کالم نگار

اندلس کی یادیں۔۔۔۔ پہلی قسط

عمران الحق

اندلس کی یادیں ۔۔۔۔ پہلی قسط

 

2019 سات فروی کی شب لاہور ائیرپورٹ سے اسپین کا سفر شروع کیا۔۔۔۔۔۔ اسپین، جسے ہسپانیہ بھی کہا جاتا ہے اور قدیم زمانے میں جب مسلمان اس کے تاج و تخت کے مالک تھے تب اسکو اُندلس کہتے تھے جسکا عربی الاصل الاَندَلُس ہے۔۔۔۔۔ کہنے کو تو یہ ایک سفر تھا جسے میں تعلیم کی حصول کیلئے طے کررہا تھا۔ چانچہ میں کیمسٹری میں یوروپین ماسٹر (ایم فل) کی ڈگری حاصل کرنے کیلئے دو سالوں کیلئے اسپین جارہا تھا۔

ہوا کی بلندی میں چاروں طرف مختلف خیالات مجھے گھیرے ہوئے تھے۔ ایک ماضی کی خوشگوار یادیں تھی تو دوسری طرف مسقبل کے بارے دلربا توقعات ،،، ماضی کی یادیں بھی متنوع رنگوں میں بکھری ہویں تھیں۔ چترال کے ایک دورافتادہ گائوں سے لیکر یورپ کے سفر تک زندگی کی بےشمار لہریں دماغ میں امنڈ رہی تھیں۔

کچھ گھنٹے آسمان کی بلندیوں میں سفر کرنے کے بعد میں اگلے دن دوپہر کو اسپین کے مشہور شہر بارسِلونا اترا۔ بارسلونا ائیرپورٹ میں زیادہ تر دوسرے یورپی ممالک کے سیاح موجود تھے جو شمالی یورپ کی سردی سے تنگ اکر بارسلونا کے نسبتا گرم علاقے میں گھومنے اور ساحلی ریت (Beaches) کا مزا لینے کیلئے ائے ہوئے تھے۔ ہر سال چھ سے سات کروڑ لوگ اسپین گھومنے اتے ہیں جبکہ اسپین کی اپنی ابادی پانچ کروڑ ہے۔ 

ائیرپورٹ سے باہر نکلا تو بارسلونا کا خوبصورت شہر میرا انتظار کر رہا تھا۔ شہر کو پہلی نظر میں دیر تک نظریں گھوما گھوما کر دیکھا اور اسکے درو دیوار کو اپنی ذہن پر بٹھانے کی کوشش کی اور دل ہی دل میں سوچا کہ اب انے والے کئی سال اس شہر میں بیتانے ہیں۔ یہاں سے کیمسٹری میں ایم فل کرنا ہے اور پھر یہیں سے پی ایچ ڈی۔ 

اسپین کے سترہ صوبے ہیں ان میں سے ایک صوبے کا نام کیتالونیہ ہے۔ یہاں کے لوگوں کی اپنی الگ زبان (کیتالان)، کلچر اور تاریخ ہے اور نسلی اعتبار سے خود کو غیر کیتالان سے فائق تر سمجھتے ہیں۔ بارسلونا اسی صوبے کا دارالحکومتی شہر ہے۔ 

بارسلونا مشرق میں بحیرہ روم کیساتھ لگتا ہے اور تجارتی لحاظ اسکی حیثیت ایسی ہے جیسے پاکستان میں کراچی۔ چنانچہ یورپ، افریقہ، وسط ایشیا، ترکی ، برصغیر اور چائنہ سے تجارتی سامان سب بارسلونا اترتا ہے اسلئے یہ شہر معاشی لحاظ سے سب سے تگڑا ہے۔ عالمی تجارت کی وجہ سے اسپین کا سب سے زیادہ ریوینیو اس شہر میں پیدا ہوتا ہے۔ کیتالان کا خیال ہے کہ انکا پیسہ دوسرے اسپینش مفت میں کھارہے ہیں اسلئے یہ گزشتہ کئی سالوں سے علیحدگی کی تحریک چلارہے ہیں اور ائے روز جلسہ نکال کر سڑکوں پر نکل اتے ہیں اور اپنا الگ پرچم لہراتے ہیں۔  

اسپین کے مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے جبکہ مغرب میں پرتگال اور شمال میں فرانس واقع ہیں۔ شمال میں فرانس اور اسپین کے درمان ایک چھوٹا سا ملک ہے جسکا نام انڈورا ہے۔ انڈورا ایک ازاد ریاست ہے البتہ اسکی دفاع کی ذمہ داری اسپین اور فرانس مشترکہ طور مہیا کرتے ہیں۔ کسی زمانے میں کشمیر کے مسئلے کو بھی اسی طرز پر حل کرنے کی تجویز دی گئی تھی جسے آنڈورا پلان (Andora Plan) کہا جاتا ہے۔

اسپین میں صنعت و حرفت کیساتھ زراعت بھی بہت جدید ہے۔ زیتون کی پیدوار میں اسپین دنیا میں اول نمبر پر ہے۔ زیتون کی فاروانی کی وجہ سے خوراک کے تمام اقسام زیتون میں پکتے ہیں اسلئے یہاں کے لوگ جسمانی طور پر توانا اور صحت مند ہیں،،، جہاں موٹا یا نکلا ہوا توند دیکھنے کو ملے تو اسکے غیر ملکی ہونے میں شائبہ نہیں رہتا۔

