کالم نگار

شعور کا فقدان

 

شاد سرحدی

شعور کا فقدان

جب انسان تنہائی کا خوگر ہوتا ہے تو پھر عزیز تر دوست کے پاس بھی بے چین رہنے لگتا ہے، (یہاں تنہائی سے مراد انسان سے الگ ہو کر کتابوں کی دنیا میں بسیرا کرنا ہے) زندگی جیسے تیسے دوڑتی جارہی ہے، آپ دن رات سو جائیں پھر بھی دن کا وقت رات میں تبدیل ہوگا، رات دوبارہ دن کے اجالے میں گم ہوجائے گی، یہ نظام کا خاصہ ہے، قدرت کے ہاتھ میں گھومتا قانون کبھی کسی خوشی یا غمی کیوجہ سے لڑکھڑاتا نہیں ہے، بس چلتا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی منزل مقصود تک قدم رانجھا ہوتا ہے،

کبھی آپ بھی میری طرح سوچتے ہوں گے کہ جب دنیا فانی ہے زندگی کا دھاگہ ٹوٹ کر بکھرنے والا ہے تو پھر مشقت کے پہاڑ اپنے ناتواں کاندھوں پر کیوں اٹھایا جائے، چند دن کی زندگی ہے تو اسے راحت کے ساتھ من چاہی گزاری جائے، جب مال و دولت اور اولاد جیسی قریبی چیزیں موت کے بعد ساتھ نہیں دیتی ہیں، تو انکے لئے اپنی جوانی کے خوبصورت ایام کو برباد کرنا کہاں کا انصاف ہے، 

لیکن سو کر راحت و سکون کا متلاشی شخص کے پاس ایک وقت آتا ہے جس میں اسکے پاس ماضی کے ضیاع وقت پر ہاتھ مل کر آہ افسوس بھرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، اس وقت خود کو کوسنا لایعنی عمل ہے، دنیا میں کچھ کرنے والے کچھ نہ کرنے والوں سے زیادہ راحت میں ہوتے ہیں، یہ ظاہراً مشقت نظر آتی ہے حقیقت اسکے بر عکس ہے، 

ہمارا ماحول کم ظرفی اور کم ذہنی کا ماحول ہے، اس میں کم علمی کا دخل ہے، ہمارے نوجوان اس ماحول کے شکار ہوکر بربادی کے قریب ہیں، آپ پوری رات بھی ایسے ماحول میں رہے، ایک دانشمندانہ بات یا متاثر کن ترکیب نہیں ملے گی، جو زندگی میں کارگر اور فائدہ مند ثابت ہوسکے، کوئی ایک نوجوان نہیں ہوگا جو کسی بڑے مصنف، فلاسفر یا تاریخ دان کا تذکرہ کریں، 

یہ کتابوں سے لاتعلقی اور پب جی یا دوسرے ایسے فضولیات کا نتیجہ ہے، جو آج ہمارے نوجوانوں میں شعور کا فقدان ہے، آج بھی وقت ہے اپنے گھر میں، بچوں میں کتابوں کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ماحول خوشگوار ہونے کے ساتھ کسی معاملے میں علمی بحث دلائل کے ساتھ ہوسکے، 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button