تعلیمخبریںسماجی

میلین سمائلز

"Million Smiles” جیسا کہ نام سے ہی ظاھر ہے کہ ہزارروں نہیں لاکھوں لوگوں کے چہروں پہ مسکراہٹیں ہوں اور اسی جذبے اور مقصد کو لے کرجہاں ذیشان افضل صاحب CEO & Co-Founder Million Smiles پورے ملک ہی نہیں باہر کے ممالک میں بھی کام کر رہے ہیں ہمارے ضلع چترال کا بھی دورہ کیا اور اس دورے میں ان کے ساتھ Country Director Million Smiles Asif Shehzad اور Abuzar Media Coordinator بھی تشریف لائے تھے۔ذیشان افضل صاحبFormer Global CEO,Shahid Afridi Foundation , Former Director at KPMG Wall Street, New York, MD C100 Think Tank & Former CEO Peshawar Zalmi کے ساتھ ساتھ ایک سچے مسلمان اور مخلص پاکستانی بھی ہیں اور اپنے لیکچرز میں طلبہ پر زود دیا کہ ہمیں ایک اچھا مسلمان بننے کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں بھی آگے بڑھنا ہے اور اس ملک کا نام بھی روشن کرنا ہے جس کے لئے چھ لاکھ سے زائد ہمارے آباو اجداد نے قربانیاں دیں ہیں اور طلبہ سے بھی اپنے پیارے ملک کے ساتھ والہانہ عقیدت اور محبت کا پیغام دیا۔۔

ذیشان افضل صاحب ایک امریکہ پلٹ نوجوان ہیں جو دس سال پہلے پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ لے کے پاکستان آئے اور ان نیت اور خلوص کی وجہ سے Million Smiles جس کا قیام انھوں نے دو سال پہلے رکھی تھی MS پاکستان کے 103 شہروں میں اپنے 27000 سے زیادہ Volunteers کے ساتھ کام کر رہی ہے اور ان کے مقصد کو آگے بڑھانے میں ان کا ممد اور معاون ثابت ہو رہےہیں۔۔

ملین سمائلز جہاں مختلف علاقوں میں سکولز کا قیام ہو یا Rehabilitation کا کام Charity کا ہویا ضرورت مند گھرانواں میں راشن کی تقسیم ،شیلٹرز ہومز کا قیام ہو یا ضرورت مند افراد میں قربانی کی تقسیم ہویا افطاری کے پروگرامات ملین سمائلز نے تعلیمی اداروں میں سیمیناز اور لیکچرز کا اہتمام کرتی ہے اور اس سلسلے کی ایک کڑی سی ای او کا دورہ چترال بھی تھا۔

چترال چونکہ ایک دور افتادہ علاقہ ہے لیکن لٹریسی زیادہ اور لوگ پڑھے لکھے اور تعلیم سے محبت اور شغف رکھنے والے ہیں ۔ چونکہ ذیشان افضل صاحب ؓخیر کے ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ ایک
Renowed Motivational Speaker, Social Crusader,Management Consultant اور Successful Coach بھی ہیں اس لئے ہم نے ان کے ؐئے چترال کے مختلف تعلیمی اداروں میں لیکچرز ترتیب دئے۔۔

۔آس سلسلے میں ان کا۔پہلا پروگرام چترال میں تعلیمی میدان میں تعلیمی میدان میں ایک اہم نام The Langland School & College سے ہوا اور تقریباً دو سو کے لگ بھگ طالب علم موجود تھے۔اپنے خطاب میں محترم مہمان نے طلبہ کو آگے بڑھنے اور اپنی تمام تر کوششیں اور صلاحیتیں تعلیم کے شعبے میں آگے بڑھنے اور مناسب فیوچر پلاننگ میں صرف کرنے پر زور دیا۔کالج انتظامیہ اوراساتذہ کرام نے ان کا بھر پور استقبال کیا اور ان سے استفادہ حاصل کیا۔

ان کا دوسرا پروگرام چترال یونیورسٹی تھی جو ضلع چترال کی واحد یونیورسٹی ہے ۔۔چترال یونیوزسٹی میں بہت ہی خوبصورت ترتیب دیا گیا تھا۔فیمل لیڈ چترال صباحت رحیم نے اپنی ٹیم کے ساتھ اس پروگرام کے انعقاد میں بہت جانفشانی کے ساتھ کام کی تھی چونکہ وہ Million Smiles کی فیملز گروپ کو بھی لیڈ کر رہی اور اسی یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ بھی ہیں نے معزز مہمان کا شکریہ بھی ادا کیا اور طلبہ کو MS کے حوالے اور کام سے آگاہ کیا۔ چترال یونیورسٹی میں تقریباً پانچ سو کے قریب طالب علموں نے لیکچر میں شریک ہوئے۔

یونیورسٹی کے اساتذہ کرام اور طلبہ سے اپنے خطاب میں معزز مہمان نے طلبہ کو آگے بڑھنے ،مسلسل محنت، ٹرانسفر آف اسکلز،Promotion of Entrepreneurship،Skill Based Knowledge اور دوسرے موضوعات پر لیکچر دیا۔۔اسی دن MS چترال کے ممبرز کے ساتھ میٹنگ اور پھر الخدمت آغوش سنٹر میں Orphan بچوں کے ساتھ بھی ٹائم گزارا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔

