اور سب سے بڑاعلمیہ یہ ہے کہ ابھی تک دسٹرکٹ ہیڈ کواٹرہسپتا ل چترال میں زہنی امراض کے حوالے سے کوئی ایک ڈاکٹر بھی موجود نہیں ہے جس سے لوگ کسی بھی زہنی پچیدگی کی صورت میں ابتدائی امداد اوررہنمائی حاصل کرسکے۔
عالمی دن منانے کے ساتھ ساتھ اس حوالےسےگراس روٹ لیول پرکام کرنے اوراگاہی پھیلانے کی ضرورت ہےکیونکہ زیادہ ترلوگ زہنی امراض کوبیماری کا درجہ دینے کو بھی تیار نہیں ہوتے ہیں اوربعد میں بہت سے قیمتی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے اوردوسرا اہم قدم اس حوالےسے یہ ہے کہ نوجوان لڑکے اورلڑکیوں کوموبائل کے بے جا استعما ل سے روکا جائے کیونکہ وقت کی بربادی اپنی جگہ اکثربچےموبائل زیادہ استعمال کرنےکی وجہ سے گھروالوں سے دوررہ کر تنہائی اورفرشٹریشن کا شکار ہوتےجار ہےہیں اورمختلف گمیزکی دیکھا دیکھی حقیقی زندگی میں بھی ہرکام کو اسی رفتار اورجلد بازی سے کرنے کےعادی ہوجاتے ہیں جوبعد میں مختلف زہنی پیچیدگیوں کو جنم دینے لگتی ہے خاص کرسکولوں کالجوں کی سطح پربچے بچیوں کے لیے لائف سکیل کیریر کونسلینک اور زہنی صحت کے حوالے سے سیشن کا انتطام کیا جائے۔مساجد جماعت خآنوں اور دوسرے مقدس جگہوں پر اس حوالے سے پروگرامات کا انعقاد ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ چترال میں خواتین کے بہت سارے معاشی ،معاشرتی اور گھریلو مسائل بھی ہیں خصوصا طالب علموں کے ،جو زہنی امراض کے فروغ کا باعث بن رہی ہیں اس کے لِئے بھی سنجیدگی سے کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے زہنی امراض کے معالج کی فراہمی کے ساتھ ساتھ وہ تمام مسائل جو خواتین اوربچیوں میں زہنی امراض کا سبب بنتی ہیں ان کو روکنے اورکم کرنے کے لئے حکومتی اورنجی سطح پر کوَئی خاض اقدامات اٹھانا بہت ضروری ہے تاکہ زہنی امراض پر قابو پایا جاسکے اورمعاشرے کا ہرفرد خصوصا عورتیں ایک خوشحال و خوش و خرم زندگی گزارکرمعاشرے کی تعمیروترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

Back to top button