سماجیکالم نگار

منافرت کون پھیلا رہا ہے۔

نثار احمد

تلخ و شیرین

گزشتہ کئی سالوں سے نجی محافل اور عوامی جلسوں میں کبھی بلند آہنگ تو کبھی دھیمے سر میں یہ بات بتکرار بولی اور بااصرار کہی جاتی رہی کہ چترال کی تمام محرومیوں اور شدید پسماندگی کا حل "اپر” کے سابقے کے ساتھ ایک عدد نیا ضلع بنانے میں ہے۔ دو ضلعے بنانے کے حق میں آوازیں اٹھتی رہیں، دبتی رہیں بلند ہوتی رہیں، بیٹھتی رہیں۔ اٹھان اور دباؤ کی یہ آنکھ مچولی جاری تھی کہ ایک دن صبح آنکھ کھلی تو پتہ چلا کہ کھونگیر بوہتو سے لے کر بروغل تک، میڑپ سے لے کر شندور تک ایک نیا نویلا ضلع جنم پاچکا ہے۔ ضلع ابھی تازہ بہ تازہ بنا تھا اس لیے مسائل بھی اسے انبار کی شکل میں ملے۔ حکومت نے عوامی خواہشات کا لحاظ و احترام کر کے اگرچہ ضلع بنا کر دیا لیکن اس ضلعے کو چلانے کے لیے درکار وسائل کی فی الفور فراہمی ممکن نہ ہو سکی تھی۔ (حکومت کے پاس آلہ دین کا چراغ بھی نہیں ہوتا جسے رگڑنے سے تمام مسائل آن ِ واحد میں حل ہوں)۔
نومولود ضلع کے تئیں جو سمجھا جارہا تھا کہ معرضِ وجود میں آتے ہی اپر چترال کی تمام محرومیوں کا ازالہ ہو گا، وسیع تعداد میں ملازمتوں کے مواقع ہوں گے، نت نئے پراجیکٹس کی وجہ سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا بوجوہ ایسا نہ ہو سکا۔ اس گو مگو کے ماحول میں ایک بڑا مسئلہ اثاثہ جات کی تقسیم اور نئے ضلعے کو اثاثہ جات سے آراستہ کرنے کا تھا۔ گریڈ سولہ سے نیچے سرکاری ملازمین کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنا بھی اثاثہ جات کی تقسیم کا ایک ضمنی پہلو تھا۔ عام طور پر گریڈ سولہ تک کے ملازمین ڈومیسائل کی بنیاد پر متعلقہ ضلعے سے بھرتی کیے جاتے ہیں ۔ جہاں بھی ایک ضلع دو ضلعوں میں تقسیم ہوتا ہے وہاں انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ بائفرکیشن میں متعلقہ ضلعے کا ڈومیسائل ہولڈر اپنے ہوم ضلعے میں خدمات سر انجام دیتا رہے۔ چترال میں بھی بعض محکموں میں ایسا ہی ہوا۔ دونوں اضلاع کے ملازمین کو ڈومیسائل کی بنیاد پر ان کے ہوم ضلعے میں ایڈجسٹ کیا گیا لیکن محکمہء تعلیم اور دیگر چند محکموں میں ایسا نہیں کیا جا سکا۔ اس کی ایک وجہ یہ بنی کہ بڑی تعداد میں اپر چترال کے ڈومیسائل ہولڈرز لوئر چترال میں زمینیں ہی نہیں خرید چکے، بلکہ گھر بھی بسا چکے ہیں۔ ایک طریقے سے اب وہ لوئر چترال کے ہی باشندے بن چکے ہیں۔ ایسے میں ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ گھر بار چھوڑ کر اپر چترال ٹرانسفر ہونے پر تیار ہوں گے قابلِ عمل نہیں ہے۔ دوسرا سبب شاید دونوں اضلاع کے اساتذہ کا عدم توازن ہے۔ اپر چترال کے ڈومیسائل ہولڈرز کی جتنی تعداد ہے شاید اتنی تعداد کو کھپانے کے لیے فی الحال اپر چترال میں اسامیاں نہیں ہیں۔ اس طرح بڑی تعداد میں ایسے اساتذہ کرام بھی اپنے آبائی ضلع اپر چترال کی طرف کوچ کرنا نہیں چاہتے جن کی یہاں جائدادیں ہیں اور نہ ہی گھر وغیرہ۔ ان کا مطمع نظر شاید آبائی ضلع میں پُرمشقت نوکری سے بچنا ہے۔ ان تمام باتوں کے جمع ہونے کی وجہ سے صورت حال کافی پیچیدہ شکل اختیار کر گئی۔ انتظامیہ نے محکمہء تعلیم میں بائفرکیشن کے عنوان سے دو دفعہ تبادلہ بھی کیا۔ اس کے نتیجے میں اپر چترال میں تعینات لوئر چترال کے ڈومیسائل ہولڈر بڑی تعداد میں اپنے آبائی ضلع میں ایڈجسٹ ہو گئے۔لیکن لوئر چترال سے اپر چترال کے ڈومیسائل ہولڈر انتہائی قلیل تعداد میں ٹرانسفر ہو گئے۔ یہی نہیں، مزید اساتذہ کی ایک بڑی تعداد اپر چترال سے لوئر ٹرانسفر ہونے کے لیے پر تولے تیار بیٹھی ہے۔ اب اگر اپر سے لوئر کی طرف ٹراسفرز کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہے اور یہاں خالی ہونے والی اسامیوں پر اپر چترال سے لوئر ٹرانسفر ہونے والے ہی ایڈجسٹ ہوتے رہیں تو اس کے نتیجے میں لوئر چترال میں نہ صرف ملازمین کی محکمہ جاتی ترقیاں شدید متاثر ہوں گی بلکہ مستقبل میں نئی اسامیاں بھی معدوم ہو جائیں گی۔ جس طرح اپر چترال کے اُن ڈومیسائل ہولڈرز کو زبردستی بھیجنا غلط ہے یا غلط لگ رہا ہے جو لوئر چترال میں گھر بنا چکے ہیں ٹھیک اسی طرح یہاں کے لوگوں کو بھی ترقی اور ملازمتوں سے محروم کرنا شدید ناانصافی بھی ہے اور حق تلفی بھی۔ ایسے میں معقول حل نیا فارمولہ وضع کر کے ہی نکالا جا سکتا تھا۔ مثلاً ایک سن متعین کر کے یہ اصول بنایا جا سکتا تھا کہ اس سَن کے بعد لوئر چترال میں بھرتی ہونے والے بہرصورت قربانی دے دیں اور اپنے آبائی علاقے میں شفٹ ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس سن سے پہلے بھرتی ہونے والے یہیں ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں۔ بہرحال اول تا آخر یہ تکنیکی اور انتظامی مسئلہ تھا جسے لوئر چترال کے ملازمین کے معقول تحفظات اور اپر والوں کی مجبوریاں مدنظر رکھ قانونی، انتظامی اور تکنیکی بنیادوں پر حل کیا جا سکتا تھا لیکن جزباتیت کا عنصر اس میں درلاکر اسے مسئلہ منافرت بنایا گیا۔
اپر چترال کے ڈومیسائل ہولڈر ملازمین کی طرف سےکبھی شاعری تو کبھی نثر میں فرمایا جا رہا ہے کہ چترال میں تین اقوام آباد ہیں بائفرکیشن کا مطالبہ کرنے والے کس قوم سے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا مطالبہ نفرت کی فصیل کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ یہ مسئلہ گجر، کھو اور کیلاش کا سرے سے ہے ہی نہیں، یہ دو ضلعوں ڈسٹرکٹ اپر چترال اور ڈسٹرکٹ لوئر چترال کے چند ملازمین کا مسئلہ ہے۔ ویسے بھی چترال میں صرف یہ تین قومیں نہیں، اور بھی اقوام ہیں۔ اس نعرے کو اٹھا کر انہیں بھی مشتعل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ان مذکورہ تینوں اقوام کی نسلیں بھی دونوں اضلاع میں آباد ہیں۔ صرف اپر چترال یا صرف لوئر چترال میں نہیں۔ ایسا زہر آلود نعرہ لگا کر لوگوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرنا ناقابلِ فہم ہی نہیں، قابلِ مذمت بھی ہے۔
حیرت ہو رہی ہے کہ بار بار بیٹھیکں لگا کر ان حضرات نے قومیتوں کا نام لے کر کمال ِ ہوشیاری سے چند ملازمین کے مسئلے کو تمام چترالیوں کا مسئلہ کیوں باور کرایا؟ آئے دن نفرت کی دیوار کیوں بلند کر رہے؟ ان کا ایجنڈا کیا ہے؟ اتنی بات انہیں بھی سمجھ لینی چاہیے کہ وحشت و نفرت کا بازار جتنا گرم ہو گا اس کا نتیجہ ہم سب کے لیے شدید نقصان کی شکل میں ظاہر ہو گا۔ آبادی کے لحاظ سے چھوٹا سا چترال اس بات کا ہرگز متحمل نہیں ہے کہ یہاں شناختی کارڈز اور قومیتوں کی بنیاد پر نفرتیں پھیلائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی نفرت آمیز شرارتوں سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔ اپر چترال کے دانشور طبقے کو بھی اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے کہ چند ملازمین کا مسئلہ پورے چترال کا مسئلہ کیوں بن رہا ہے؟؟ انتظامیہ کا مسئلہ انتظامیہ پر ہی چھوڑنا چاہیے۔ اس پورے قضیے میں پروفیسر ممتاز حسین کا مشورہ بہترین ہے کہ اپر چترال اور لوئر کے ڈپٹی کمشنرز کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔
خدا لگتی بات بھی یہی ہے کہ دونوں ڈی سیز اپنے ماتحت ہیڈ آف ڈیپارٹمنس سے بریفنگ اور اور فریقین کے تحفظات و مجبوریاں مدنظر رکھ کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ کاش کہ ایسا ہی ہو جائے۔ اور ہمیشہ کے لیے یہ مسئلہ حل ہو۔

Back to top button