دوسرے دن علی الصبح اسمبلی پروگرام Diamond Model Public School Bakerabad میں ترتیب دیا گیا تھا جس میں دو سو کے قریب طالب علم موجود تھے، پھر دوسرا GHSS Ayon جس میں چار سو سے زائد طالب علم۔شریک ہوئےاور پھر GHSS Bumburet جس میں تقریباً ساڑھے تین سو کے لگ بھگ طالب علم۔موجود تھے میں پروگرامات منعقد ہوئے۔۔ان تمام تعلیمی اداروں میں ذیشان افضل صاحب نے طلبہ کو مسلسل آگے بڑھنے اور اپنے اساتذہ کرام اور ماں باپ کی عزت و تکریم اور گھر والوں اور بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک پر زور دیا اور ان تمام تعلیمی اداروں میں اساتذہ کرام اور طلبہ کا خلوص محبت اور تعلیم سے لگاءو کو دیکھ کے ذیشان افضل صاحب نے چترال میں Million Smiles School کے قیام کا اعلان کیا۔۔

تیسرے دن کا پروگرام علی الصبح چترال پبلک سکول میں منعقد ہوا جس میں تقریباً آڑھائی سو کے قریب طالب علم۔موجود تھے، اس کے بعد گورنمنٹ کالج آف منیجمنٹ سائنسز چترال جس میں تقریباً پانچ سو کے لگ بھگ طالب علم۔موجود تھے اور پھر گورنمنٹ سینیٹینیل ہائی سکول اور شہید اسامہ وڑائچ کیرئیر اکیڈمی کا پروگرام گورنمنٹ سینیٹینیل ہائی سکول کے ہال میں منعقد ہوا جس میں تقریباً دو سو کے قریب طلبہ و طالبات نے شرکت کی اور اسی دن پھر دنیا نیوز کے معروف صحافی محمد رحیم بیگ لال کے گھر پر پر تکلف دعوت کا ذکر نہ۔کریں تو زیادتی ہو گی چونکہ رحیم بیگ کی ہونہار بیٹی صباحت کریم چترال میں Million Smiled Females کع۔لیڈ بھی کر رہی ہیں۔رحیم بیگ صاحب کے خلوص اور محبت اور معزز مہمانان سے پیش آنے پر ذیشان افضل صاحب نے اپنی بیگم کے ساتھ چترال آنے کا وعدہ بھی کیا جو پورے پاکستان مین ان کے شانہ۔بشانہ ان کی سرگرمیوں میں ان کا ساتھ بھی دے رہی ہیں اور پاکستان بھر کے خواتین کی نمائندگی بھی کر رہی ہیں۔۔

چوتھے اور آخری دن پہلا پروگرام Government Degree College for Girls چترال میں منعقد ہوا جس میں پانچ سو سے زیادہ طالبات موجود تھیں اور کالج ہذا کے پرنسپل نے جس خوبصورت پروگرام ترتیب دی دی اور طلبہ کی جو حاضری تھی اس سے مہمان بہت جذباتی ہو گئے ہال طلبہ سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا چونکہ ذیشان افضل صاحب ملک میں مشہور ہیں اور لوگ سوشل میڈیا میں مسلسل ان کو فالو کر رہے ہیں اور آخر میں پرنسپل نے مہمان کا۔شکریہ بھی ادا کیا اور خاص بات یہ تھی کہ محترمہ پرنسپل صاحبہ نے خود بھی Milliom Smiles کا ممبر بن کے ان کے مقصد کو آگے بڑھانے کا اعلان بھی کیا،اس کے بعد الخدمت فاءونڈیشن سکول جس میں تقریباً آڑھائی سو کے قریب طلبہ موجود تھے اور پھر AKHSS میں بھی شیڈول پروگرام منعقد ہوا جس میں تقریباً سو کے قریب طالب علم موجود تھے۔اس پورے دورے میں اگر ایسی شخصیت کا ذکر نہ کریں تو یہ ان کے ساتھ ظلم ہو گا میرا مقصد شاعر ادیب سوشل ایکٹوسٹ عنایت اللّٰہ اسیر صاحب ہیں جو پورے دورے میں معزز مہمان کے شانہ۔بشانہ ان کا ساتھ دیتے رہے اور اس مشن کو آگے بڑھانے میں ان کے ساتھ دینے کا بھی اعادہ کیا۔

اور پھر وہ وقت بھی آیا جب ہم اپنے معزز مہمانان کر اشکبار آنکھوں کے ساتھ رخصت کیا اور دوبارہ جلد چترال کا دورہ کرنے اور یہاں پہ MS کے سکولز کی بنیاد رکھنے اور مزید ایکٹیویٹیز کا دائرہ کار بڑھانے کی استدعا کرکے اپنے مہمان کو رخصت کیا۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button