خبریںخواتین کا صفحہسیاستگلگت بلتستان

پیپلز پارٹی کی بدولت کوئی گونر ، کوئی وزیر اعلیٰ ، کوئی وزیر بنے ہوئے ہیں وگرنہ کوئی ڈپٹی کمشنر بھی منتخب نمائندوں کو وقت نہیں دیتے تھے۔ سعدیہ دانش

گلگت (نمائندہ چمرکھن )ممبر گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی سیکریٹری اطلاعات پاکستان پیپلزپارٹی سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ یہ پیپلزپارٹی ہی کی کارکردگی ہے کہ کوئی گورنر بناہوا ہے کوئی وزیراعلیٰ تو کوئی وزیراطلاعات ورنہ ڈپٹی کمشنر بھی منتخب نمائندوں کو ملاقات کےلیے وقت نہیں دیتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کا بچہ بچہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کا بدترین دشمن بھی گلگت بلتستان کے عوام کےلیے پیپلزپارٹی کی خدمات کا اور اصلاحات کا اعتراف کرتا ہے۔ یہ پیپلزپارٹی ہی ہے جس نے گلگت بلتستان سے راجگی نظام کو ختم کرکے عام عوام کے ہاتھ میں اپنی تقدیر کے فیصلے کرنے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ اور عوام کو جینے کا حق دیا مگر حکمران جماعت واپس اس آمرانہ نظام کو گلگت بلتستان کے عوام پر مسلط کرنے کےلیے سرگرداں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ این سی پی اور دھاندلی زدہ وزیراطلاعات صوبائی حکومت کی نو ماہ کی بدترین کارکردگی اور غیر سنجیدہ حکمرانی پر پردہ ڈالنے کےلیے اپوزیشن لیڈر پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔

کارکردگی دکھانے کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔ اور یہاں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بیانات سے ثابت ہو رہا ہے کہ انہیں ابھی تک اس بات کا یقین ہی نہیں کی یہ سیلیکٹڈ کا ٹولہ حکومت کا حصہ ہیں۔ پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں گلگت بلتستان کو نلتر اور سدپارہ جیسے بجلی کے عظیم منصوبے دئیے انتظامی یونٹس بنائےاور بے روزگار جوانوں کےلیےملازمت کے بے شمار مواقع پیدا کئے۔ 1970 سے لے کر 2009 تک شہید ذوالفقار علی بھٹو سے لےکر شہید محترمہ بےنظیر بھٹو اور صدر آصف زرداری تک پیپلزپارٹی نے ہر دور اور ہر قائد کے زیرسایہ گلگت بلتستان کی آئینی، انتظامی، عدالتی، معاشی، تعلیمی اور تعمیر و ترقی کےلیے جو کام کیا اس کے متعلق حکمران موسمی جماعت سوچ بھی نہیں سکتی۔ کیونکہ بڑے بڑے فیصلے کرنے کے لیئے عوام کا اعتماد اور سیاسی شعور اور عوامی مینڈیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو الیکٹیڈ نمائندوں کے پاس ہوتا ہے جو خود سیلیکٹ ہوے ہیں انہیں عوام سے کیا غرض ہوگی۔

پیپلزپارٹی الیکشن میں اپنے منشور اور ان خدمات کو ہی لےکر عوام کے سامنے جاتی ہے جبکہ ہمارے مدمقابل ہر جماعت نے ہر دور میں سیاسی لوٹوں اور اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں کو استعمال کرکے اقتدار حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں محض پیپلز پارٹی نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد چاہے وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ہوں یا میڈیا کے یا عام عوام سب کی موجودہ صوبائی حکومت کے حوالے سے ایک ہی رائے ہے کہ حکمران نااہل ، غیر سنجیدہ اور سیاسی یتیم ہیں اور پیپلز پارٹی کے علاوہ وفاق میں آنے والی ہر جماعت ان سیاسی یتیموں کی وارث ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج گلگت بلتستان میں جس شعبے کی طرف اشارہ کیا جائے وہاں مسائل اور بدانتظامی نظر آرہی ہے۔ داریل سے لے کر گانچھے تک صحت کی سہولیات کا فقدان ہے لوگ حکومت کی بے حسی اور نااہلی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ اور وزراء میڈیا میں تشہیر کے لیے صرف بیانات تو داغتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد صفر ہوتا ہے جس کی وجہ سے عوام آیے روز احتجاج پر مجبور ہورہے۔

مضر صحت گندم اشیاء خورد و نوش فروخت ہورہے ہیں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے غریب تو دور کی بات سفید پوش طبقے کی روز مرہ زندگی مشکل ہو گئی ہے اور پینے کا پانی پاکستان کی سطح پر آلودہ ترین اور ٹائیفائیڈ زدہ ہے جہاں پر پانی کی ٹینکیوں سے کہیں مردہ بلیاں اور کہیں مینڈک برآمد ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے بیماریوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ اور وزراء کونسل انتخابات میں ایک دوسرے کے خلاف گروہ بندیوں میں مصروف ہیں۔ اور اگر ان کی نااہلی اور ان کے غیر سنجیدہ طرز حکومت پر بات کریں اس کی نشاندہی کریں تو جواب میں اپنی گورننس بہتر بنانے کی بجاے گالم گلوج بریگیڈ کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنا شروع کر دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button