اسپین جانے سے پہلے کچھ عرصہ لاہور میں سی ایس ایس (مقابلے کا امتحان) کی تیاری نہایت دلجمعی کیساتھ کی تھی اور سیلبس کیساتھ کافی کتابیں اضافی بھی پڑھ لیا تھا۔ جن میں اکثر اسلام، امریکہ اور یورپ کی تاریخ سے متعلق تھیں۔ 

اسپین کی تاریخ کا اسلام اور امریکہ دونوں کیساتھ کافی رقبت ہے امریکہ کیساتھ اسلئے کہ اسکو دریافت کرنے والے اسپین سے تھا اور اسلام کیساتھ قربت اسلئے کہ اٹھویں صدی عیسوی سے لیکر پندھویں تک اسپیں میں مسلمانوں کی حکومت رہی ہے تب اس کا نام اندلس ہوا کرتا تھا۔ 

اندلس علمی لحاظ سے اس وقت کا سب ترقی یافتہ علاقہ تھا یہاں کی جامعات سے نکلنے والے علماء اور فُقہاء نے اسلامی علوم کیساتھ ساتھ سائنسی تحقیقات کو بھی بام عروج تک پہچادیا۔ اس حوالے سے اندلس کے جو شہر مشہور تھے ان میں قرطبہ، غرناطہ، اشبیلیہ، طلیطہ، لوشا، قشتالیہ اور مالقہ زیادہ نمایاں تھے۔ 

مسلمانوں کا یہ درخشان دور 1492ء کو اپنی اختتام کو پہنچا اور یوں یورپ سے مسلمان آٹھ صدیوں تک گھوڑے دوڑانے اور شمشیر لہرانے کے بعد ایسے ناپید ہوگئے کہ اج اس سرزمیں پر انکے نام تک لینے والا کوئی نہیں۔ یہی (1492) وہ سال تھا جب کولمبس نے امریکہ دریافت کیا اور اسپین نے براعظم امریکہ کو اپنا غلام بنانا شروع کیا اور یوں اس نئی دریافت شدہ دنیا میں عسائیت بطور مذہب پھیلنا شروع کیا جبکہ اِدھر یورپ سے مسلمان اپنی اخری خلافت غرناطہ کو عیسائیوں کے حوالہ کرکے ہمیشہ کیلئے افریقہ کی طرف نکل گئے۔ 

جب بھی تاریخ کو پڑھتا ہوں مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی سال ، اتفاق ہے یا کچھ اور، یورپ کی تاریخ اچانک سے تین کروٹ لیتی ہے۔

 پہلی کروٹ میں یورپ سے مسلمانوں کا صفایا ہوتاہے جسے نصٰرٰی فخر سےری کنکسٹہ (Reconquista ) کہتے ہیں جس سے مراد دوبارہ فتح کرنے کے ہیں۔ 

دوسری کروٹ میں امریکہ کو دریافت کیا جاتا ہےاور یوں اس نئی دنیا سے حاصل ہونے والا مال غنیمت یورپ کو اس ترقی تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتا ہے جسے صنعتی ترقی کہتے ہیں اور مسلمانوں سے حاصل شدہ اس سرزمیں کو ایک لامتناہی اور عظیم الشان ترقی کی طرف گامزن میں کرنے میں اسانی پیش اتی ہے، جس پر یورپ اج بھی قائم ہے۔

 آخری سب سے اہم کروٹ یورپ کی نشاۂ ثانیہ ہے۔ 1492 میں جب یورپ سےمسلمانوں کو نکالا گیا تو انکی کتابوں کو عربی سے اسپینش اور لاطینی مین ترجمہ کیا گیا اس طرح علم کا انمول خزانہ قلیل مدت میں یورپ منتقل ہوگیا اور یوں صدیوں تک پھیلی جہالت بہت تیزی کیساتھ صبح صادق کی طرف چلنے لگی۔ اور اس سفر کے ڈھیڑہ سو سال ہی گزرے ہونگے کہ یورپ میں گلیلو پیدا ہوئے جو ان ہی ترجمہ شدہ علوم کا پیدوار تھا اور انہوں نے جدید علم و تحقیق کو سائنس کے ان اصولوں پر قائم کیا جسے ہم سائنٹیفک اسٹڈی کہتے ہیں ۔

اس مفصل تاریخی پس منظر کو لیکر میں اسپین میں اپنی قیام کی شروعات کی اور آنے والے وقتوں میں جس جگہ بھی گیا اور جس چیز کو بھی دیکھا، سب کو تاریخ کی اس عینک سے مشاہدہ کیا تاکہ عبرت کیساتھ ساتھ مستقبل کیلئے بھی کچھ سامان ملے اور یوں کیمسٹری کیساتھ حقیقی معنوں میں بھی کچھ سبق سیکھنے کو ملے جو میری ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے میں مددگار ہو۔ یوں میں جہاں بھی جاتا، یورپی ترقی کو بڑے انہماک سے دیکھتا اور ان کے جملہ پہلوؤں پر غور کرتا اور جاننے کی کوشش کرتا کہ ہم کس اعتبار سے ان سے پیچھے ہیں اور اس مشاہدے کی عادت کو اخر تک جاری رکھا، جس سے کافی حد تک فائدہ بھی ہوا اور بیشمار پیچیدہ معمے بھی حل ہوگئے۔ ان تمام پہلووں کا تذکرہ او ر پھر اسپین کے مختلف حصوں سے جڑی تاریخ پہلوؤں کو اگے آنے والی تحاریر میں اپ کیساتھ بانٹوں گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button